بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں 5 جولائی 2026 کو رات 9 بجے، مستونگ شہر میں بس اڈہ، قبرستان اور اسٹیڈیم روڈ کے اطراف معمول کے گشت پر تھے کہ اس دوران پولیس سے ان کا سامنا ہوا۔ پولیس نے سرمچاروں کو دیکھتے ہی فائرنگ شروع کر دی، جس پر سرمچاروں نے پوزیشن سنبھال کر بھرپور جوابی کارروائی سرانجام دی۔اس جوابی کارروائی کے نتیجے میں پولیس کی گاڑی ناکارہ ہوگئی جبکہ اس میں سوار 3 اہلکار زخمی ہوئے۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ مقامی پولیس اہلکاروں اور دیگر محکموں کے کارندوں کو آخری بار سخت الفاظ میں تنبیہ کرتی ہے کہ وہ قابض ریاست کے آلہ کار بن کر بلوچ قومی تحریک اور سرمچاروں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائیوں، ناکہ بندیوں یا مخبری سے فوری طور پر باز رہیں۔ مستونگ شہر کا حالیہ واقعہ ان عناصر کے لیے ایک واضع پیغام ہے کہ اگر انہوں نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھانے یا قابض فوج کے فرنٹ لائن کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی، تو ہمارے سرمچار ان پر رحم نہیں کریں گے۔ ہماری جنگ بلوچستان کی مکمل آزادی تک جاری رہے گی اور جو کوئی بھی قوت اس راہ میں رکاوٹ بنے گا، وہ اپنے جانی و مالی نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا۔ پولیس اہلکار اپنی نوکریوں اور وقتی مفادات کی خاطر اپنے ہی لوگوں کے خلاف استعمال ہونا بند کریں، ورنہ ان کے خلاف کارروائیوں میں مزید شدت لائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 3 جولائی 2026 کو خضدار کے علاقے نوغے میں پیش قدمی کرنے والے قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو گھات حملے میں نشانہ بنایا۔ دشمن کا یہ قافلہ 18 فوجی گاڑیوں، بکتر بند گاڑیوں اور پیدل گشتی دستوں پر مشتمل تھا۔
اس کارروائی کے دوران سرمچاروں نے قابض فوج کے اس طویل قافلے پر مختلف سمتوں سے بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں قافلے میں شامل ایک فوجی گاڑی اور پیدل چلنے والے اہلکار حملے کی زد میں آئے۔ فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں سوار 2 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ سرمچاروں نے قافلے کی دیگر گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ان گاڑیوں میں سوار کئی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
سرمچاروں کے اس حملے سے قابض فوجی حواس باختہ ہو گئے اور انہوں نے اپنی روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قریبی علاقوں میں عام آبادی پر مشین گنز سے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور مارٹر کے گولے داغے، جس کی زد میں آ کر ایک مقامی خاتون زخمی ہو گئی۔ سرمچاروں کی اس کارروائی کے نتیجے میں قابض فوج پسپا ہونے اور پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی۔ کارروائی کے بعد تمام سرمچار اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 3 جولائی 2026 کو مستونگ کے علاقے کڈ کوچہ میں گرو بدرنگ کے مقام پر شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے اسے اپنے مکمل کنٹرول میں لے لیا۔ ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے قومی وسائل کھسوٹ میں شامل سیندک پروجیکٹ کے تیل سے لدے 3 بڑے آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا کر ناکارہ کر دیا۔ قابض فوج، سی ٹی ڈی (CTD) اور بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل دشمن کا ایک دستہ ناکہ بندی کو ختم کرنے کے عزائم لئے ہمارے سرمچاروں کے قریب پہنچا، جس پر وہاں پہلے سے پوزیشن سنبھالے سرمچاروں نے ان پر حملہ کر دیا۔ ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں قابض فوج کے 3 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ قابض فوج کی ایک بکتر بند گاڑی اور سی ٹی ڈی کی ایک گاڑی اس جھڑپ کی زد میں آ کر تباہ ہو گئیں۔ دشمن فوج کی تین گاڑیوں پر مشتمل ایک اور دستے نے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، تاہم سرمچاروں کے حفاظتی دستے نے ان پر بھی حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں دو گاڑیاں فوراً پسپا ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئیں، جبکہ دشمن کی تیسری گاڑی حملے کی زد میں آ کر ناکارہ ہو گئی اور اس میں سوار متعدد فوجی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف کے سرمچاروں نے 3 جولائی 2026 کو بیسمہ کے علاقے پتک میں اہم شاہراہ پر عارضی چیک پوسٹ قائم کر کے ناکہ بندی کی۔ اس کارروائی کے دوران سرمچاروں نے شاہراہ پر آمد و رفت کو روک کر تمام گاڑیوں کو تلاشی کا عمل شروع کیا۔ اس ناکہ بندی کا بنیادی مقصد علاقے پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنا، قابض فوج کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا اور وہاں سے گزرنے والے دشمن کے مقامی سہولت کاروں اور مخبروں کا محاسبہ کرنا تھا۔ سرمچاروں نے انتہائی نظم و ضبط کے ساتھ اس مہم کو سرانجام دیا اور اپنے اہداف حاصل کرنے کے بعد باحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں کی طرف روانہ ہو گئے۔
ترجمان نے کہا کہ ہمارے سرمچاروں نے 3 جولائی 2026 کو مند کے علاقے شیپچار کور پر قائم قابض فوج کی چوکی پر تعینات ایک فوجی اہلکار کو اسنائپر حملے کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
سرمچاروں نے یکم جولائی 2026 کو خضدار میں کراچی کوئٹہ آر سی ڈی شاہراہ پر، وڈھ کے علاقے سنگری بروتیاں میں پُل کے مقام پر عارضی چیک پوسٹ قائم کر کے ناکہ بندی کی اور مسلسل چار گھنٹوں تک شاہراہ پر مکمل کنٹرول برقرار رکھا۔ اس کارروائی کے دوران نہ صرف پوری شاہراہ بلکہ قریبی ہوٹل اور ارد گرد کا پورا علاقہ سرمچاروں کی زیرِ کنٹرول رہا ہے۔ ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے شاہراہ پر موجود عوام کی بڑی تعداد کو تحریکِ آزادی کے اغراض و مقاصد اور موجودہ صورتحال سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ اس طویل ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے شاہراہ پر واقع ایک اہم مواصلاتی پُل کو بھی تباہ کرکے ناکارہ بنا دیا۔ چار گھنٹے پر محیط اس آپریشن کے دوران خوفزدہ دشمن فوج نے دور سے سرمچاروں پر مارٹر گولے فائر کیے اور فائرنگ کر کے ناکہ بندی کو توڑنے کی ناکام کوشش کی، تاہم سرمچاروں نے انتہائی نظم و ضبط اور دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ناکہ بندی کو برقرار رکھا۔
شام چھ بجے کے قریب پاکستانی فوج کی چار گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلے نے پیش قدمی کرتے ہوئے سرمچاروں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔ تاہم، وہاں پہلے سے گھات لگائے سرمچاروں نے ناکہ بندی کے مقام کے انتہائی قریب پہنچنے پر فوجی گاڑیوں کے اس قافلے پر حملہ کر کے انہیں نشانہ بنایا۔ سرمچاروں کے حملے کی زد میں آ کر قافلے کی پہلی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جس میں سوار 6 فوجی اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی، سرمچاروں کے حفاظتی دستوں نے پیچھے آنے والی بقیہ تینوں گاڑیوں پر بھی حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں ان گاڑیوں میں سوار متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ سرمچاروں کے اس شدید حملے کے بعد فورسز پسپا ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئیں۔
اپنے تمام عسکری اہداف حاصل کرنے، پُل کی تباہی اور دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کے بعد ناکہ بندی کا سلسلہ کامیابی سے ختم کر کے باحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
سرمچاروں نے یکم جولائی 2026 کو تمپ کے علاقے ریکانی کشک میں قابض فوج کی گشتی ٹیم کو ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اس بم دھماکے کی زد میں آ کر قابض فوج کے 2 اہلکار موقع پر ہی ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔
انہوں نے کہا کہ سرمچاروں نے 28 جون 2026 کو خفیہ اطلاع پر کاروائی کرتے ہوئے کاہان سے سید علی اکبر شاہ عرف ڈاکٹر شافی کو گرفتار کر لیا۔ مذکورہ شخص 12 اپریل کو پیش آنے والے المناک سانحے، جس میں بالاچ لوہارانی بلوچ اور ان کے خاندان کے 9 افراد شہید ہوئے ہیں، اس میں دشمن فوج کے لیے مخبری اور براہِ راست سہولت کاری میں ملوث تھا۔ 12 اپریل کو بالاچ لوہارانی کا پورا خاندان ایک سنگل ڈاٹسن گاڑی پر علاقے سے نقل مکانی کر رہا تھا، جس کے دوران قابض فوج نے فائرنگ کر کے بالاچ لوہارانی سمیت خاندان کے 9 افراد کو شہید کر دیا تھا اور بعد ازاں شواہد مٹانے کے لیے لاشوں سمیت گاڑی کو آگ لگا دی تھی۔ اس واقعے کے بعد ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے اس بلوچ خاندان کے بقیہ 6 بچوں اور خواتین کو فرنٹیر کور (ایف سی) کے اہلکار اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔
مذکورہ شخص کو قابض فوج نے 7 اپریل کو کوہلو شہر سے گرفتار کیا تھا۔ دورانِ حراست اس نے دشمن کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تھے اور ایک سودے بازی کے تحت 12 اپریل کو فوج نے اسے ایک گاڑی دے کر اس شرط پر رہا کیا تھا کہ وہ بالاچ لوہارانی کے خاندان کو ورغلا کر یا ٹریس کر کے فورسز کے حوالے کرے۔ اس شخص نے چند وقتی مفادات کے خاطر قابض فوج کا ساتھ دیا اور بالاچ لوہارانی کے معصوم خاندان کو شہید اور گرفتار کروانے کے جرم میں براہِ راست مرکزی مخبر کا کردار ادا کیا۔ وطن اور بلوچ قوم سے غداری اور بالاچ لوہارانی کے مظلوم خاندان کو قتل اور گرفتار کروانے کے جرم کی پاداش میں 29 جون 2026 کو سرمچاروں کی زیرِ نگرانی قائم بلوچ قومی عدالت نے مجرم سید علی اکبر شاہ عرف ڈاکٹر شافی کے خلاف دستیاب تمام ناقابلِ تردید شواہد اور مجرم کے اپنے اعترافِ جرم کی روشنی میں اسے مذکورہ بالا سنگین جرائم کا مرتکب پا کر سزائے موت دے دی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ خضدار، مستونگ اور بیسمہ کے علاقوں میں شاہراہوں کی ناکہ بندی، پولیس اہلکاروں پر جوابی کاروائیوں، فورسز کے ساتھ جھڑپوں، فوجی قافلوں پر حملوں، مواصلاتی پُل کی تباہی، تمپ میں قابض فوج پر آئی ای ڈی (IED) اور مند میں اسنائپر حملے اور کاہان میں قومی غدار کو سزائے موت دینے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔














































