اسلام آباد: بلوچ لواحقین کے دھرنے کو ایک ماہ مکمل

102

اسلام آباد جبری گمشدگیوں کے خاتمے لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں کی رہائی کے مطالبے پر اسلام آباد میں جاری بلوچ لواحقین کے احتجاجی دھرنے کو ایک ماہ مکمل ہوگیا ہے۔

پولیس کی جانب سے دھرنے کو روکنے کے لیے رکاوٹیں برقرار ہیں، جس کے باعث شدید مشکلات میں احتجاج کرنے والے بزرگ مظاہرین کی حالت غیر ہورہی ہے۔

دھرنے کی قیادت کرنے والی جبری لاپتہ بلوچ طالب علم رہنما شبیر بلوچ کی ہمشیرہ سیما بلوچ نے اس موقع پر کہا آج اسلام آباد جشنِ آزادی کے نعروں اور نغموں سے گونجتا رہا سب خوشی سے جھوم رہے تھے مگر ہمارے لیے یہ دن بھی ہر دن کی طرح حراسانی اور دھمکیوں سے بھرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی اور اپنے تمام مطالبات کی تکمیل تک یہاں سے نہیں اٹھیں گے۔

واضح رہے کہ بلوچستان سے جبری گمشدگیوں کے خلاف اور بی وائی سی کی گرفتار قیادت کی بازیابی کے لیے لواحقین کی جانب سے ایک ماہ سے اسلام آباد میں دھرنا جاری ہے، جبکہ اس دوران پولیس کی جانب سے مظاہرین کو اسلام آباد پریس کلب جانے اور وہاں کیمپ لگانے سے روک دیا گیا ہے۔

اسلام آباد دھرنے کے شرکاء کا مطالبہ ہے کہ بلوچ سیاسی رہنماؤں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، بیبگر زہری، بیبو، گلزادی، شاجی صبغت اللہ، ماما غفار اور عمران بلوچ کو فوری طور پر رہا کیا جائے، بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور تمام لاپتہ افراد کو منظرِ عام پر لایا جائے۔