قربان اے نوشکل – سنگت سید

1

قربان اے نوشکل

تحریر: سنگت سید

دی بلوچستان پوسٹ

میں کیا لکھوں اور لکھنے کے بعد قلم اور خود کو فنا و ختم کر دوں اس سرزمین پر وہ سرزمین نوشکل ہے۔ میں کیا لکھوں کیا بیان کروں اس شہر نوشکل کے نام الفاظ دم توڑ رہے ہیں۔ میں کیا بتاؤں کیا یاد دلاؤں اپنی قوم کے لوگوں کو کیا بتاؤں نوشکل کے لوگوں کی قربانی۔ ان ماں، بہن، کماش و بھائیوں کی قربانی کو یاد کرو تو تم لوگ رو پڑو گے۔

اے اے ماں تجھ پر قربان ہو جاؤں تو جنگ کے دوران گولیوں کے بیچ میں آپ نے مرہم پٹی اور پانی دیا اپنے وطن کے بیٹوں کو ہاتھ کو چوما اور سر پر ہاتھ رکھ کر اپنے رب سے دعا کی اور کہا اے اللہ آج ہمیں آزاد کرنا ہمیں ان ناپاک دشمن سے۔ اے ماں قربان ہو جاؤں تمہارے لیے۔ اے ماں تجھ کو دیکھ کر مجھے اپنی وہ ماں یاد آئی آنکھوں میں آنسو آئے آپ نے ایک اسی ماں کی طرح حوصلہ دیا۔

اسی دن نوشکل میں سمجھو جنگ نہ تھی بلکہ آزادی کی رات تھی جیسے کوئی بھائی اور بہن اپنے بھائی کی شادی پر خوش ہوتا ہے اور رقص کرتا ہے نوشکل اسی طرح خوشی سے رقص کر رہا تھا۔ اے نوشکل اے نوشکل میں تمہارے لوگوں کے پاؤں کے خاک پر خود کو قربان کروں اور میرا قبر وہی نوشکل کی سرزمین پر ہو سمجھو میں خوش نصیب ہوں۔

میں کیا بیان کروں اپنی بہن کی خدمت جیسے کوئی بھائی گھر سے گیا ہو اور کبھی نہ آئے اور وہ انتظار کرے اسی دن اسی طرح ہماری بہنیں دیکھ کر ہماری خدمت کر رہی تھیں۔ ہمیں اپنے ہاتھوں سے روٹی دے رہی تھیں جیسے کوئی بہن اپنے بھائی کو روٹی دیتی ہے جیسا وہ بھائی بول کر جاتا ہے میں کبھی نہ آؤں گا اور اچانک کہیں سال بعد وہ گھر میں آتا ہے۔ اے میرے بہنو اے نوشکلی بہنو میں خود کو فنا کروں تمہارے جنگ میں ان خدمت کو دیکھ۔ اتنا بہادر کہ گولیوں کی گونج اور دھماکوں کی آواز میں آپ لوگوں میں کوئی خوف نہ تھا قربان قربان اے نوشکل۔

میں اپنے نوشکل کے ورنہ لوگوں کی دلیری و بہادری کو بیان کروں تو میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں دل لرز رہا ہے کوئی اتنا بھی دلیر ہوتا ہے اپنی جان کا کوئی پرواہ نہ تھی اپنے بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر ساتھ دے رہے تھے۔

اے نوشکل تم ان پانچ دریا کے لوگوں کو شکست دے گئے یہ تمہارا مستقبل روشن کرے گا جن کی آنکھیں سرخ اور آزادی کے خواب ان آنکھوں میں ہیں تمہاری بس کی بات نہیں یہ وہ طوفان ہے جو پہاڑ کو چیر کر آیا ہے اس کو کوئی شکست نہیں دے سکتا۔

اے نوشکل میں کیا ذکر کروں اپنے کماش بزرگ لوگوں کا جو آزادی کے نعرے لگا کر حوصلہ دے رہے تھے۔ مسجد میں سجدہ ریز تھے ہمارے لیے اور خدا سے ہم کلام تھے۔ ہمارے کمر پر ہاتھ رکھ کر دعا دے رہے تھے کامیابی و آزادی کے لیے اور سلامتی کی دعا تھی۔
اے میرے نوشکلی پیر و کماش و بزرگ تمہاری ان نصیحتوں کو کیسے بھول سکتا ہوں۔

اگر کسی کو وفا، وفاداری، ہمت و حوصلہ، قربانی دیکھنی چاہیے تو وہ نوشکل کی سرزمین پر جائے اور وہاں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔