جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری بند اور لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔نصراللہ بلوچ

12

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے زیرِ اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ 6243ویں روز میں داخل ہوگیا۔

احتجاجی کیمپ میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین سمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور جبری گمشدگیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیاں ملکی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ ایک مہذب اور جمہوری معاشرے میں ایسے عمل کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ ایک فرد کی جبری گمشدگی سے نہ صرف اس کا پورا خاندان متاثر ہوتا ہے بلکہ اس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے اور تمام جبری لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔ اگر کسی شخص پر کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ وہ اپنے خلاف الزامات کا سامنا کرسکے اور اسے قانونی حقوق حاصل ہوں۔

نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے باعث لاپتہ افراد کے خاندان طویل عرصے سے شدید ذہنی اذیت، کرب اور بے یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو انسانی بنیادوں پر اس مسئلے کے فوری حل کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔