کراچی: بھائی کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج کرنے والی فوزیہ بلوچ والدہ سمیت حراست میں

36

بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی آرگنائزر فوزیہ بلوچ کو کراچی پولیس نے اہلِ خانہ سمیت گرفتار کر لیا۔ وہ اپنے جبری طور پر لاپتہ بھائی داد شاہ بلوچ کی بازیابی کے لیے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کر رہی تھیں۔

ہفتے کے روز وہ پریس کلب کے باہر اپنے بھائی کی جبری گمشدگی کے خلاف آواز بلند کرنے پہنچیں تو کراچی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے فوزیہ بلوچ اور ان کے اہلِ خانہ سمیت مجموعی طور پر سات افراد کو حراست میں لے لیا۔

ذرائع کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کیے جانے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جبکہ اہلِ خانہ اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

داد شاہ بلوچ، جو فوزیہ بلوچ کے بھائی ہیں، کو 21 اپریل 2026 کو ان کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا، اور تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی حکام فوری طور پر فوزیہ بلوچ اور ان کے بھائی کو رہا کریں۔ بی وائی سی نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پاکستانی حکام کا احتساب کریں۔