6 مارچ سے 16 مارچ کے دوران اٹھارہ عسکری کارروائیوں میں قابض فوج کے 55 اہلکار ہلاک کئے– بلوچ لبریشن آرمی

79

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو فراہم کردہ تفصیلات میں بتایا ہے کہ سرمچاروں نے 6 مارچ سے 16 مارچ 2026 کے دورانیئے میں خضدار، سوراب، شاہرک، تربت، کرخ، پسنی، کوئٹہ، پنجگور، خاران، گوادر اور دکی میں اٹھارہ مختلف اور مربوط عسکری کارروائیاں سرانجام دیں۔ 

ترجمان نے کہا ہے ان کارروائیوں میں قابض پاکستانی فوج، خفیہ اداروں کے آلہ کاروں، کوسٹ گارڈز اور دشمن کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ سی پیک روٹ پر مؤثر تزویراتی کنٹرول حاصل کیا گیا، ان حملوں میں مجموعی طور پر قابض فوج وخفیہ اداروں کے 55 اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

بی ایل اے ترجمان کے مطابق 6 مارچ کو خضدار کے علاقے کھٹان میں قابض پاکستانی فوج کی چوکی پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے گئے، جس سے دشمن کو جانی ومالی نقصان پہنچا۔

اگلے روز 7 مارچ سوراب کے مقام پر بلوچ سرمچاروں نے کمشنر مکران کی بکتر بند گاڑی، گن مین اور ڈرائیور کو اس وقت اپنی تحویل میں لیا جب وہ کوئٹہ سے تربت جارہے تھے، مذکورہ گاڑی سے شراب کی متعدد بوتلیں اور منشیات برآمد ہوئیں، جو قابض افسرشاہی کے اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت ہیں، زیرِ حراست افراد سے تنظیمی قوانین کے مطابق تفتیش جاری ہے۔

اسی روز 7 مارچ کو کیچ کے علاقے شاہرک میں پوگنش کے مقام پر قابض فوج کی چوکی کو حملے میں نشانہ بنا کر دشمن کو جانی نقصان پہنچایا گیا، جبکہ وہاں نصب تمام جدید سرویلنس کیمرے تباہ کر دیئے گئے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ 9 مارچ تا 14 مارچ “آپریشن کرخ” بی ایل اے کے سرمچاروں نے خضدار کے علاقے کرخ میں سی پیک روٹ (ایم 8) پر ناکہ بندی کرکے اسٹریٹجک چیک پوائنٹس قائم کیئے یہ کنٹرول مسلسل چھ روز تک برقرار رہا۔ 

بی ایل اے ترجمان کے مطابق اس دوران اسنیپ چیکنگ کے وقت قابض پاکستان کے خفیہ ادارے “آئی ایس آئی” کے تین اہلکاروں نے فرار ہونے کی کوشش کی، جن میں سے دو اہلکار فائرنگ کے نتیجے میں موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ ایک کو گرفتار کرلیا گیا ہلاک و گرفتار اہلکاروں کا تعلق پنجاب سے ہے۔

آپریشن کے تیسرے روز پیش قدمی کی کوشش کرنے والے قابض فوج کے پیدل دستوں کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا گیا، چوتھے روز قابض فوج نے بڑی نفری کے ساتھ پیش قدمی کی کوشش کی، جسے سرمچاروں نے مختلف مقامات پر گھات لگا کر ناکام بنا دیا۔ 

ترجمان نے کہا دو روز تک جاری رہنے والی ان شدید جھڑپوں میں قابض فوج کے 17 سے زائد اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ دشمن کی تین گاڑیاں اور دو کواڈ کاپٹر بھی تباہ کیئے گئے۔

اسی روز 9 مارچ سوراب میں “تاریکی” کے مقام پر قابض فوج کی پیش قدمی کو سرمچاروں نے بھرپور حملے میں ناکام بناکر دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔

9 مارچ کو ہی تربت کے علاقے تجابان میں بی ایل اے سرمچاروں نے قابض فوج کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

جیئند بلوچ نے کہا ہے 10 مارچ کو پسنی شہر میں قابض پاکستانی خفیہ ادارے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے کارندوں کے ٹھکانے کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا گیا اور 13 مارچ کو کوئٹہ سے متصل ڈغاری کے علاقے پینگو میں قابض فوج، سی ٹی ڈی اور نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے مشترکہ قافلے کو اس وقت گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا جب وہ آپریشن کی غرض سے پیش قدمی کررہے تھے۔ 

بی ایل اے کے مطابق حملے میں دو کارندے ہلاک اور ایک فوجی گاڑی مکمل طور پر خاکستر ہوگئی۔

ترجمان جیئند بلوچ نے بتایا ہے کہ 14 مارچ قابض فوج نے اسی علاقے میں دوبارہ پیش قدمی کی کوشش کی، جسے سرمچاروں نے آئی ای ڈی حملے کے ذریعے جانی و مالی نقصان پہنچا کر پسپا کردیا۔

ترجمان کے مطابق 14 مارچ پنجگور کے علاقے پروم میں رات کے وقت قابض فوج کے قافلے پر نائٹ وژن اور جدید اسلحہ سے لیس بی ایل اے کے دستوں نے حملہ کیا، اس حملے میں دشمن کی تین گاڑیاں زد میں آئیں، پانچ اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ایک گاڑی ناکارہ ہوگئی، بعد ازاں معائنے کیلئے آنے والے قابض کمانڈ کے ایک اہلکار کو بی ایل اے سنائپر نے نشانہ بنا کر موقع پر ہلاک کردیا۔

ترجمان نے مزید کہا 14 مارچ خاران کے علاقے گروک میں قابض فوج کے قافلے کو راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں سے گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا، حملے کی زد میں دشمن کی چھ گاڑیاں آئیں، جس کے نتیجے میں 14 اہلکار ہلاک اور 10 سے زائد زخمی ہوئے۔ 

اس سے ایک روز قبل سرمچاروں نے اسی مقام پر دشمن کے لیئے راشن لے جانے والے ٹرک کو تحویل میں لیا تھا، جسے بعد ازاں نذرِ آتش کر دیا گیا جبکہ ڈرائیوروں کو تنظیمی پالیسی کی بنیاد پر رہا کردیا گیا۔

ترجمان کے مطابق ان کاروائیوں میں 15 مارچ کو تربت ایئرپورٹ پر قائم قابض فوج کے اڈے اور جیٹ فیول اسٹیشن کو گرنیڈ لانچروں سے نشانہ بنایا گیا، جس سے تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا۔

اسی روز 15 مارچ کو گوادر (جیونی) کے علاقے پانوان میں بی ایل اے کے شہری گوریلا یونٹ نے ایک انتہائی منظم اور مربوط کارروائی کی سرمچاروں نے منظم منصوبہ بندی کے تحت خود کو کیموفلاج کرکے کوسٹ گارڈز کی چوکی پر رسائی حاصل کی اور دشمن پر اچانک حملہ کر کے وہاں تعینات تینوں اہلکاروں نائیک سلیم، سپاہی عدنان راؤ اور سپاہی عظیم کو ہلاک کرکے ان کا تمام اسلحہ وگولہ بارود اپنی تحویل میں لے لیا۔

بی ایل اے ترجمان نے کہا ہے کہ 16 مارچ دکی کے علاقے بختیار لونی میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے قافلے میں شامل گاڑی کو اس وقت ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جب وہ علاقے میں جارحیت کی غرض سے پیش قدمی کررہے تھے، دھماکے میں قابض فوج کے دس اہلکار ہلاک جبکہ ان کی گاڑی مکمل تباہ ہوگئی۔

جیئند بلوچ نے آخر میں کہا بلوچ لبریشن آرمی کے ان منظم حملوں کا مقصد بلوچستان سے پاکستان کے غاصبانہ تسلط کی جڑوں کو اکھاڑ پھینکنا ہے، دشمن یہ حقیقت نوشتہ دیوار سمجھ لے کہ اس کے قلعے، اس کے نام نہاد ترقیاتی ڈھونگ اور اس کے تنخواہ دار کارندے اب بلوچ سرمچاروں کی دسترس سے دور نہیں۔ 

انہوں نے کہا بی ایل اے اپنے قومی بقا کے اس جنگ میں کسی بھی حد تک جانے کا پختہ ارادہ رکھتی ہے، اور جب تک قابض کا آخری نشان اس بلوچ سرزمین سے مٹ نہیں جاتا، ہماری بندوقیں خاموش ہوں گی نہ ہی ہماری تزویراتی ضربوں میں کوئی کمی آئے گی، یہ جنگ اب اپنے منطقی انجام کی جانب گامزن ہے، اور وہ انجام صرف اور صرف آزاد بلوچستان ہے۔