حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس: بلوچ مزاحمت کی بحری جہت اور غیر متناسب جنگ کا ارتقا
تحریر: نوتک بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اپنی سرگرمیوں کو زمینی محاذوں تک محدود رکھنے کے بجائے اب سمندری میدان میں بھی توسیع دے دی ہے۔ اپریل 2026 میں تنظیم نے “حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس” (HMDF) کے قیام کا اعلان کیا، جو اس کی پہلی باقاعدہ بحری شاخ سمجھی جا رہی ہے۔ یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بی ایل اے اپنی جنگی حکمتِ عملی کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ڈھالنے اور غیر متناسب جنگ (Asymmetric Warfare) کے نئے طریقوں کو اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس پیش رفت سے بلوچستان کے ساحلی علاقوں، خصوصاً گوادر اور جیونی، کی تزویراتی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
12 اپریل 2026 کو جیونی کے قریب مل تیاب کے مقام پر پاکستان کوسٹ گارڈ کی ایک گشتی کشتی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار ہلاک ہوئے۔ بی ایل اے نے اس کارروائی کو اپنی نئی بحری فورس کا پہلا آپریشن قرار دیتے ہوئے فوراً بعد ایچ ایم ڈی ایف کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا۔ تنظیم کے مطابق یہ فورس مستقبل کی ایک ممکنہ “بلوچ قومی بحریہ” کی بنیاد ہے، جس کا مقصد بلوچستان کے ساحلوں اور سمندری حدود کا تحفظ اور سی پیک جیسے منصوبوں کے خلاف مزاحمت کرنا ہے۔
اس فورس کا نام تاریخی بلوچ رہنما میر حمل جیئند خان ہوت کلمتی کے نام پر رکھا گیا ہے، جو سولہویں صدی میں مکران کے ساحلی خطے میں پرتگالی توسیع پسندی کے خلاف مزاحمت کی علامت بنے تھے۔ بلوچ روایات میں انہیں ایک ایسے جنگجو کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے ساحلی علاقوں کے دفاع اور پرتگالی بحری قوت کے خلاف جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس نام کا انتخاب تاریخی ورثے اور مزاحمتی روایت کے ساتھ تعلق کو اجاگر کرتا ہے۔
بحری گوریلا جنگ نسبتاً کم دیکھی جانے والی جنگی حکمتِ عملی ہے کیونکہ اس کے لیے خصوصی تربیت، سمندری نقل و حرکت، انٹیلی جنس نیٹ ورک اور مستقل سپلائی لائنز درکار ہوتی ہیں۔ تاہم تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ جب ایسی حکمتِ عملی مؤثر انداز میں اختیار کی جائے تو اس کے اثرات غیر معمولی ہو سکتے ہیں۔
اس کی نمایاں مثال سری لنکا میں لبریشن ٹائیگرز آف ٹامل ایلام (LTTE) کی “سی ٹائیگرز” ہیں، جنہوں نے خودکش کشتیوں، تیز رفتار حملوں اور سمندری چھاپہ مار کارروائیوں کے ذریعے ریاستی بحری قوت کو مسلسل چیلنج کیا۔ اسی طرح یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر میں میزائلوں، ڈرونز اور بغیر عملے کے بحری پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی جہاز رانی پر نمایاں اثرات مرتب کیے۔ ایرانی انقلابی گارڈز کی خلیج فارس میں گوریلا بحری کارروائیاں اور حزب اللہ کی جانب سے 2006 میں اسرائیلی جنگی جہاز کو نشانہ بنانا بھی اس امر کی مثالیں ہیں کہ غیر ریاستی یا نسبتاً کمزور قوتیں جدید ہتھیاروں اور غیر روایتی حکمتِ عملی کے ذریعے بڑی عسکری طاقتوں کے لیے چیلنج پیدا کر سکتی ہیں۔
حمل میری ٹائم ڈیفنس فورس کو اسی وسیع تر ارتقائی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر یہ فورس اپنی تنظیمی صلاحیت، انٹیلی جنس ڈھانچے اور عملی تسلسل کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی تو بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان نیوی اور دیگر ریاستی ادارے جدید وسائل، ٹیکنالوجی اور نگرانی کی صلاحیتوں سے لیس ہیں، جو اس قسم کے چیلنجز سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر ایچ ایم ڈی ایف کا قیام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بلوچستان کا تنازع اب صرف زمینی جغرافیے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی جہتیں سمندری ماحول تک بھی پھیل رہی ہیں۔ آنے والے برسوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ یہ پیش رفت خطے کی سلامتی، بحری نقل و حرکت اور سیاسی صورتحال پر کس حد تک اثرانداز ہوتی ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔















































