کمانڈر شہناز، ایک خاموش طبع انسان
تحریر: کوہ زاد بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بے ترتیب، بلاوجہ اور غیر ضروری اظہار سے خاموشی وہ علمی اور عملی حکمتِ عملی کا کھل کر اظہار ہے جو لفظوں کے اظہار سے سو گنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ خاموشی نفسیاتی طور پر پُراعتمادی، اطمینان اور الجھنوں سے پاک ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ خاموشی وہ مورچہ ہے جسے کوئی منطقی ہتھیار شکست نہیں دے سکتا ہے۔ خاموشی انسان کی اصل دانائی اور حکمت کو واضح کرتی ہے۔ خاموشی اپنے اندر ایک نہیں بلکہ ایک ہزار الفاظ سمو کر وہ علمی ذخیرہ ہوتی ہے جسے عام فہم انسان عام طور پر کبھی نہیں سمجھ سکتا ہے۔ خاموشی میں درد بھی ہے، حکمت بھی ہے اور سب سے بڑھ کر ہمہ جہت منصوبہ بندی بھی ہے۔
مسلسل غیر ضروری، غیر منطقی اور بلا نتیجہ بولنا مزید لاعلمی اور بے عملی کے بیج کو اپنے ہی اندر بو کر سیکھنے اور سمجھنے کے پروسیس کو مفلوج کر دیتا ہے اور انسان کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتا ہے، مگر خاموشی ہمیشہ لمحہ بہ لمحہ کچھ نہ کچھ سیکھنے اور سمجھنے کے ساتھ عملی منصوبہ بندی کی تخلیق میں مصروف ہوتی ہے۔
خاموشی صرف الفاظ کا نہ ہونا نہیں، بلکہ ایک ایسی زبان ہے جو اکثر وہ کچھ بیان کر دیتی ہے جسے الفاظ ادا نہیں کر سکتے۔ بعض اوقات ایک لمحے کی خاموشی سینکڑوں جملوں سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ یہ انسان کے کردار، شعور، جذبات اور بصیرت کی آئینہ دار ہوتی ہے۔
خاموشی ہر موقع پر ایک جیسا مطلب نہیں رکھتی، بلکہ حالات کے مطابق اس کے معنی بدل جاتے ہیں۔ غور و فکر کی خاموشی انسان کو اپنے اندر جھانکنے، حقیقت کو سمجھنے اور بہتر فیصلے کرنے کا موقع دیتی ہے۔ عبادت کرنے والے کی خاموشی بندگی کی علامت ہوتی ہے، جبکہ ایک مفکر کی خاموشی علم اور تدبر کا دروازہ کھولتی ہے۔
غم کی خاموشی دل کے درد، جدائی اور صبر کی ترجمان ہوتی ہے، جبکہ احترام کی خاموشی کسی شخصیت، مقام یا قربانی کے اعتراف کا اظہار کرتی ہے۔ بعض اوقات خاموشی رضامندی یا قبولیت کی علامت ہوتی ہے، جبکہ بعض مواقع پر یہی خاموشی سوال، حیرت یا گہری سوچ کی کیفیت بھی ظاہر کرتی ہے۔
خاموشی کی اپنی ایک حکمت اور طاقت ہے۔ یہ انسان کو جلدبازی سے بچاتی ہے، جذبات پر قابو رکھنا سکھاتی ہے، سوچ کو گہرا کرتی ہے اور الفاظ کی قدر کا احساس دلاتی ہے۔ خاموش انسان زیادہ سنتا، زیادہ سمجھتا اور اکثر بہتر فیصلہ کرتا ہے۔
خاموشی دل اور عقل کے درمیان ایک مضبوط پل ہے۔ یہ روح کو سکون دیتی، ذہن کو یکسو کرتی اور انسان کو اپنے باطن سے جوڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ دانش خاموشی کو بصیرت، وقار اور بلوغت کی علامت قرار دیتے ہیں۔
خاموشی تعلقات میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہر اختلاف کا جواب بحث نہیں ہوتا، کبھی خاموشی رشتوں کو ٹوٹنے سے بچا لیتی ہے، غصے کو ٹھنڈا کر دیتی ہے اور غلط فہمیوں کو وقت کے ساتھ ختم ہونے کا موقع دیتی ہے۔
ہر خاموشی کمزوری نہیں ہوتی، بلکہ بعض اوقات یہی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ مایوسی اور ناامیدی کے وقت خاموشی پُرعزم اظہار ہے۔ فتح کے وقت خاموشی اعتماد کی نشانی ہے۔ غصے کے وقت خاموشی کردار کی مضبوطی ہے۔ توہین کے وقت خاموشی حکمت اور وقار ہے۔ اشتعال کے وقت خاموشی اپنے نفس پر فتح ہے۔ تمسخر اور مزاح کے وقت خاموشی بلند ظرفی ہے۔ ضرورت کے وقت خاموشی خودداری، عزتِ نفس اور اخلاقیات کی اعلیٰ علامت ہے۔ مشکلات کے وقت خاموشی صبر، حوصلے اور اپنی مستقل مزاجی کا اظہار ہے۔
البتہ ہر جگہ خاموش رہنا دانشمندی نہیں۔ جہاں حق بات کہنا، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور سچائی کو سچ کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہو، وہاں خاموشی مصلحت پسندی بھی بن سکتی ہے۔ اصل حکمت یہ ہے کہ دانا انسان جانتا ہو کہ کب بولنا بہتر ہے اور کب خاموش رہنا۔
خاموشی ایک ایسی زبان ہے جسے ہر کان نہیں، بلکہ ہر باعلم دل سنتا ہے۔ جو انسان خاموشی کا صحیح وقت پر صحیح استعمال سیکھ لیتا ہے، وہ نہ صرف اپنے الفاظ کی قدر بڑھا لیتا ہے بلکہ اپنی شخصیت میں وقار، حکمت اور اثر بھی پیدا کر لیتا ہے۔
خاموشی ایک زبان ہے، اسے سمجھنا اور برتنا سیکھیں؛ کیونکہ ہر بات الفاظ سے نہیں، بعض حقیقتیں سکوت سے بھی بیان ہو جاتی ہیں۔
شہناز کی فکری پختگی ایک گہرے فلسفے میں اپنے اسرار کی تہہ، ایک پراسراریت سے شروع ہو کر ایک معنی خیز خاموشی میں ہمیشہ پرکھنے اور جاننے کے اس عمل سے گزر رہی ہے: کون کیا کر رہا ہے؟ کیوں کر رہا ہے؟ بلکہ میں کیا کرتی ہوں اور کیا سیکھتی ہوں؟
شہناز عمل کو محض اظہار تک محدود نہیں کرتی ہے، بلکہ اظہار کو عمل کے ماتحت رکھتی ہے۔ شہناز صرف آج کی نہیں بلکہ کل کی دنیا میں ہوتی ہے۔
کمانڈر شہناز تھامس پین کے اس سادہ مگر گہرے فلسفے پر پورا بھروسہ رکھتی ہیں۔ بقولِ تھامس پین: “کوئی بھی ادارہ چاہے کتنا ہی اچھے مقاصد کا دعویٰ کرے، اگر اس پر کوئی نگران نہیں اور وہ اپنے فیصلوں کا حساب دینے سے انکار کرتا ہے، تو اس پر اندھا اعتماد کرنا تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔”
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔
















































