ایک ایم فل سند یافتہ خاتون خودکش حملہ آور بنے تو کوئی وجہ تو ہے – سابق وزیر اعظم پاکستان

47

ایک خاتون جس کے پاس ایم فل کی سند ہو، شادی شدہ ہو اور اس کے بچے بھی ہو۔ اس کا خاوند اچھی نوکری کرتا ہو جبکہ خاتون خود بھی اچھی تنخواہ لیتی ہو۔ اس خاتون کے والدین تعلیمی اداروں میں ہو اور وہ خودکش حملہ بنتی ہے تو کوئی وجہ ہے، نظام کے اندر کوئی خرابی ہے۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ‘بلیک ہول’ کے مکالمے کے نشست کے دوران کیا۔

سابق وزیر اعظم نے بلوچ ‘فدائی’ خاتون شاری بلوچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ان کا خودکش بمبار بننا نظام میں خرابی کے باعث ہوئی ہے۔

خاقان عباسی نے مزید کہ ہم اس بات کو ماننے سے انکاری ہے، ہم انکاری ہے کہ یہ مسئلہ ہے بھی یا نہیں، میرے خیال میں یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنا پڑے گا۔ اس مسئلے کی بنیاد پر وسائل کے حوالے سے باتیں اپنی جگہ پر ہے لیکن فارم 47 پاکستان میں اٹھارہ سے آیا ہے لیکن بلوچستان میں 88 سے چلتی آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ ایک قوم کو اپنی حق نمائندگی سے محروم کریں گے، ان کی رائے کا احترام نہیں کرینگے تو آپ کا بھی احترام نہیں کریں گے۔  ہم ڈھونڈتے رہتے ہیں کہ کس نے کیا کیا، ہم یہاں کیسے پہنچے، اس کی ڈاکیومنٹیشن کریں، ہم سارے ذمہ دار ہیں۔

خیال رہے بلوچ لبریشن آرمی کی مجید برگیڈ سے منسلک پہلی بلوچ ‘فدائی خاتون شاری بلوچ نے 2022 میں کراچی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ سے منسلک چینی اہلکاروں کو ایک خودکش جیکٹ کے ذریعے دھماکے میں نشانہ بنایا تھا۔ شاری بلوچ کے بعد سمعیہ قلندرانی نے تربت اور ماہل بلوچ نے بیلہ میں ‘فدائی’ حملے کیئے۔

رواں سال بی ایل اے کے آپریشن ہیروف دوم کے دوران خواتین ‘فدائین’ و دیگر یونٹس سے منسلک بڑی تعداد نے کوئٹہ، گوادر، نوشکی، پسنی و دیگر علاقے میں باقاعدہ حصہ لیا تھا۔

بلوچ لبریشن آرمی کی خاتون کمانڈر شہناز بلوچ بھی منظر عام پر آچکی ہے۔ بی ایل اے کی آفیشل میڈیا ہکل پر شائع ویڈیو میں دیکھا گیا کہ شہناز بلوچ عرف سدو متعدد خاتون جنگجوؤں کے ہمراہ ہے جبکہ وہ بلوچ قوم کو تحریک کا حصہ بننے سمیت پاکستان فوج کو تنبیہہ کرکے پیغام دیتی ہے۔