مشکے میں جاری کرفیو عوامی زندگی کو مفلوج کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔بلوچ یکجہتی کمیٹی

1

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقے مشکے میں گزشتہ چھ روز سے جاری کرفیو نے عوامی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ اس صورتحال نے معمولاتِ زندگی کو مفلوج کرکے لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا ہے۔ شہریوں کو بنیادی نقل و حرکت کی آزادی سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ترجمان نے کہاکہ عید کے موقع پر بھی مشکے کے عوام کو قربانی کے جانور خریدنے تک کی اجازت نہیں دی گئی، جو اس امر کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ لوگوں کی روزمرہ زندگی کے ساتھ ساتھ مذہبی اور سماجی سرگرمیوں پر بھی قدغن عائد کی جا رہی ہے۔ اس نوعیت کے اقدامات عوام کو مسلسل خوف اور غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اسکولوں کی بندش کے باعث طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ اسی طرح ہسپتالوں میں مریضوں اور اُن کے اہلِ خانہ کو فورسز کی جانب سے بار بار ہراسانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں مریض جسمانی اذیت کے ساتھ ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہیں۔ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات تک رسائی میں رکاوٹ ریاستی جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی بدترین مثال ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مشکے اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں جاری کرفیو کا فوری نوٹس لیں، عوام کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں، اور ایسے اقدامات کے خلاف مؤثر کردار ادا کریں۔