زہری میں جاری کرفیو اور فوجی بربریت بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی

1

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ دو جون 2026 کو ضلع خضدار کے علاقے زہری بلبل میں بڑے پیمانے پر فوجی بربریت اور مکمل کرفیو کا نفاذ بلوچ نسل کشی کے جاری سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔

ترجمان نے کہاکہ پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے آبادی والے علاقوں پر گولہ باری کی، جبکہ بھاری ہتھیاروں سے لیس فورسز بکتر بند گاڑیوں میں شہر میں داخل ہوئیں اور فائرنگ کی، جس کے باعث مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔

کئی دن گزرنے کے باوجود زہری میں کرفیو بدستور سختی سے نافذ ہے، جس کے باعث لوگوں کی نقل و حرکت محدود ہو چکی ہے، خاندان ایک دوسرے سے کٹ گئے ہیں اور بنیادی سہولیات تک رسائی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس طویل فوجی محاصرے نے مقامی آبادی کے عدم تحفظ کے احساس میں مزید اضافہ کیا ہے اور اسے وسیع پیمانے پر خوف و ہراس پھیلانے کی ایک دانستہ حکمت عملی سمجھا جا رہا ہے۔ مسلسل کرفیو کے باعث ایک سنگین انسانی بحران بھی جنم لے چکا ہے۔

انہوں نے کہاکہ کرفیو کے دوران ایک نوجوان شہری، عمیر سمالانی ولد حاجی نصیر، اپنی بہن اور دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ خضدار جاتے ہوئے قتل کر دیا گیا۔

فوجی کارروائی کے دوران دس سے بارہ فوجی گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے نے قبائلی رہنما سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر کا محاصرہ کیا۔ فورسز نے سردار نصیر احمد موسیانی، ان کے بیٹوں میر زہری خان موسیانی اور میر خلیل احمد موسیانی سمیت متعدد رشتہ داروں اور عام شہریوں کو حراست میں لے کر ایک مقامی اسکول منتقل کر دیا، جسے عارضی فوجی کیمپ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

انہوں نے کہاکہ جب مقامی خواتین، قبائلی عمائدین اور دیگر افراد گرفتار شدگان کی رہائی کے مطالبے کے لیے پرامن طور پر اسکول کے باہر جمع ہوئے تو فورسز نے مزید مرد شرکاء کو حراست میں لے کر اسی مقام پر قید کر دیا۔ ان جابرانہ اقدامات کے باوجود خواتین نے اپنے پیاروں کی بازیابی اور ان کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیے احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔

بی وائی سی نے کہاکہ فوجی کارروائی کے دوران ایک پاکستانی فوجی افسر نے معمر قبائلی رہنما سردار نصیر احمد موسیانی کو دھکا دیا، جس سے وہ زمین پر گر گئے اور ان کے سر پر چوٹیں آئیں۔ ان کے بیٹے میر زہری خان موسیانی کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ میر خلیل احمد موسیانی کو شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں براہِ راست گولی مار دی گئی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں انہیں اسکول سے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ کچھ ہی وقت بعد ان کی موت کی خبر دی گئی، تاہم ان کی لاش تاحال اہلِ خانہ کے حوالے نہیں کی گئی اور اس کا مقام نامعلوم ہے۔

بی وائی سی کے مطابق سردار نصیر احمد موسیانی، قدیر (سردار نصیر احمد موسیانی کا پوتا، عباس (سکیورٹی گارڈ) میر زہری خان موسیانی (سردار نصیر احمد موسیانی کے صاحبزادے) میر خلیل احمد موسیانی (سردار نصیر احمد موسیانی کے صاحبزادے ،شکر خان، ثناء اللہ موسیانی، حمید علی خان دوست محمد ارشاد احمد کو حراست میں لیا گیا۔

بعد ازاں سردار نصیر احمد موسیانی
قدیر (سردار نصیر احمد موسیانی کا پوتا) عباس (سکیورٹی گارڈ) کو رہا کیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ زہری میں جاری کرفیو، شہریوں کے ماورائے عدالت قتل، من مانی گرفتاریوں، تشدد کے واقعات اور جبری گمشدگیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ زہری کی صورتحال پر گہری نظر رکھیں۔ گرفتار اور لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو یہ بنیادی حق حاصل ہے کہ انہیں اپنے پیاروں کی حالت اور مقام کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

آخر میں کہاکہ ہم حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ زہری میں فوری طور پر کرفیو ختم کیا جائے۔تمام زیرِ حراست افراد، خصوصاً جبری گمشدگی کا شکار افراد، کے مقام اور حالت سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں، پاکستانی فوجی فورسز کو ان اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔