گوریلا جنگ اور خواتین
تحریر: ساربان بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
دنیا کی مختلف گوریلا اور مزاحمتی تحریکوں میں خواتین نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگرچہ تاریخی بیانیوں میں اکثر مرد جنگجوؤں کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خواتین نے نہ صرف تنظیمی اور سماجی سطح پر بلکہ بعض اوقات عملی اور عسکری سطح پر بھی ان تحریکوں کی کامیابی میں اہم حصہ ڈالا۔ ویتنام، الجزائر، فلسطین اور لاطینی امریکہ کی گوریلا تحریکوں کی طرح بلوچ مزاحمتی تاریخ میں بھی خواتین کا کردار نمایاں رہا ہے۔
گوریلا جنگ روایتی جنگ سے مختلف ہوتی ہے۔ اس میں معلومات کی فراہمی، خفیہ رابطے، رسد کی ترسیل، زخمیوں کی دیکھ بھال، سیاسی شعور بیدار کرنا اور عوامی حمایت حاصل کرنا بنیادی عناصر ہوتے ہیں۔ خواتین ان تمام شعبوں میں مؤثر کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ بہت سی تحریکوں میں خواتین نے جاسوسی، پیغام رسانی، پناہ گاہوں کے انتظام اور سیاسی تنظیم سازی کی ذمہ داریاں نبھالیں، جبکہ بعض تحریکوں میں وہ براہِ راست جنگی کارروائیوں میں بھی شریک رہیں۔
بلوچ معاشرہ تاریخی طور پر قبائلی روایات سے جڑا ہوا ہے، لیکن اس کے باوجود خواتین نے سماجی اور سیاسی زندگی میں ہمیشہ اثر و رسوخ برقرار رکھا۔ تاریخی روایات میں بندی بلوچ، بی بی گنجان اور دیگر بلوچ خواتین کی قیادت، مصالحت اور سماجی خدمات کا ذکر ملتا ہے۔ جدید تحقیق سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بلوچ خواتین صرف گھریلو دائرے تک محدود نہیں رہیں بلکہ قبائلی اور سماجی معاملات میں بھی اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
بلوچستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری سیاسی اور قومی حقوق کی تحریکوں میں خواتین کی شرکت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ابتدا میں خواتین زیادہ تر احتجاجی سرگرمیوں، انسانی حقوق کی مہمات اور لاپتہ افراد کے مسئلے کو اجاگر کرنے میں سرگرم رہیں۔ انہوں نے عوامی شعور بیدار کرنے، ریلیوں کے انعقاد اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کے مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
حالیہ برسوں میں بلوچ خواتین کی ایک نئی نسل سامنے آئی ہے جو سیاسی سرگرمیوں میں براہِ راست قیادت کا کردار ادا کر رہی ہے۔ خاص طور پر لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ سے تعلق رکھنے والی خواتین نے عوامی احتجاج اور انسانی حقوق کی مہمات کی قیادت کی ہے۔ اس عمل نے بلوچ معاشرے میں خواتین کی سیاسی حیثیت کو مزید مضبوط کیا ہے۔
بلوچ مزاحمتی تحریک کی تاریخ میں خواتین کا کردار طویل عرصے تک زیادہ تر سیاسی اور سماجی نوعیت کا رہا، تاہم حالیہ برسوں میں بعض بلوچ عسکری تنظیموں میں خواتین کی شمولیت نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس تناظر میں شہناز بلوچ کا نام بھی سامنے آیا ہے، جنہیں بعض میڈیا رپورٹس میں بلوچ لبریشن آرمی (BLA) سے منسلک ایک خاتون کمانڈر کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق ان کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ سے بتایا جاتا ہے۔ ان کا ذکر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید بلوچ مزاحمتی تحریک میں بعض خواتین نے تنظیمی اور قیادت میں بھی جگہ بنائی ہے۔ اس موضوع پر تحقیق ابھی جاری ہے، اس لیے ان کے کردار کے بارے میں حتمی تاریخی نتائج اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
گوریلا اور مزاحمتی تحریکوں میں شامل خواتین کو دوہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک طرف انہیں ریاستی دباؤ، تشدد اور گرفتاریوں جیسے خطرات لاحق ہوتے ہیں، جبکہ دوسری طرف سماجی روایات اور صنفی تعصبات بھی ان کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ بلوچ خواتین کی جدوجہد اس لحاظ سے منفرد ہے کہ انہوں نے ان دونوں چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے اپنی سیاسی موجودگی کو مضبوط بنایا۔
گوریلا اور مزاحمتی تحریکوں کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ خواتین صرف معاون کردار تک محدود نہیں رہیں بلکہ کئی مواقع پر قیادت، تنظیم سازی اور مزاحمت کی علامت بن کر سامنے آئیں۔ بلوچ تاریخ بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ بلوچ خواتین نے سماجی، سیاسی اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور جدید دور میں ان کی شرکت نے بلوچ تحریک کی نوعیت اور سمت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ان کی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی بھی مزاحمتی تحریک کی کامیابی میں خواتین کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































