ٹیکری ایجوکیشن سینٹر کے تیرہ سال اور اللہ بخش کی جبری گمشدگی
تحریر: حسن بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
ٹیکری ایک پسماندہ بستی ہے۔ سمندر کے کنارے آباد ان بستیوں کی زندگی شاید باہر سے بہت خوبصورت دکھائی دیتی ہے، مگر یہاں رہنے والوں سے پوچھو تو معلوم ہوگا کہ سمندر صرف روزگار نہیں دیتا، اپنے ساتھ بہت سی محرومیاں بھی لاتا ہے۔ ٹیکری کے لوگوں کا پیشہ ماہی گیری ہے، کوئی نمک کا کام کرتا ہے تو کوئی گھر سے دور کمپنیوں میں ملازمت کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ اس بستی کی محرومی صرف غربت نہیں تھی بلکہ بنیادی حقوق کی عدم دستیابی تھی، تعلیم اور صحت تھی۔
ایک وقت تھا جب ٹیکری میں میٹرک پاس نوجوان بھی بہت کم تھے۔ اعلیٰ تعلیم تو جیسے کسی اور دنیا کی چیز تھی۔ یونیورسٹی، ڈگری، کتابیں، تحقیق، یہ سب الفاظ اس بستی کے بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ نہیں تھے۔
پھر کچھ لوگوں نے سوچا کہ اگر حالات نہیں بدل رہے تو شاید ہمیں حالات بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اور یوں ایک چھوٹا سا چراغ جلایا گیا۔
ٹیکری ایجوکیشن سینٹر۔
نہ وسائل تھے، نہ بڑی عمارت۔ چند دریاں تھیں، کچھ کتابیں تھیں اور کچھ ایسے لوگ تھے جنہوں نے یہ ماننے سے انکار کر دیا تھا کہ غریب بستیوں کے بچوں کے خواب بھی غریب ہوتے ہیں۔
یہیں سے ایک سفر شروع ہوا۔
ایک ایسا سفر جس نے آہستہ آہستہ ٹیکری کی شناخت بدلنا شروع کر دی۔
وہ بچے جو کبھی سوچتے تھے کہ ان کی زندگی کشتی، جال، سمندر اور مزدوری تک محدود ہے، انہوں نے کتابوں میں اپنے لیے نئی دنیا تلاش کرنا شروع کر دی۔
کسی نے میٹرک کیا۔ کسی نے کالج میں قدم رکھا۔ کسی نے یونیورسٹی کا رخ کیا۔ کسی نے ڈگری حاصل کی۔ کسی نے ملازمت حاصل کی۔ اور کسی نے واپس آ کر اسی بستی کے بچوں کے ہاتھ میں کتاب تھما دی۔
یہ تبدیلی ایک دن میں نہیں آئی۔ اس کے پیچھے تیرہ برس کی محنت تھی۔ تیرہ برس کا صبر تھا۔ تیرہ برس کی امید تھی۔
اور ان تیرہ برسوں میں ایک نام بھی اس سفر کے ساتھ جڑتا گیا۔
اللہ بخش۔
وہی اللہ بخش جو کبھی اس ادارے میں ایک طالب علم کی حیثیت سے بیٹھا تھا۔ پھر وقت نے اسے طالب علم سے استاد بنایا۔ اور استاد سے اس ادارے کی ذمہ داری سنبھالنے والے شخص تک پہنچا دیا۔
شاید اس سے خوبصورت کامیابی کسی تعلیمی ادارے کی اور کیا ہو سکتی ہے کہ جس بچے نے کبھی خود وہاں بیٹھ کر پڑھا ہو، ایک دن وہی دوسروں کے لیے تعلیم کا راستہ بنانے لگے۔
اللہ بخش کی اپنی زندگی بھی آسان نہیں تھی۔ وہ جسمانی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔ مگر شاید اس نے اپنی زندگی سے یہ سیکھ لیا تھا کہ انسان کی اصل کمزوری جسم میں نہیں، حوصلہ ہارنے میں ہوتی ہے۔
وہ بچوں کو صرف سبق نہیں پڑھاتا تھا۔ وہ انہیں یقین دیتا تھا۔ یقین کہ تمہاری بستی چھوٹی ہو سکتی ہے، مگر تمہارے خواب چھوٹے نہیں ہونے چاہئیں۔ یقین کہ غربت تمہاری پہچان نہیں۔ یقین کہ محرومی تمہاری تقدیر نہیں۔ اور یقین کہ تعلیم انسان کو صرف روزگار نہیں دیتی، اسے اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔
دو اگست کو ٹیکری ایجوکیشن سینٹر کو تیرہ سال مکمل ہوئے۔ اللہ بخش اور ساتھیوں نے تیرہ سال کی مناسبت سے پروگرام یکم اگست کو منعقد کیے کیونکہ دو اگست کو اتوار کا دن تھا، اس لیے انہوں نے اتوار کو بچوں کو بلانے کے بجائے ہفتے کے دن ہی پروگرام منعقد کیا۔
تیرہ سال! ایک ایسے علاقے میں جہاں کبھی تعلیم ایک خواب تھی، تیرہ سال تک ایک چراغ کا جلتے رہنا معمولی بات نہیں۔
یہ تیرہ سال صرف ایک ادارے کے نہیں تھے۔ یہ ان ماؤں کے تھے جنہوں نے اپنے بچوں کو کتابیں پکڑائیں۔ ان باپوں کے تھے جنہوں نے اپنی محدود آمدنی میں بچوں کی تعلیم کا سوچا۔ ان استادوں کے تھے جنہوں نے کم وسائل میں نسلیں بنانے کی کوشش کی۔ اور ان بچوں کے تھے جنہوں نے سمندر کے شور میں بھی کتاب کے لفظوں کو سننے کی کوشش کی۔
مگر کبھی کبھی زندگی اپنی سب سے خوبصورت کہانی کے بیچ میں اچانک ایک ایسا موڑ لے آتی ہے جہاں لفظ کم پڑ جاتے ہیں۔
تیرہ سال مکمل ہونے کے چند گھنٹے بعد، اسی چراغ کے ایک اہم کردار، اللہ بخش کو رات کے اندھیرے میں گھر سے جبری گمشدہ کر دیا گیا۔ جب ایک دن پہلے ہی لوگ تعلیم کے اس سفر کے تیرہ سال مکمل ہونے کی خوشی منا چکے تھے۔
جب ایک استاد، ایک تعلیمی کارکن اور ایک معذور انسان اپنے معمول کے مطابق اپنے گھر میں تھا۔
اور پھر وہ نہیں تھا۔
کیونکہ رینجرز اور سادہ وردی میں ملبوس اہلکار اسے اٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔
اور سب سے بڑا سوال: ایک ایسے شخص سے ریاست کو کیا خطرہ ہو سکتا ہے جس نے اپنی زندگی بچوں کو پڑھانے میں گزار دی؟ ایک ایسے شخص سے جو خود معذوری کے باوجود دوسروں کے لیے راستے بناتا رہا؟ ایک ایسے شخص سے جس کا سب سے بڑا ہتھیار کتاب تھی؟ ایک ایسے شخص سے جس نے بندوق نہیں، قلم اٹھایا؟
یہ سوال صرف اللہ بخش کے گھر کا نہیں۔ یہ ٹیکری کے ہر اس بچے کا سوال ہے جو آج بھی کتاب ہاتھ میں لے کر بیٹھا ہے۔ وہ بچہ جو شاید یہ سوچ رہا ہوگا کہ جس شخص نے اسے پڑھنا سکھایا، وہ خود کہاں چلا گیا؟
یہ ان والدین کا سوال ہے جو اپنے بچوں کو ٹیکری ایجوکیشن سینٹر بھیجتے ہیں۔ یہ ان نوجوانوں کا سوال ہے جنہوں نے اس ادارے سے نکل کر اپنی زندگیوں کا رخ بدلا۔ اور یہ اس معاشرے کا سوال ہے جو ہر روز اپنے شہریوں سے قانون کی پاسداری کا مطالبہ کرتا ہے۔
اگر ریاست کسی شہری پر الزام عائد کرتی ہے تو اس کے پاس قانون ہے۔ عدالت ہے۔ تفتیش ہے۔ ثبوت ہیں۔ مقدمہ ہے۔
مگر کسی انسان کو اس طرح اٹھا لیا جانا کہ اس کا خاندان اس کی خیریت تک سے بے خبر ہو جائے، ایک ایسا زخم ہے جو صرف ایک گھر کو نہیں، پورے معاشرے کو لگتا ہے۔
ایک طرف تیرہ سال تک ایک ادارہ اندھیرے میں روشنی پھیلانے کی کوشش کرتا رہا۔ دوسری طرف اسی تیرہ سالہ سفر کی خوشی کے فوراً بعد ایک انسان رات کے اندھیرے میں غائب ہو گیا۔
ایک طرف بچوں کو یہ سکھایا گیا کہ علم سوال کرنا سکھاتا ہے۔ دوسری طرف آج ایک پورا علاقہ سوال کر رہا ہے: اللہ بخش کہاں ہے؟
ٹیکری نے تیرہ سال میں بہت کچھ بدلتے دیکھا ہے۔ اس نے بچوں کو طالب علم بنتے دیکھا۔ طالب علموں کو گریجویٹ بنتے دیکھا۔ اور گریجویٹس کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتے دیکھا۔
مگر آج ٹیکری کی نظریں ایک اور منظر دیکھنے کی منتظر ہیں۔
وہ دن جب اللہ بخش واپس اپنے بچوں کے درمیان کھڑا ہوگا۔
وہی بچے جنہیں وہ خواب دیکھنا سکھاتا تھا۔
شاید وہ دوبارہ کسی کلاس میں جائے گا۔ شاید کسی بچے سے کہے گا، “چلو، آج حساب کا سوال حل کرتے ہیں۔” اور شاید وہ بچہ مسکرا کر سوچے گا کہ جس شخص نے اسے زندگی کے مشکل سوال حل کرنا سکھایا، وہ خود بھی ایک دن اس مشکل سے واپس آ گیا۔
ہمیں امید رکھنی چاہیے۔ مگر امید کے ساتھ سوال بھی زندہ رہنا چاہیے۔ کیونکہ سوال کرنا بغاوت نہیں، انصاف مانگنا جرم نہیں۔
ٹیکری کو اپنے چراغ کی واپسی چاہیے۔ اللہ بخش کی واپسی چاہیے۔ اور اگر اس پر کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔
کیونکہ ایک پسماندہ بستی میں تیرہ سال تک تعلیم کا چراغ جلانے والے انسان کو اندھیرے میں غائب کر دینا صرف ایک شخص کی گمشدگی نہیں۔
یہ اس سوال کی گمشدگی بھی ہے کہ کیا اس ملک میں کتاب اٹھانے والے ہاتھ واقعی محفوظ ہیں؟
ٹیکری کے سمندر میں لہریں آج بھی اٹھ رہی ہیں۔ نمک کے میدان آج بھی سورج میں چمک رہے ہیں۔ ٹیکری ایجوکیشن سینٹر آج بھی کھڑا ہے۔ بچے آج بھی کتابیں اٹھائے ہوئے ہیں۔ اور شاید یہی اس بستی کی سب سے بڑی طاقت ہے کہ اندھیرے کے باوجود چراغ ابھی بجھا نہیں۔
وہ چراغ جل رہا ہے۔
اور اس چراغ کی روشنی میں ایک سوال آج بھی صاف دکھائی دے رہا ہے:
اللہ بخش کہاں ہے؟
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































