بلوچ وومن فورم کی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر کارکنان کو عمر قید کی سزا پر شدید مذمت

8

بی ڈبلیو ایف کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچستان میں کئی دہائیوں سے پرامن سیاسی کارکنان، انسانی حقوق کے کارکنان اور اختلافِ رائے رکھنے والے آوازوں کو مختلف نوعیت کے جھوٹے اور سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات میں الجھا کر پابندِ سلاسل کیا جاتا رہا ہے۔ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاہ جی بلوچ اور دیگر سیاسی کارکنان کے خلاف جاری فیس لیس ٹرائل اور اس کے نتیجے میں سنائی جانے والی سزائیں اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ ریاست بلوچ عوام کی پرامن اور جمہوری آوازوں کو برداشت کرنے کے بجائے انہیں خاموش کرانے کے لیے مختلف حربے استعمال کررہی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ سیاسی اختلاف اور اپنی حقوق کے لیے آواز اٹھانا کوئی جرم نہیں، بلکہ ہر شہری کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ پرامن سیاسی کارکنان کو انتقام کا نشانہ بنانا انہیں طویل عرصے تک قید و بند میں رکھنا اور شفاف عدالتی کارروائی کے تقاضوں سے انحراف کرنا نہ صرف انصاف کے اصولوں کی نفی ہے بلکہ بلوچستان میں پہلے سے موجود سیاسی بے چینی اور عدم اعتماد میں مزید اضافہ کرنے کا سبب بنے گا۔

آخر میں کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ، شاہ جی بلوچ اور دیگر بلوچ سیاسی کارکنان کے خلاف سنائے گئے فیصلوں پر فوری نظرِ ثانی کی جائے، انہیں انصاف کے تقاضوں کے مطابق شفاف عدالتی کارروائی کا حق فراہم کیا جائے، اور بلوچستان میں سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے مسائل کے حل کے لیے جمہوری اور سیاسی راستہ اختیار کیا جائے۔
آخر میں ہم انسانی حقوق کی قومی و بین الاقوامی تنظیموں، وکلا برادری، سول سوسائٹی اور انصاف پسند حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچ سیاسی کارکنان کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی آواز بلند کریں اور ہمارا ساتھ دیں۔