بلوچ خواتین کا بدلتا کردار، مسلح تحریک کا نیا باب – ٹی بی پی اداریہ

65

بلوچ خواتین کا بدلتا کردار، مسلح تحریک کا نیا باب

ٹی بی پی اداریہ

22 ستمبر 2026 کو تربت میں ایک پاکستانی فوجی قافلے پر حملے کی خبر سامنے آئی، جس کے بعد بلوچستان لبریشن فرنٹ نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (KAAD) نامی ایک نئے خواتین مسلح یونٹ کے قیام کا اعلان کیا۔ اس واقعے میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بی ایل ایف نے صرف ایک کارروائی کی ذمہ داری قبول نہیں کی بلکہ اس کے ساتھ ایک نئی تنظیمی شاخ متعارف کرائی۔ بلوچ خواتین پہلے ہی مختلف صورتوں میں بلوچ مسلح تحریک میں موجود رہی ہیں یہ اس لئے ایک نئی پیش رفت ہے کہ پہلی دفعہ کسی مسلح تنظیم کی خواتین کی ایک باقاعدہ، الگ اور نامزد مسلح ڈھانچہ سامنے آیا ہے۔

بلوچ سیاست میں خواتین کی موجودگی کو صرف مسلح تنظیموں کی تاریخ سے جوڑنا بھی تصویر کو محدود کر دیتا ہے۔ بلوچستان میں خواتین نے طویل عرصے سے لاپتہ افراد، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور سیاسی حقوق کے معاملات پر احتجاجی اور سماجی تحریکوں میں کردار ادا کیا ہے جبکہ بلوچ مسلح تحریک میں خواتین کی موجودگی کا سب سے نمایاں موڑ اپریل 2022 میں سامنے آیا، جب کراچی یونیورسٹی کے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قریب فدائی حملے میں شاری بلوچ نے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ اس لیے غیر معمولی تھا کہ اس سے پہلے بلوچ مسلح تحریک کی عسکری تصویر بنیادی طور پر مرد جنگجوؤں سے وابستہ رہی تھی۔ شاری بلوچ نے اس تصور کو توڑا۔

خواتین کی مسلح تحریک میں شمولیت کی اصل اہمیت شاید ہتھیار اٹھانے والی خواتین کی تعداد میں نہیں بلکہ اس سوال میں ہے کہ بلوچ معاشرے میں عورت کے سیاسی کردار کی حدود کہاں تک تبدیل ہورہی ہیں۔ یہ تبدیلی صرف مسلح تحریک تک محدود نہیں۔ اس کے اثرات سیاسی تحریکوں، نوجوان نسل، ریاستی پالیسی اور سماجی رویوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

بلوچ مسلح تحریک میں خواتین کی موجودگی اس تصور کو چیلنج کیا کہ اس تحریک میں مسلح کارروائی بنیادی طور پر مردوں تک محدود ہے،بلوچستان میں خواتین کی بدلتی ہوئی سیاسی حیثیت محض ایک تنظیم کے نئے اعلان یا چند نمایاں واقعات کی کہانی نہیں، بلکہ ایک وسیع تر سماجی تبدیلی سے جڑی ہوئی ہے۔ بلوچستان کا مسئلہ اب صرف ریاست اور مسلح تنظیموں کے درمیان عسکری محاذ تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے معاشرے کے اندر سیاسی شناخت، نوجوان نسل اور اجتماعی شعور کے سوالات کو بھی نمایاں کیا ہے۔ مسلح تحریک میں خواتین کی شرکت اسی باب کا حصہ ہے۔