قومی آزای کے راہ میں شہید ہونے والے عظیم سیاسی سپوت رضا جہانگیر اور امداد بجیر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں – بی ایس او آزاد

39

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے ترجمان شولان بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کی قومی تاریخ ان عظیم فرزندوں سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے قومی آزادی کی خاطر جدوجہد کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، اپنے زندگی کے تمام تِر خواہشات اور لمحات کو قومی آزادی پر وقف کرنے سے آخری سانس تک جدوجہد کرنے والے ان عظیم فرزندوں کی بدولت آج نہ صرف ہمارے سر فخر سے بلند ہیں بلکہ آزادی کے جدوجہد اپنے منزِل مقصود تک رواں دواں ہے۔ ان عظیم فرزندوں میں سے بی ایس او آزاد کے مرکزی سکریٹری جنرل شہید رضا جہانگیر اور بی این ایم کے دمگی رہنما شہید امداد بجیر، قومی تحریک کے وہ عظیم سپوت تھے جنہوں نے قومی آزای کی خاطر شہادت کا اعلیٰ رتبہ حاصل کرکے ہمیشہ بلوچ قومی تاریخ میں امر ہوگئے۔

ترجمان نے کہا کہ شہید رضا جہانگیر اور امدام بجیر وہ سیاسی رہنما تھے جو اپنے عوام کے اندر رہ کر قوم کو آزادی کے خاطر نہ صرف شعور دے رہے تھے بلکہ ان کی رہنمائی کرتے ہوئے ایک آزاد و خوشحال بلوچ سماج قائم کرنے پر عمل پیرا تھے۔ وہ بہادری اور پختہ نظریہ سے لیس ہر کھٹن حالات میں بلوچستان کے کوچہ بہ کوچہ دورہ کرکے بلوچ عوام کو آزادی کی درس دینے میں صفہِ اول پر کھڑے تھے۔ جب قابض پاکستانی ریاست کی طرف سے بلوچستان میں ظلم و جارحیت جاری تھا اور ہر بلوچ سیاسی کارکن اور رہنما قابض کے نشانے پر تھا تو رضا جہانگیر اور امداد بجیر جیسے سپوتوں نے میدان چھوڑنے کے بجائے جبر تلے رِہ کر جدوجہد جاری رکھا۔

انہوں نے کہا کہ 14 اگست جو بلوچ قومی تاریخ میں ایک سیاہ دن کے طورپر یاد کی جاتی ہے، جب رضاجہانگیر مکران میں تنظیمی دورے پر تھے تو 14 اگست 2013 کو قابض ریاست نے شہید امدام بجیر کے گھر پر جارحیت کا آغاز کرتے ہوئے ان عظیم سیاسی سپوتوں کو شہید کردیا۔ ایک بار پھر قابض نے اپنی ظلم اور جبر سے اس سیاد دن کو بلوچ قومی تاریخ میں تازہ کردیا۔ یہ وہی دن تھا جب ناجائز اور مصنوعی ریاست پاکستان کی تشکیل کی گئی، جو بلوچ کے لیے ایک ظالم اور جابر ریاست کے طور پر سامنے آیا اور بلوچستان سمیت خطے میں ایک ملک کے نام پر سیاہ دھبا بن کر ابھرا۔ اسی نسل کشی کو جاری رکھتے ہوئے قابض نے دو عظیم سیاسی سپوتوں کو شہید کرکے ہماری یاداشتوں کو مزید تر و تازہ کردیا۔ مگر یہ قابض کی بھول تھی، آزادی کی راہ میں شہید ہونے والے فرزند تاریخ میں مٹتے نہیں بلکہ امر ہوکر مزید مضبوط فکر کی شکل میں ابھر کر قوم کے اندر پیوست ہوتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ قومی آزای کے راہ میں شہید ہونے والے عظیم سیاسی سپوت رضا جہانگیر اور امداد بجیر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی محاذ پر ڈٹ کر قابض کا مقابلہ کرکے بلوچ قوم کے اندر آزادی کی مشعل روشن کی اور آخری سانس تک قومی آزادی کے جدوجہد کو منظم کرنے میں شہادت کا اعلیٰ رتبہ حاصل کیا۔ قابض نے بی ایس او آزاد کے مرکزی سکریٹری جنرل کو شہید کرکے ہمیں کمزور کرنے کے کوشش کی مگر بی ایس او آزاد سمیت قومی تحریک مزید منظم ہوکر آزادی کی جدوجہد کو منزلِ آزادی تک لے جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ نوجوان، ان عظیم بلوچ فرزندوں کے کرداروں کو اپنا درس سمجھ کر ان کی پیروی کریں اور قومی آزادی کی جدوجہد کا نہ صرف حصہ بنیں بلکہ اپنی تمام تِر توانائی اور عارضی خواہشات کو دیرپا جدوجہد میں منتقل کرکے آزادی کی تحریک کو کامیاب بنائیں۔