پنجگور: مزید دو نوجوان جبری گمشدگی کا شکار

1

بلوچستان کے ضلع پنجگور سے دو مزید نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن کے بارے میں اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں ریاستی حمایت مسلح افراد نے مختلف مقامات سے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق پنجگور کے تحصیل پروم کے رہائشی 22 سالہ مجاہد ولد حبیب، جو پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور ہیں، 7 جون 2026 کی شب سی پیک روڈ سرسند، پنجگور سے لاپتہ کیے گئے۔ اہلِ خانہ کے مطابق انہیں ڈیتھ اسکواڈز سے وابستہ افراد نے اپنی تحویل میں لیا، جس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

دوسرے واقعے میں چتکان، پنجگور کے رہائشی 22 سالہ نبیل رحیم ولد رحیم بخش، جو بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) خضدار کے طالب علم ہیں، 5 جون 2026 کو شام 6 بجے حاجی یاسین مارکیٹ، پنجگور سے لاپتہ کر دیے گئے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں بھی ڈیتھ اسکواڈز کے اہلکاروں نے حراست میں لیا، جس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

دونوں نوجوانوں کی جبری گمشدگی کے بعد اہلِ خانہ شدید ذہنی اذیت اور بے چینی کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مجاہد اور نبیل رحیم کو فوری طور پر منظرِ عام پر لا کر ان کی خیریت کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔