اٹھارہ کارروائیوں میں قابض فوج کے 31 اہلکار ہلاک، شاہراہوں پر مکمل کنٹرول۔ بلوچ لبریشن آرمی

37

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل اے سرمچاروں نے 4 مئی سے 14 مئی کے دوران بلوچستان بھر میں دشمن کے خلاف اٹھارہ کامیاب کارروائیاں کیں، جن میں قابض پاکستانی فوج کے ایک میجر رینک کے افسر سمیت 31 اہلکار ہلاک اور متعدد شدید زخمی ہوگئے۔ ان حملوں میں سات پُراثر آئی ای ڈی حملے شامل ہیں، جبکہ سرمچاروں نے مختلف مقامات پر مرکزی شاہراہوں پر گھنٹوں تک کنٹرول حاصل کرکے استحصالی کمپنیوں کی گاڑیوں اور قابض فوج کو نشانہ بنایا اور کمپنیوں سے منسلک افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ان مربوط کارروائیوں میں قابض فوج کے تشکیل کردہ نام نہاد “ڈیتھ اسکواڈ” اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے سات اہلکاروں و کارندوں کو بھی ہلاک کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ قابض فوج کے ساتھ مختلف مقامات پر ہونے والی شدید جھڑپوں میں بی ایل اے کے پانچ سرمچار سنگت علی جان عرف سدیس، سنگت احسان اللہ عرف ماسٹر ماران، سنگت نصراللہ عرف ماما زگرین، سنگت تنویر عرف مراد خان اور سنگت سعد اللہ عرف واجد دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔

4 مئی: زامران میں جونکی کے مقام پر سرمچاروں نے پاکستانی فوج کے لیئے راشن لے جانے والی ایک گاڑی کو بم دھماکے میں نشانہ بنا کر ناکارہ کردیا، جس کے بعد پوزیشن سنبھالے سرمچاروں نے مذکورہ مقام پر پہنچ کر گاڑی کو نذرِ آتش کردیا۔ اسی روز خاران کے علاقے راسکوہ میں ایری کلگ کے مقام پر قابض فوج کے مقامی آلہ کاروں نے بزدلانہ حملہ کرکے بی ایل اے کے سنگت علی جان سیاپاد عرف سدیس کو شہید کردیا۔

5 مئی: نوشکی کے علاقے کیشنگی میں سرمچاروں نے ریاستی فورس ‘لیویز’ کی ایک چوکی کو دھماکہ خیز مواد نصب کرکے مکمل طور پر تباہ کردیا۔

7 مئی: مستونگ کے علاقے اسپلنجی میں سرمچاروں نے قابض فوج کے کیمپ پر تعینات ایک اہلکار کو سنائپر حملے میں ہلاک کردیا۔
اسی دن اورناچ کے مقام پر آر سی ڈی شاہراہ پر سرمچاروں نے قابض فوج کی ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنا کر شدید جانی ومالی نقصان سے دوچار کیا۔

8 مئی: مستونگ کے علاقے مَرو میں سرمچاروں نے قابض فوج کے ایک قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دشمن فوج کے تین اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

10 مئی: قلات کے علاقے چپر میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو آئی ای ڈی حملے کا نشانہ بنا کر جانی ومالی نقصان پہنچایا۔ بعد ازاں، مذکورہ علاقے میں قابض فوج کے ساتھ ہونے والی شدید جھڑپوں میں بی ایل اے کے دو سرمچار سنگت احسان اللہ عرف ماسٹر ماران اور سنگت نصراللہ عرف ماما زگرین بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔
اسی روز دالبندین میں سیاہ چنگ کے مقام پر سرمچاروں نے “ڈیتھ اسکواڈ” کے کارندوں کو مسلح حملے میں نشانہ بنایا، جہاں ہلاک ہونے والے دو کارندوں کی لاشیں بعد میں قابض فوج نے مذکورہ مقام سے منتقل کیں۔

11 مئی: کیچ کے علاقے بلنگور میں سرمچاروں نے قابض فوج کے کیمپ پر تعینات اہلکاروں کو حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوگیا۔

12 مئی: زامران کے علاقے گورکادان میں سرمچاروں نے قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو اس وقت ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جب وہ اپنے لیئے راشن لے جا رہے تھے۔ دھماکے میں ایک اہلکار موقع پر ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔
اسی روز گوادر کی فقیر کالونی میں سرمچاروں نے پولیس اہلکاروں کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہوگئے۔

13 مئی: پنجگور میں سی پیک روٹ پر سرمچاروں نے مسلح کارروائی کرتے ہوئے “ڈیتھ اسکواڈ” کے دو سرگرم کارندوں شہاب ولد نذیر اور نبیل ولد جمیل کو ہلاک کردیا۔
اسی دن مستونگ میں شیخ واصل کے مقام پر سرمچاروں نے بلوچ وسائل کی لوٹ مار میں مصروف معدنیات لے جانے والی بیس بڑی گاڑیوں کے قافلے اور ان کو سیکیورٹی فراہم کرنے والی قابض فوج کو کوئٹہ–تفتان مرکزی شاہراہ پر ایک بڑے حملے میں نشانہ بنایا۔ اس شدید حملے میں معدنیات لے جانے والی آٹھ گاڑیاں ناکارہ ہوگئیں جبکہ قابض فوج کے چھ اہلکار ہلاک ہوئے۔
چمالنگ کے علاقے میں سرمچاروں نے بی ایل اے کے انٹیلی جنس ونگ ‘زراب’ کی فراہم کردہ درست خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے قابض پاکستانی فوج کے میجر توصیف بھٹی سمیت آٹھ اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔ بالا ڈاکہ کے مقام پر ہونے والی اس کارروائی میں پہلے ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول دھماکے سے اڑایا گیا، جس کے بعد دوسری گاڑی پر شدید مسلح حملہ کیا گیا، جس میں میجر توصیف بھٹی سمیت دشمن فوج کے 8 اہلکار ہلاک ہوئے۔
اسی تاریخ کو دالبندین میں لاگ آپ اور خزانگی کے درمیان کوئٹہ–تفتان مرکزی شاہراہ پر سرمچاروں نے دو گھنٹے سے زائد وقت تک ناکہ بندی کی۔ اس دوران سرمچاروں نے ‘سیاہ دک’ استحصالی پروجیکٹ سے منسلک تین مشکوک افراد کو حراست میں لیا جبکہ ‘ریکوڈک’ استحصالی پروجیکٹ کی ایک گاڑی کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
اسی روز نوشکی میں سر مَل اور جورکین کے مقامات پر سرمچاروں نے کوئٹہ–تفتان مرکزی شاہراہ پر گھنٹوں تک ناکہ بندی کر کے اسنیپ اسکریننگ جاری رکھی۔ سرمَل کے مقام پر پیش قدمی کی کوشش کرنے والی قابض فوج کی گاڑیوں کو سرمچاروں نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کے تین اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ ان کی ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

14 مئی: بی ایل اے کے سرمچاروں نے ایک مربوط اور کامیاب حملے میں مستونگ کے علاقے درینگڑھ کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔ سرمچاروں نے مقامی پولیس تھانے اور دیگر سرکاری عمارتوں پر کنٹرول حاصل کرکے وہاں موجود اسلحہ وگولہ بارود کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
اسی روز مستونگ کے علاقے کردگاپ میں سرمچاروں نے کوئٹہ–تفتان مرکزی شاہراہ پر کنٹرول حاصل کرکے گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ جاری رکھی۔

ترجمان نے کہا کہ سرمچاروں نے 25 اپریل کو مستونگ کے علاقے دشت سے پاکستانی خفیہ ادارے ایم آئی (ملٹری انٹیلی جنس) کے تین اہلکاروں ماجد بادینی، علی احمد اور سنیل اقبال کو اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ بھیس بدل کر علاقے میں مشکوک نقل وحرکت کر رہے تھے۔ گرفتاری کے وقت ان اہلکاروں سے ٹریسنگ ڈیوائسز برآمد ہوئیں۔

دورانِ تفتیش گرفتار اہلکار ماجد بادینی نے انکشاف کیا کہ وہ قابض فوج کے لیئے گزشتہ طویل عرصے سے بطور آلہ کار کام کر رہا ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ مسلح ڈیتھ اسکواڈ کے جتھے کی سرپرستی سمیت قابض فوج کے لیئے مختلف فوجی آپریشنز میں سہولت کاری کرتا رہا ہے۔

دوسرے گرفتار آلہ کار علی احمد ولد نور احمد نے اعترافِ جرم کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گزشتہ تین سالوں سے مولو نامی نیٹ ورک کے ساتھ قابض فوج کے لیے بطور آلہ کار کام کر رہا تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ دکاندار کے بھیس میں علاقے میں سرمچاروں کی نقل وحرکت پر نظر رکھنے سمیت فوجی جارحیت میں قابض فوج کی سہولت کاری میں براہِ راست ملوث رہا ہے۔

علی احمد نے مزید اعتراف کیا کہ وہ کرنل عبید کے بعد اب کرنل احسان کی براہِ راست سرپرستی میں کام کررہا تھا۔ اس نے اعتراف کیا کہ اسے ایک خفیہ ٹریکنگ چِپ سرمچاروں تک پہنچانے کا ٹاسک دیا گیا تھا، جبکہ قابض فوج کی سہولت کاری کے لیئے اس نے اپنے ساتھ دیگر چار مقامی افراد کو بھی شامل کیا تھا۔ وہ علاقے میں بلوچوں کے گھروں پر چھاپوں اور نوجوانوں کو قابض فوج کے ہاتھوں جبری لاپتہ کروانے میں ملوث رہا ہے۔
علی احمد نے اعتراف کیا کہ قابض فوج اسے ان قومی جرائم کے عوض پیسے دیتی رہی ہے جبکہ انہیں علاقے میں چوری چکاری کی بھی کھلی چوٹ دی گئی تھی۔ آلہ کار نے دورانِ تفتیش اپنے دیگر ساتھیوں اور قابض فوج کے کئی آلہ کاروں کے نام بھی افشاں کیئے۔ بلوچ قومی عدالت کی جانب سے ان سنگین قومی جرائم کے مرتکب ہونے پر علی احمد کو سزائے موت سنائی گئی، جس پر عمل درآمد کرکے اسے منطقی انجام تک پہنچا دیا گیا۔

15 اپریل کو زہری کے علاقے سوہندہ میں قابض فوج کے ساتھ ہونے والی ایک اور شدید جھڑپ میں بی ایل اے کے مزید دو جانباز سرمچار تنویر مینگل عرف مراد خان اور سنگت سعد اللہ عرف واجد دشمن کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی ان تمام سرمچاروں کی عظیم قربانیوں کو قومی افتخار کے ساتھ یاد کرتی ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بلوچ قومی تحریک کے تسلسل کو برقرار رکھا۔ سنگت علی جان عرف سدیس، سنگت احسان اللہ عرف ماسٹر ماران، سنگت نصراللہ عرف ماما زگرین، سنگت تنویر عرف مراد خان اور سنگت سعد اللہ عرف واجد نے اپنے لہو سے آزادی کے جس چراغ کو روشن کیا، وہ بلوچ قوم کی آنے والی نسلوں کے لیئے مشعلِ راہ ہے۔ ان شہداء کا بہتا لہو اس حقیقت کا گواہ ہے کہ جب تک بلوچ سرزمین کا ایک بھی فرزند زندہ ہے، غاصب ریاست اور اس کے استحصالی منصوبوں کو کبھی دوام حاصل نہیں ہوسکے گا۔