بلوچ لبریشن آرمی کے آپریشن ھیروف دوئم کے شہداء کی یاد میں جمعہ کے روز ایک آشوبی دیوان کا انعقاد کیا گیا ۔
آشوبی دیوان میں بلوچی اور براہوئی زبان کے نامور فنکار استاد میر احمد بلوچ، میرل بلوچ ،ساول کندیل اور سرفراز واحد نے براہوئی و بلوچی شاعری کے ذریعے شہدا آپریشن ھیروف دوئم کو خراج عقیدت پیش کیا اور سامعین کو اپنے خوبصورت آواز سے محصور کیا ۔
یاد رہے کہ 31 جنوری 2026 کی علی الصبح، بلوچستان بھر کے رہائشی دھماکوں کی آوازوں سے جاگ اٹھے، چند ہی منٹوں میں مسلح افراد ہائی ویز، سڑکوں، گلیوں، تھانوں اور کم از کم درجن بھر شہروں میں فوجی تنصیبات کے اطراف نظر آنے لگے۔
بعد ازاں بلوچ لبریشن آرمی “بی ایل اے” نے اعلان کیا تھا کہ اس نے “آپریشن ھیروف” کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے، آپریشن ہیروف 2.0 کے تحت بلوچستان کے بارہ شہروں میں بیک وقت بڑے پیمانے پر حملے کیئے۔ ان حملوں بی ایل اے مجید برگیڈ کے پچاس ‘فدائین’ نے حصہ لیا۔ آپریشن ہیروف میں بلوچستان بھر میں پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ شدید نوعیت کے حملوں کا سامنا کرنے سمیت نوشکی شہر چھ دنوں بلوچ لبریشن آرمی کے کنٹرول میں رہی۔



















































