بلوچ نیشنل موومنٹ کے انسانی حقوق کے ادارے پانک نے کہا ہے کہ دستیاب اطلاعات کے مطابق، یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر سید منظور احمد، ڈاکٹر ارشاد بلیڈی، اور ان کے ڈرائیور حاتم سرکاری ذمہ داری کے سلسلے میں کوئٹہ جاتے ہوئے مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں۔ یہ واقعہ ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں پیش آنے کی اطلاعات ہیں۔ تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں، جس کے باعث ان کے اہل خانہ، ساتھیوں اور بلوچستان بھر کی علمی برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
پانک نے کہا ہے کہ یہ واقعہ اس بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کو اجاگر کرتا ہے جس کا سامنا بلوچستان میں اساتذہ، دانشوروں اور سرکاری ملازمین کو ہے۔ بلوچستان کے تعلیمی ادارے مسلسل خوف اور غیر یقینی کی فضا میں کام کر رہے ہیں، جہاں تشدد، جبری گمشدگیوں اور ٹارگٹ حملوں کے واقعات جاری ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اس سے قبل، 4 مارچ 2026 کو لیکچرر دلاور خان کو خاران میں ایک حملے میں قتل کردیا گیا تھا، جسے ریاستی پشت پناہی یافتہ مسلح گروہوں سے منسلک قرار دیا گیا۔ ایسے واقعات نے بلوچستان بھر میں اساتذہ اور علمی شخصیات کی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
پانک حکام اور تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ یونیورسٹی آف گوادر کے لاپتہ حکام کی محفوظ بازیابی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور شفاف اقدامات کیے جائیں اور ان کی موجودہ صورتحال اور مقام کے بارے میں درست معلومات فراہم کی جائیں۔ حکام کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ اساتذہ، طلبہ اور سرکاری ملازمین کو تحفظ فراہم کیا جائے، جبکہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی بھی یقینی بنائی جائے۔

















































