بلوچ یکجہتی کمیٹی نے پروفیسر صبا دشتیاری کی برسی کے موقع پر کہا ہے کہ پروفیسر صبا دشتیاری ایک ایسی شعوری، فکری اور علمی آواز تھے جو ہمیشہ بلوچستان کے حقوق، قومی شناخت اور اجتماعی شعور کے لیے گونجتی رہی۔ صبا محض ایک فرد کا نام نہیں تھے، بلکہ وہ ایک فکر، ایک نظریہ اور ایک تعمیری کردار کی علامت تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی بلوچ قوم کی فکری، علمی اور سیاسی آگہی کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف وہ نہ صرف ایک مؤثر اور توانا آواز تھے بلکہ ایک روشن چراغ کی مانند تھے جو نوجوان نسل کو شعور، آگہی اور فکری بیداری کی راہ دکھا رہے تھے۔ ان کی گفتگو، تحریر اور تدریس بلوچ سماج میں شعوری ارتقا اور فکری بالیدگی کا ایک اہم ذریعہ تھیں۔
بی وائی سی نے کہاکہ بلوچستان یونیورسٹی میں ایک مخصوص مقام، جو “او پی ڈی” کے نام سے جانا جاتا تھا، پروفیسر صبا دشتیاری کی فکری اور علمی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا تھا۔ وہاں وہ صرف لیکچر نہیں دیتے تھے بلکہ نوجوانوں کے ساتھ مکالمے اور مباحثے کے ذریعے انہیں تاریخ، سیاست، ادب، ثقافت اور قومی شعور سے روشناس کراتے تھے۔ وہ جبر، محکومی اور فکری جمود پر مبنی اس ذہنیت کو مسلسل چیلنج کرتے تھے جو معاشرے پر مسلط کی گئی تھی، اور نوجوانوں میں تنقیدی سوچ، خود اعتمادی، اجتماعی ذمہ داری اور قومی شعور کو پروان چڑھانے کی کوشش کرتے تھے۔
پروفیسر صبا دشتیاری کا یقین تھا کہ علم، شعور اور فکری بیداری ہی وہ قوتیں ہیں جو ایک قوم کو اپنے حقوق کے حصول اور اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے منظم اور مضبوط بنا سکتی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے تعلیم اور آگہی کو اپنی جدوجہد کا بنیادی ستون بنایا۔
مزید کہاکہ صبا دشتیاری کے اسی فکری جدوجہد سے خوفزدہ ہوکر 1 جون 2011 کو ریاست نے دن دہاڑے شہید کردیا۔
پروفیسر صبا دشتیاری کی شہادت بلوچ قوم کے لیے ایک عظیم نقصان تھی، مگر ان کی فکر، جدوجہد اور علمی ورثہ آج بھی زندہ ہے۔ ان کے خیالات اور تعلیمات آج بھی بلوچ نوجوانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں اور انہیں اپنے قومی، سماجی اور فکری فرائض کا احساس دلاتی ہیں۔
آخر میں کہاکہ پروفیسر صبا دشتیاری کا نام بلوچستان کی تاریخ میں ایک ایسے دانشور اور استاد کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے علم اور شعور کو مزاحمت اور بیداری کا ہتھیار بنایا، اور اپنی قوم کی فکری رہنمائی کا فریضہ آخری سانس تک نبھایا۔ ان کی زندگی اور جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے شعور، استقامت اور فکری وابستگی کی ایک روشن مثال رہے گی۔

















































