بابا، ہمارا درویش صفت سرمچار – مامو اسفند بلوچ

8

بابا، ہمارا درویش صفت سرمچار

تحریر: مامو اسفند بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بابا میرے لیے ایک استاد کی مانند تھا۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو اُس وقت یہ سمجھ نہیں پایا تھا کہ آنے والے وقت میں بابا میرے اس طرح کے سنگت اور دوست بن جائیں گے اور ہم اتنا عرصہ ایک ساتھ گزاریں گے۔ بابا کو میں نے پہلی مرتبہ کیمپ میں دیکھا، جب میں بھی نیا نیا بی ایل اے جوائن کر چکا تھا اور ٹریننگ کے لیے ہمیں وتاک بھیج دیا گیا تھا۔ اُس وقت بابا بھی نئے نئے تنظیم میں آئے تھے اور انہیں بھی ٹریننگ کے لیے ہمارے وتاک میں بھیجا گیا تھا۔ ہم دونوں نے ایک ساتھ فوجی ٹریننگ لی اور اس دوران میں نے اُن سے بہت کچھ سیکھا۔ وہ نرم مزاج مگر صاف دل سنگت تھے۔ جو بھی باتیں اُن کے دل میں ہوتیں، وہ ہمارے ساتھ شیئر کرتے تھے۔ ٹریننگ کے دوران انہوں نے بہت زیادہ محنت کی۔ انہوں نے تنظیم کی طرف سے دی گئی اپنی تمام ذمہ داریوں کو ہمیشہ مخلصانہ انداز میں پورا کیا۔

وہ کسی جذباتی کیفیت یا کسی واقعے سے متاثر ہوکر جنگ کا حصہ نہیں بنے تھے بلکہ فکری طور پر تحریک سے وابستگی رکھتے تھے۔ وہ بلوچستان کو آزاد دیکھنا چاہتے تھے اور اپنے لوگوں کو ایک آزاد ریاست میں خوشحال دیکھنے کے خواہش مند تھے۔ انہیں اپنی قوم اور اپنے لوگوں کا بہت زیادہ غم رہتا تھا اور انہی جذبات اور درد کے ساتھ انہوں نے جنگ میں حصہ لیا تھا۔ وہ کیمپ کے اندر ہمارے درمیان ہمیشہ اپنی قوم اور لوگوں کی تکلیفوں اور مشکلات کا ذکر کرتے تھے۔ انہیں اپنے سنگتوں سے ایک خاص اور گہرا تعلق تھا۔ جب بھی کوئی سنگت یا ساتھی شہید ہو جاتا، وہ ہمیشہ اُس کے خیال میں رہتے، اُس کی قربانیوں کو یاد کرتے اور ساتھیوں کے سامنے اُس کا ذکر کرتے تھے۔ وہ احساس سے بھرپور ایک سنگت تھے۔ انہیں اپنے تمام سنگتوں کا ہمیشہ خیال رہتا تھا۔ یہی فکر انہیں مزید جنگ لڑنے اور دشمن کے خلاف زیادہ ہمت و بہادری سے مقابلہ کرنے کا جذبہ عطا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ وہ ایک مخلص، درویش صفت اور بہترین رویے کے مالک سنگت تھے۔ وہ کیمپ کے اندر ہمیشہ درویشانہ رویہ اختیار کرتے تھے اور ساتھیوں کے درمیان بھی اُن کا جذبہ اور سوچ اسی طرح رہتی تھی۔ وہ کبھی بھی کسی چیز کا بہانہ نہیں بناتے تھے اور نہ ہی کسی ذاتی خواہش کا اظہار کرتے تھے بلکہ ہمیشہ تحریک اور تنظیم کے لیے زیادہ سے زیادہ کرنا چاہتے تھے۔

بابا کے رویے کو دیکھ کر سنگت بھی اُن سے ہمیشہ مخلص اور وفادار رہتے تھے۔ وہ ہر نئے آنے والے سنگت کے ساتھ جلد ہی گھل مل جاتے اور انہیں سنگتی جیسا ماحول فراہم کرتے تھے۔ اُن کی ایک خصوصیت، جو بہت کم ساتھیوں کو نصیب ہوتی ہے، یہ تھی کہ سنگت جلد ہی اُن سے مانوس ہو جاتے اور اُن کے ساتھ سنگتی کر لیتے تھے۔ یہ اس لیے بھی اہمیت رکھتا تھا کہ نئے آنے والے ساتھیوں کو ابتدائی دنوں میں مختلف مشکلات کا سامنا رہتا ہے کیونکہ اُس وقت وہ ایک نئی زندگی اختیار کیے ہوتے ہیں اور ایک مکمل مختلف ماحول میں خود کو ڈھالنے کے لیے انہیں وقت درکار ہوتا ہے۔ اکثر ساتھیوں کو اُس وقت ایسے انقلابی سنگتوں کی ضرورت ہوتی ہے جو انہیں سمجھیں، وقت دیں اور بنیادی خیالات کے حوالے سے آگاہی فراہم کریں۔ شہید بابا اُن ساتھیوں میں شامل تھے جو ہمیشہ ہر سنگت کے لیے تیار رہتے تھے۔ اُن کے دل میں ہر سنگت کے لیے محبت تھی اور وہ کبھی بھی ساتھیوں کے درمیان فرق نہیں کرتے تھے، اسی لیے وہ سب کو بہت پیارے تھے۔

میں جب بھی بابا کو یاد کرتا ہوں تو میرے سامنے خیالات اور یادوں کا ایک گہرا سمندر کھل جاتا ہے۔ جتنا وقت بھی میں نے بابا کے ساتھ گزارا، میں نے انہیں ایک پرسکون اور ساتھیوں سے محبت کرنے والے انسان کے روپ میں دیکھا۔ میرے پاس اُن کی یادوں کی ایک لمبی داستان موجود ہے۔ شہادت سے ایک دن پہلے میں نے انہیں وتاک میں دیکھا۔ ہم ایک ساتھ بیٹھتے، کھانا کھاتے، دیوان و مجلس کرتے اور کبھی کبھار وہ کچھ نہ کچھ گنگناتے بھی تھے۔ وہ وتاک اور ساتھیوں کے درمیان ہمیشہ ایک خوبصورت ماحول پیدا کرنے والے سنگت تھے۔ آخری بار انہوں نے اپنے ہاتھ میں پہنی ہوئی انگوٹھی مجھے دی اور کہا کہ جب بھی دل کرے یہ مجھے واپس دے دینا، اور اگر دل نہ کرے تو اسے اپنے ہاتھ میں پہن لینا۔

مجھے بابا کی شہادت کی خبر بہت اذیت ناک لگی۔ جنگ کے میدان میں ہر بچھڑتے ساتھی کی یاد انتہائی مشکل ہوتی ہے۔ جس انسان کے ساتھ تم اپنے دن رات، ہر محنت اور ہر خواری گزارتے ہو، اور ایک دن پہلے تک اُس کے ساتھ بیٹھ کر دنیا بھر کی باتیں اور پروگرام بناتے ہو، پھر اگلے دن اُس کی شہادت کی خبر ملے تو یقیناً یہ بہت دردناک ہوتا ہے۔ میں نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ بابا ہمیں اس طرح اتنی جلد چھوڑ کر چلے جائیں گے اور ہمیں تنہا کر دیں گے۔

کہا جاتا ہے کہ جنگ کے میدان میں سب سے بڑی اذیت اپنے ساتھیوں کا بچھڑ جانا ہے۔ اس درد سے آشنا ساتھی ہی سمجھ سکتے ہیں کہ میدان میں کسی بھی سنگت کا شہید ہونا کتنی اذیت ناک بات ہوتی ہے۔ بابا درویش نے اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کیں۔ وہ اسی سوچ اور مقصد کے لیے تحریک میں آئے تھے اور اسی سوچ و فکر کے ساتھ آخری سانس تک تحریک سے مخلص رہے اور تاریخ میں امر ہو گئے۔ ان شہدا کی قربانیاں یقیناً رنگ لائیں گی اور بلوچستان آزادی کی منزل تک پہنچے گا۔ بلوچ شہدا کی قربانیاں کسی بھی طرح رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہمیں اپنی اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ مخلص ہو کر جدوجہد جاری رکھنی چاہیے اور ان شہدا کے ارمانوں کو پورا کرنا چاہیے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔