کوئٹہ، ڈیرہ بگٹی اور کراچی سے چار افراد جبری لاپتہ، چار افراد بازیاب

7

بلوچستان اور کراچی میں جبری گمشدگیوں کے مزید چار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ جبری گمشدگی کے بعد چار افراد کی بازیابی بھی سامنے آئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 26 اگست 2026 کو کوئٹہ کے علاقے کچی بیگ سے مجید شاہوانی ولد علی اکبر اور 17 سالہ عبدالرزاق ولد کبیر احمد کو رات 9 بجے سی ٹی ڈی اور پولیس نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

اسی طرح 29 اگست 2026 کو ڈیرہ بگٹی سے 40 سالہ دکاندار صدام بگٹی ولد مہوت خان کو شام 4 بجے پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

ایک اور کیس میں 31 جولائی 2026 کو کوئٹہ سے 23 سالہ محمد نصیر ولد عبدالکریم کو رات 3 بجے گھر سے سی ٹی ڈی نے حراست میں لیا، جس کے بعد وہ جبری طور پر لاپتہ ہوگئے۔

دوسری جانب جبری گمشدگی کے بعد چار افراد کی بازیابی بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق کراچی کے علاقے ٹکری ولیج ماری پور سے 16 اگست کو جبری طور پر لاپتہ کیے گئے امیر ولد احمد کو 29 اگست کو ماری پور کراچی سے بازیاب ہوا۔

اسی طرح 28 اگست کو کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے یاسر علی ولد نصیر احمد کو 30 اگست کو بازیاب ہوا۔

کراچی کے حاجی شاہ علی ولیج شرفی ملیر سے 29 جولائی کو جبری طور پر لاپتہ کیے گئے یونس بلوچ ولد انور کو 29 اگست کو جبری گمشدگی کے بعد حیدرآباد سندھ سے بازیاب ہوا، جبکہ اسی علاقے سے یکم اگست کو جبری طور پر لاپتہ کیے گئے نیاز ولد رشید کو بھی 29 اگست کو حاجی شاہ علی ولیج شرفی ملیر سے بازیاب ہوا۔