کراچی: سی ٹی ڈی کا دو بی ایل ایف ارکان کو مارنے کا دعویٰ، پانک کا جعلی مقابلے کا الزام

22

کراچی کے علاقے منگھوپیر کے غازی گوٹھ میں 18 ستمبر کو سی ٹی ڈی نے دو افراد کو مارنے کا دعوی کیا ہے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دونوں بلوچ لبریشن فرنٹ سے وابستہ تھے اور ایک مشترکہ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔ دوسری جانب بلوچ انسانی حقوق کی تنظیم پانک کا دعویٰ ہے کہ دونوں افراد پہلے ہی 5 جولائی 2026 کو بلوچستان کے علاقے حب چوکی سے جبری طور پر لاپتہ کیے جا چکے تھے۔

19 ستمبر کو شائع ہونے والی پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی کے منگھوپیر علاقے میں غازی گوٹھ کے مقام پر کارروائی کی۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق کارروائی مبینہ طور پر دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد کی گئی اور وہاں فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں دو مشتبہ افراد جانبحق ہوئے۔

حکام نے مقتولین کی شناخت 23 سالہ یحییٰ ولد عبدالواحد اور 28 سالہ ہلال سید محمد کے طور پر کی۔ سی ٹی ڈی کے مطابق دونوں کا تعلق بلوچ لبریشن فرنٹ سے تھا۔ حکام نے ان کے قبضے سے کلاشنکوف اور پستول برآمد ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔

بلوچ انسانی حقوق کی تنظیم پانک کے مطابق دونوں کو 5 جولائی 2026 کو بلوچستان کے علاقے حب چوکی میں ہلیل سید کے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے بعد دونوں دو ماہ سے زیادہ عرصے تک لاپتہ رہے اور پھر 18 ستمبر کو کراچی میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

پانک نے سی ٹی ڈی کے اس مؤقف کو مسترد کیا ہے کہ دونوں افراد کارروائی کے دوران مسلح تصادم میں مارے گئے۔ پانک کے مطابق اگر دونوں افراد 5 جولائی سے ہی ریاستی تحویل میں تھے تو انہیں 18 ستمبر کو مسلح مقابلے میں ہلاک ہونے والے افراد کے طور پر پیش کرنا ایک جعلی مقابلہ اور ماورائے عدالت قتل کے زمرے میں آتا ہے۔