بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستانی فورسز پر حملے

1

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں پاکستانی فورسز پر حالیہ گھنٹوں کے دوران متعدد حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں درجنوں اہلکاروں کے ہلاک اور زخمی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق حملے خاران، ڈغاری اور پنجگور کے علاقوں میں پیش آئے۔

خاران کے علاقے گرُک کے قریب مسلح افراد نے پاکستانی فوج کے گاڑیوں کے قافلے کو شدید حملے کا نشانہ بنایا۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملے میں فوج کی کم از کم چھ گاڑیاں براہ راست زد میں آئیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 24 سے زائد فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق حملے کے بعد علاقے میں فورسز کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور فضائی نگرانی کے لیے ڈرون طیارے مسلسل پرواز کر رہے ہیں۔

حکام کی جانب سے واقعے کی باضابطہ تصدیق یا تفصیلات ابھی تک جاری نہیں کی گئیں۔

اسی دوران کوئٹہ کے قریب ڈغاری کے علاقے پنگو میں بھی پاکستانی فورسز کو نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا جہاں پاکستانی فورسز کی ایک گاڑی دھماکے کی زد میں آ گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں جانی نقصانات ہوئے ہیں تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل اسی مقام پر محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ مسلح افراد نے اس وقت گھات لگا کر حملہ کیا جب اہلکار ایک نجی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ اس حملے میں دو اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔

ادھر پنجگور کے علاقے پروم میں گزشتہ شب مسلح افراد نے پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے ممکنہ طور پر جدید آلات جیسے تھرمل اسکوپس اور نائٹ وژن کا استعمال کیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں فوج کی ایک گاڑی براہ راست نشانہ بنی جبکہ مزید دو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

علاقائی ذرائع کے مطابق اس حملے میں پاکستانی فورسز کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی۔