کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم کے چیرمین نصراللہ بلوچ کی قیادت میں 6213ویں روز بھی جاری رہا۔
اس دوران بی ایس او پجار کے مرکزی سیکرٹری جنرل ابرار بلوچ اور فیض امیر نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کرکے اظہارِ یکجہتی کیا۔
اس موقع پر بی ایس او پجار کے مرکزی سیکرٹری جنرل ابرار بلوچ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی ایس او پجار کے مرکزی وائس چیئرمین بابل ملک کو رواں سال 29 اپریل کو ملکی اداروں کے اہلکاروں نے پولی ٹیکنیک کالج کے ہاسٹل سے جبری طور پر لاپتہ کیا، تاہم تاحال حکومتی سطح پر نہ تو ان کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں اور نہ ہی ان کی خیریت کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے، جو باعثِ تشویش اور جمہوری روایات کے منافی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جبری گمشدگیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر عملی اقدامات کیے جائیں اور بابل ملک بلوچ سمیت تمام جبری لاپتہ افراد کی فوری بازیابی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لاپتہ افراد پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالتوں میں پیش کیا جائے تاکہ انہیں ملکی قوانین کے مطابق دفاع اور قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہو۔
وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور تمام لاپتہ افراد کی بازیابی تک ان کی پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رہے گی۔



















































