بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی سے وابستہ رہنماؤں صبغت اللہ شاہ جی، بیبو بلوچ، گل زادی بلوچ اور بیبرگ بلوچ نے بلوچستان بار کونسل کے نام ایک خط میں اپنے مقدمات کی سماعت کسی دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی اپیل کی ہے۔
خط میں قید رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ وہ گزشتہ تقریباً ایک سال سے حراست میں ہیں اور مختلف مقدمات میں ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) کوئٹہ میں جاری سماعت کے دوران انہیں عدالت کی جانب سے جانبداری اور غیر منصفانہ رویے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو ان کے مطابق بنیادی انسانی حقوق اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کے منافی ہے۔
خط کے مطابق قید رہنماؤں نے 7 فروری 2026 کو بھی عدالت میں اپنے تحفظات ریکارڈ کروائے تھے اور موجودہ جج پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت کے بعض ریمارکس اور احکامات کے باعث ان کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ موجودہ عدالت میں منصفانہ ٹرائل ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ جب انہوں نے عدالت میں عدم اعتماد اور جانبداری کے حوالے سے اعتراض اٹھایا تو اسے قانونی طریقہ کار کے مطابق اعلیٰ عدالت کو بھجوانے کے بجائے مناسب طور پر زیر غور نہیں لایا گیا۔
قید رہنماؤں نے بلوچستان بار کونسل سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں کردار ادا کرتے ہوئے عدالتِ عالیہ سے رجوع کریں تاکہ ان کے مقدمات کسی غیر جانبدار عدالت کو منتقل کیے جائیں اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے ہو سکیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ ریاست کا اہم ستون ہے اور مظلوم طبقات کو انصاف کی فراہمی کے لیے اس سے بڑی توقعات وابستہ ہوتی ہیں اس لیے انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید تاخیر کا شکار نہ کیا جائے۔

















































