مغربی بلوچستان میں 24 گھنٹوں کے دوران ایرانی فورسز پر متعدد حملے، ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات

43

مغربی بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایرانی فورسز پر متعدد مسلح حملوں میں ایک درجن سے زائد اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

مغربی بلوچستان کی صورتِ حال اور واقعات کی نگرانی کرنے والی نیوز ایجنسی حال وش کے مطابق، مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں ایرانی فورسز اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، تاہم تمام واقعات اور جانی نقصانات کی آزادانہ تصدیق ابھی مکمل نہیں ہوسکی۔

حال وش کے مطابق، وہ جن ہلاک شدہ اہلکاروں کی شناخت کی تصدیق کرسکی ہے، ان میں محمد رضا اوکاتی، مہدی جمشیدی، وحید عنایت اور عباس آغائی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، مہدی جمشیدی کا تعلق کرمان کے علاقے فریاب سے بتایا گیا ہے، جبکہ وحید عنایت اور عباس آغائی زاہدان کے علاقے نصرت آباد میں مارے گئے۔

حال وش کی رپورٹ کے مطابق، بدھ اور جمعرات کی شام کے درمیان مغربی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کم از کم چار مسلح حملے کیے گئے۔ ان واقعات میں علی نجفی، محمد رضا حسینی، مجتبیٰ میر، کیخا اور ایرانمیش نامی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ کم از کم تین اہلکاروں کی ہلاکت اور دو کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی ہے، تاہم ان افراد کی شناخت اور تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ نیک شہر میں سکیورٹی اہلکاروں کو لے جانے والی ایک منی بس مسلح حملے کا نشانہ بنی۔ ایجنسی نے محمد رضا اوکاتی اور وحید عنایت کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے تین دیگر اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔
تسنیم کے مطابق، واقعے سے متعلق مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

حال وش کے مطابق، بلوچ مسلح تنظیم پیپلز فائٹرز فرنٹ نے نیک شہر، نصرت آباد اور جالق میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے بارودی سرنگوں، آر پی جی راکٹوں اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے سکیورٹی تنصیبات اور متعلقہ اہداف کو نشانہ بنایا۔ تنظیم کے بیان میں چھ پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

مغربی بلوچستان میں حالیہ ہفتوں کے دوران ایرانی فورسز اور جیش العدل سمیت مختلف مسلح گروہوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں اور حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔