بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ تنظیم ملیر میں ایجوکیشن سٹی کے نام پر مقامی زمینوں، گوٹھوں اور زرعی خطے کو متاثر کرنے کے خلاف جاری عوامی جدوجہد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ ترقی اور تعلیم کسی بھی معاشرے کی ضرورت ہیں، لیکن ایسی ترقی جو مقامی لوگوں کو ان کی آبائی زمین، گھروں، روزگار، ماحول اور شناخت سے محروم کرکے مسلط کی جائے، اسے عوامی ترقی کے بجائے عوام دشمنی ہی کہا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ آج ایجو کیشن سٹی کے نام پر ملیر کی زمینوں کو مقامی آبادی سے چھیننے کی کوشش دراصل پیپلز پارٹی کی جانب سے بلوچ آبادیوں کی زمین اور اجتماعی وجود کے خلاف اختیار کی جانے والی بلوچ دشمن پالیسیوں کی انتہا ہے۔ ملیر میں صدیوں سے بلوچ آباد ہیں اور اس خطے کی زمینیں، زرعی زندگی اور مقامی سماج ان کی تاریخی شناخت کا حصہ ہیں۔ ان زمینوں کو ایک منصوبے کے تحت مقامی آبادی سے چھیننے کی کوشش دراصل ان کے تاریخی اور اجتماعی وجود کو کمزور کرنے کی پالیسی ہے۔
بی وائی سی نے کہا ہے کہ ایجوکیشن سٹی کے منصوبے سے ملیر کی چھ دیہوں میں تقریباً 20 ہزار ایکڑ زمین متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ 80 سے زائد گوٹھوں، قدیم قبرستانوں، تاریخی مقامات اور زرعی زمینوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ تقریباً ایک ہزار ایکڑ زمین کو فوری طور پر منصوبے کے لیے حاصل کرنے کا عمل مقامی آبادی کے زمین سے متعلق حقوق کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
مزید کہا ہے کہ بین الاقوامی اصول بھی مقامی و مقامی باشندوں کے زمین سے متعلق حقوق کو تسلیم کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے اعلامیہ برائے حقوقِ مقامی اقوام (UNDRIP) کے آرٹیکل 26 کے تحت مقامی اقوام کو اپنی روایتی طور پر زیرِ استعمال یا زیرِ قبضہ زمینوں اور وسائل پر حقوق حاصل ہیں، جبکہ آرٹیکل 32 کے مطابق ان کی زمین یا وسائل کو متاثر کرنے والے منصوبوں کی منظوری سے قبل ریاستوں کو متعلقہ آبادی سے بامعنی مشاورت اور آزاد، پیشگی اور باخبر رضامندی حاصل کرنے کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔
ترجمان نے کہا ہے کہ فقیر محمد بلوچ گوٹھ میں متاثرین کی جاری احتجاجی بیٹھک اس بات کا اظہار ہے کہ مقامی افراد اپنی زمینوں کے مستقبل کا فیصلہ بند کمروں میں نہیں ہونے دیں گے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی 29 اگست بروز ہفتہ کو ملیر لنک روڈ پر ضیاءالدین یونیورسٹی کے سامنے ہونے والے پُرامن احتجاج کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور تمام باشعور شہریوں سے اس جدوجہد میں شرکت کی اپیل کرتی ہے۔
آخر میں کہا ہے کہ ہم تمام سیاسی، سماجی، انسانی حقوق، ماحولیاتی، وکلا، صحافتی، طلبہ اور سول سوسائٹی کے حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ملیر کے عوام کی اس پُرامن اور جمہوری جدوجہد کا ساتھ دیں۔ اور متعلقہ حکام کے سامنے یہ مطالبہ رکھا جائے کہ مقامی آبادی کی رضامندی کے خلاف زمینوں پر قبضہ، جبری بے دخلے، زرعی زمینوں کی تباہی اور تاریخی مقامات کو خطرے میں ڈالنے کے عمل کو فوری طور پر روکا جائے۔
















































