گوادر میں تیل بردار کشتیوں پر فائرنگ کے واقعے میں کشتی کے ناخدا اور شاگرد سمیت دو افراد جانبحق، جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے علاقے گوادر کے ساحلی مقام جیونی کے چل ہور میں مسلح افراد کی جانب سے تیل بردار کشتیوں پر فائرنگ کے نتیجے میں کشتی کے ناخدا اور اس کے ایک شاگرد سمیت دو افراد جانبحق ہوگئے، واقعہ میں متعدد افراد کے زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بھتہ مافیا نے ایک مقامی کشتی کو فائرنگ کا نشانہ بنایا، جبکہ واقعے کے خلاف کشتی برداروں نے احتجاج کیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستانی کوسٹ گارڈز اور مقامی فورسز کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے کنٹانی، چل ہور اور دیگر ساحلی علاقوں میں تیل بردار کشتیوں سے فی چکر بھاری بھتہ وصول کرنے، جبکہ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں کشتیوں کے عملے پر تشدد، فائرنگ اور کشتیوں کو نقصان پہنچانے کے متعدد واقعات اس سے قبل بھی پیش آتے رہے ہیں۔
مظاہرین نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ساحلی علاقوں میں مسلح افراد کی مبینہ سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے، واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور کشتیوں کے عملے سمیت مقامی شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
دوسری جانب پیشکان کے علاقے گنز میں مائی گیر کشتی ڈوبنے کا واقعہ بھی پیش آیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کشتی میں تقریباً آٹھ افراد سوار تھے، جن میں سے ایک شخص کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ لاش کی شناخت لال پیشکانی کے نام سے ہوئی ہے، جبکہ دیگر افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد کا تعلق بھی پیشکان سے بتایا جاتا ہے۔


















































