بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے پنجگور سے تعلق رکھنے والے دو جبری لاپتہ افراد، سلمان بنگلزئی اور عطاءاللہ بلوچ، کے ماورائے عدالت قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں واقعات بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، حراستی تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے جاری سلسلے کی عکاسی کرتے ہیں۔
بی وائی سی کے مطابق پنجگور کے علاقے خداآبادان کے رہائشی 33 سالہ دکاندار سلمان بنگلزئی ولد عبدالنبی بنگلزئی کو عید الفطر 2026 کے کچھ ہی عرصے بعد جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ کئی ماہ تک غیر قانونی حراست اور تشدد کے مراکز میں رہے، جس کے بعد 31 جولائی 2026 کو پنجگور کے علاقے سے ان کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی۔
بیان میں کہا گیا کہ سلمان بنگلزئی اپنے خاندان کی کفالت کرنے والے ایک محنت کش دکاندار تھے، جنہیں ان کے اہلِ خانہ سے اچانک جدا کر دیا گیا۔ اہلِ خانہ کئی روز تک ان کی واپسی کے منتظر رہے، تاہم انہیں اپنے پیارے کی لاش وصول کرنا پڑی۔
اسی طرح بی وائی سی نے بتایا کہ خضدار کے رہائشی 35 سالہ عطاءاللہ بلوچ ولد فقیر جان بلوچ کو 24 مارچ 2026 کو پنجگور سے آئی ایس آئی، سی ٹی ڈی اور ایم آئی کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کیا۔ تنظیم کے مطابق وہ تقریباً تین ماہ تک غیر قانونی حراست اور تشدد کا شکار رہے، جس کے بعد 21 جون 2026 کو پنجگور میں انہیں ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔
بی وائی سی کا کہنا ہے کہ عطاءاللہ بلوچ کا خاندان تین ماہ تک امید اور خوف کے درمیان زندگی گزارتا رہا، جبکہ مسلسل غیر یقینی صورتحال خود ایک اذیت بن گئی۔
تنظیم نے کہا کہ سلمان بنگلزئی اور عطاءاللہ بلوچ کے واقعات انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کی تازہ مثال ہیں جن پر طویل عرصے سے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بی وائی سی نے اقوام متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار عناصر کا احتساب یقینی بنانے اور ان واقعات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

















































