شال کے جمال نگاہِ سائیں سے
تحریر: نوھک بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
کچھ لوگ احساس کی صورت ہمیشہ کے لیے دلوں میں بسیرا کر لیتے ہیں۔ وہ ایسی ابدی خوشبو ہوتے ہیں جو زمانے کی گردش بھی مٹا نہیں سکتی، اور جو شہر کی ہر گلی، ہر موڑ اور ہر فضا میں اپنی مہک چھوڑ جاتی ہے۔ تاریک راتوں میں جب آسمان ستاروں سے آراستہ ہوتا ہے، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر چمکتا ہوا ستارہ ان کی خاموش موجودگی کا گواہ ہو، اور ہر روشنی ان کی یاد کو دل میں پھر سے زندہ کر دیتی ہو۔ ایسے کرداروں میں سے ایک بلال بھی ہے۔
بلال، جو اس وقت بلند پہاڑی چوٹی پر بیٹھا شال کے پھیلے ہوئے حسن کو خاموش نگاہوں سے تک رہا ہے۔ شام کی سنہری دھوپ دھیرے دھیرے افق کی آغوش میں اتر رہی ہے، جبکہ ٹھنڈی اور تیز ہوا اس کے چہرے سے ٹکرا کر یوں محسوس ہوتی ہے جیسے قدرت اس کے دل میں پوشیدہ خاموشیوں کو اپنے ساتھ بہا لے جانا چاہتی ہو۔ وہ پہاڑ کی بلند چوٹی پر خاموش بیٹھا نیچے پھیلی ہوئی وادی کو دیکھ رہا تھا۔ پہاڑ کے دامن سے لپٹی ہوئی سڑک پر بھاری بھر کم ٹرک اور قیمتی گاڑیاں ایک نہ ختم ہونے والے قافلے کی صورت گزر رہی تھیں۔ ہر گزرتی ہوئی گاڑی اس کی نگاہوں میں محض لوہے کا ایک ڈھانچہ نہیں تھی، بلکہ ایک تلخ حقیقت کی چلتی پھرتی تصویر تھی۔ ان گاڑیوں کو دیکھ کر اس کے دل میں درد کی ایک لہر اُٹھتی ہے۔ اس کے دل میں اٹھنے والا درد گاڑیوں کے شور یا ان کی کثرت کا درد نہیں تھا۔ اسے اس بات نے مضطرب کر رکھا تھا کہ یہ وہی گاڑیاں تھیں جن میں اس سرزمین کی لوٹی ہوئی دولت سفر کر رہی تھی۔ ان کے پہیوں کے نیچے صرف سڑک نہیں، بلکہ ان بے شمار بھوکے بچوں کی امیدیں بھی کچلی جا رہی تھیں جو اسی پہاڑ کے عقب میں واقع بستیوں میں فاقوں سے لڑ رہے تھے۔ اس منظر میں اسے صرف گاڑیاں دکھائی نہیں دیتی تھیں، بلکہ ایک ایسا نظام دکھائی دیتا تھا جس نے انسان سے اس کا حق، اس کی شناخت اور اس کی زمین سب کچھ چھین لیا تھا۔ اسی درد کی کوکھ سے دو جذبات جنم لیتے ہیں۔
ایک طرف ان بھوکے انسانوں کے لیے ایسی محبت، جو ان کی بھوک کو اپنی بھوک سمجھنے لگی؛ اور دوسری طرف ان حکمرانوں اور سرمایہ داروں کے لیے ایسی نفرت، جو بھوکوں کے منہ سے نوالہ چھین کر اپنی سلطنتیں آباد کرتے رہے۔ لیکن بلال اس درد کے سفر میں محبت اور نفرت، دونوں کو ایک ساتھ اپنے وجود میں لیے چلتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ محبت کے بغیر درد بے جان ہو جاتا ہے، اور نفرت کے بغیر ظلم کے خلاف مزاحمت جنم نہیں لیتی۔ اسی لیے وہ اپنے درد سے کبھی فرار اختیار نہیں کرتا۔ وہ اس کی گہرائی میں اتر کر اسے پوری شدت سے محسوس کرتا ہے، کیونکہ اس کے نزدیک مکمل درد وہی ہوتا ہے جو محروم انسانوں کے لیے محبت اور ظالم کے خلاف نفرت، دونوں کو ایک ساتھ جنم دے۔ بلال سڑک کے کنارے کھڑا لوگوں کی آمد و رفت کا خاموشی سے مشاہدہ کر رہا تھا۔ مسافر بسیں ایک کے بعد ایک گزر رہی تھیں۔ کوئی بس شال میں داخل ہو رہی تھی، تو کوئی اس شہر کو پیچھے چھوڑ کر اپنی اگلی منزل کی طرف رواں تھی۔ ہر گزرتی ہوئی بس اپنے ساتھ نہ جانے کتنی کہانیاں، کتنی امیدیں اور کتنی جدائیاں لیے سفر کر رہی تھی۔ بلال غلامی کے اس درد کو اپنے سینے میں دفن کیے خاموش بیٹھا رہا۔ اسی خاموشی میں اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ بھی اس جدوجہد کے سفر کا ایک مسافر بنے گا۔ ایسا مسافر جو راستے کی سختیوں سے نہیں، بلکہ مقصد کی عظمت سے اپنی سمت طے کرتا ہے۔
اتنے میں پرندوں کا ایک جھنڈ فضا کو چیرتا ہوا اس کے سر کے عین اوپر سے گزرا۔ ان کے پروں کی سرسراہٹ نے اس کی گہری سوچ کو توڑ دیا۔ اس نے بے اختیار سر اٹھایا، اور اس کی نگاہیں وسیع آسمان میں آزاد پرواز کرتے پرندوں پر جا ٹھہریں۔ ایک لمحے کے لیے اسے یوں محسوس ہوا جیسے آزادی نے خود آسمان پر اپنے پر پھیلا دیے ہوں، اور وہ خاموشی سے اسے اپنی طرف بلا رہی ہو۔ وہ سوچنے لگتا ہے کہ کیا یہ میرے باطن سے اٹھنے والے وہ سوال ہیں جو مجھے اندر ہی اندر جھنجھوڑ رہے ہیں، یا واقعی یہ پرندے ہیں جو اپنی پرواز سے شام اور آسمان کو ایک دوسرے میں سمو کر افق پر زردی کی ایک نئی تصویر تخلیق کر رہے ہیں۔ وہ چند لمحوں کے لیے اپنے وجود سے بے نیاز ہو کر اُن پرندوں کی پرواز میں گم ہو جاتا ہے۔ وقت جیسے اپنی رفتار بھول جاتا ہے اور اس کی نگاہیں افق سے بندھ کر رہ جاتی ہیں۔ پھر جب وہ اپنے حواس میں لوٹتا ہے تو سامنے پھیلا آسمان بالکل خالی ہوتا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ابھی چند لمحے پہلے گزرنے والا پرندوں کا وہ شور کبھی تھا ہی نہیں، اور وہ اپنے پیچھے صرف ایک گہری خاموشی، اداس افق اور بے رنگ شام چھوڑ گیا ہو۔ اب وہ پرندے اپنے اپنے کارواں سمیت افق کی وسعتوں میں گم ہو چکے تھے۔ آسمان ایک بار پھر خاموش تھا۔
بلال نے آہستہ سے اپنی نگاہ دائیں جانب موڑی تو سامنے فلک بوس پہاڑ اپنی تمام تر خاموش عظمت کے ساتھ ایستادہ تھے۔ اسی لمحے، بلال اور ان پہاڑوں کے درمیان ایک ایسا مکالمہ جنم لیتا ہے جو لفظوں کا محتاج نہیں، ایک ایسا مکالمہ جس کی نہ کوئی ابتدا دکھائی دیتی ہے اور نہ کوئی انتہا۔ گویا پہاڑ صدیوں سے اس کے آنے کے منتظر تھے، اور بلال برسوں سے اُن کی خاموش زبان سننے کی آرزو اپنے اندر لیے پھر رہا تھا۔ وہ پہاڑوں کو شال کے قصے اور کہانیاں سنانے لگتا ہے۔ ان پہاڑوں کو، جو خود صدیوں سے ان کہانیوں کے خاموش کردار ہیں، جن کی چٹانوں میں وقت کی صدیاں اور تاریخ کے ان گنت راز دفن ہیں۔ انہیں سب کچھ معلوم ہے، پھر بھی وہ خاموشی سے بلال کی باتیں سنتے رہتے ہیں، گویا ہر درد کو دوبارہ سننا بھی تاریخ کی ایک روایت ہو۔ بلال ایک عجیب اطمینان کے ساتھ اپنے دل کے پوشیدہ راز اُن کے سپرد کرتا جاتا ہے۔ وہ پہاڑوں سے پناہ کی التجا نہیں کرتا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ پہاڑ محض پتھروں کے ڈھیر نہیں، بلکہ اپنی آغوش میں ہماری تاریخ کو محفوظ رکھنے والے اور ہمارے مستقبل کی نگہبانی کرنے والے خاموش محافظ ہیں۔ وہ یقین رکھتا ہے کہ ان بلند چوٹیوں سے ہمارے شہیدوں کے لہو کی سرخی کبھی ماند نہیں پڑے گی۔ ان کی قربانیوں کے چشمے ہمیشہ ان پہاڑوں کی رگوں میں رواں رہیں گے، اور آنے والی نسلوں کو یہ یاد دلاتے رہیں گے کہ آزادی کی تاریخ خون سے لکھی جاتی ہے، اور پہاڑ اس تاریخ کے سب سے سچے گواہ ہوتے ہیں۔
ہوا میں خنکی بڑھ چکی تھی اور شام اپنی پوری گہرائی کے ساتھ زمین پر اتر آئی تھی۔ پہاڑوں کے طویل سائے آہستہ آہستہ سڑک کو عبور کرتے ہوئے شال کو اپنی خاموش آغوش میں سمیٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مگر شہر کا آدھے سے زیادہ حصہ ابھی بھی سورج کی آخری کرنوں میں نہایا ہوا تھا، جہاں سنہری روشنی عمارتوں، درختوں اور گلیوں پر اس طرح رقص کر رہی تھی، جیسے دن رخصت ہونے سے پہلے اپنی آخری مسکراہٹ زمین کے نام کرنا چاہتا ہو۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ روشنی اور تاریکی کے درمیان ایک خاموش مکالمہ جاری ہے۔ ایک طرف شام کا سکوت تھا اور دوسری طرف سورج کی آخری سانسیں، جو شال کے وجود سے لپٹ کر ٹھہر جانا چاہتی تھیں۔ ہوا کی شدت لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی تھی۔ بلال اپنی بلند چٹان پر خاموش بیٹھا تھا۔ تیز جھونکے اس کے بالوں کو بار بار بکھیر دیتے، اور وہ ہوا کے ساتھ اس طرح رقص کرنے لگتے جیسے صدیوں سے قفس میں مقید کوئی پرندہ آج پہلی بار آزادی کی وسعتوں میں اپنے پر پھیلا رہا ہو۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ صرف اس کے بال ہی نہیں، بلکہ اس کے اندر قید ہر احساس بھی ہوا کے دوش پر آزاد ہونے کو بے تاب ہے۔ہوا اپنے ساتھ طرح طرح کی خوشبوئیں اٹھائے پھر رہی تھی۔ کبھی بلال کو اس میں تازہ بہتے ہوئے خون کی بو محسوس ہوتی، تو کبھی کسی نئی نویلی دلہن کے مشک آلود لباس کی مہک اس کے وجود کو چھو جاتی۔
یہ شال ہے۔ یہاں کی ہواؤں میں صرف پھولوں کی خوشبو نہیں بسی ہے۔ کبھی کیڑا پڑی لاشوں کی سڑی ہوئی بو ان جھونکوں کا حصہ بن جاتی، کبھی کیچ میں جلتے ہوئے گھروں کی راکھ کی باس فضا میں گھل جاتی، اور کبھی گوادر کے سمندر سے اٹھتی ہوئی بجھتی آگ کی مہک خاموشی سے ہوا کے دامن میں سمٹ کر اس تک پہنچتی ہے۔ یہاں ہر خوشبو اپنے اندر ایک داستان رکھتی ہے، کوئی داستان زندگی کی، کوئی محبت کی، اور کوئی ایسی تاریخ کی جسے وقت بھی آج تک دفن نہ کر سکا۔ وہ بلال، جو ابھی تک ہوا میں بکھری ہوئی بے شمار خوشبوؤں میں گم تھا، اچانک چاغی میں راکھ ہو جانے والی معصوم بچیوں کے چہروں کی بو محسوس کرنے لگا۔ وہ خوشبو نہیں تھی، ایک ایسا کرب تھا جو ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ اس کی روح میں اترتا جا رہا تھا۔ بلال… ہاں، اب وہ سوچنے لگا تھا کہ بارود کی خوشبو آخر کیسی ہوتی ہے؟ وہ اسے محسوس کرنا چاہتا تھا، مگر صرف اس لیے نہیں کہ جنگ کو جان سکے، بلکہ اس لیے کہ ایک دن وہ دشمن کے جلتے ہوئے قافلوں سے اٹھنے والی وہ بو بھی محسوس کرے، جو ظلم کے انجام اور مزاحمت کی فتح کی گواہی دیتی ہے۔
اب آسمان کا ایک گوشہ زردی میں ڈھل چکا تھا۔ شال میں سورج بلند پہاڑوں کے عقب میں وقت سے پہلے ہی پناہ لے لیتا ہے، گویا رخصت ہونے سے پہلے وہ اس شہر کو خاموشی سے رات کے سپرد کر دیتا ہو۔ پہاڑوں کے طویل سائے آہستہ آہستہ پورے شہر پر پھیلنے لگتے، اور شال ایک سرمئی چادر اوڑھے، نہایت سکون اور وقار کے ساتھ رات کا استقبال کرنے لگتا۔ شہر کی بلند و بالا عمارتوں اور ہوٹلوں میں روشنیاں ایک ایک کرکے جگمگانے لگتی ہیں۔ مصنوعی روشنی آہستہ آہستہ رات کی تاریکی سے مقابلہ کرنے کی کوشش کرتی ہے، مگر بلال کی نگاہ میں ان بتیوں کی کوئی وقعت نہیں۔ وہ ہمیشہ مصنوعی روشنی سے زیادہ رات کی فطری تاریکی کو اہمیت دیتا ہے۔ اسی اثنا میں اس کی نظر شہر کے عین وسط میں واقع ایک چھوٹے سے گھر پر ٹھہر جاتی ہے۔ پورا شہر روشنیوں میں نہا چکا تھا، مگر اس گھر میں ابھی تک کوئی چراغ روشن نہیں ہوا تھا۔ وہ گھر اندھیرے میں اس طرح خاموش کھڑا تھا، جیسے اپنے سینے میں کوئی ایسا راز چھپائے بیٹھا ہو جسے روشنی سے نہیں، صرف تاریکی سے نسبت ہو۔
بلال سوچ میں ڈوب گیا۔ اچانک ماضی نے اس کی یادوں کا دروازہ کھول دیا۔”ہاں… یہی تو وہ گھر ہے، جو میرے گھر کے بائیں جانب واقع ہے۔ میرے کمرے کی کھڑکی سے اس چھوٹے سے گھر کا پورا صحن صاف دکھائی دیتا تھا۔”
اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی، جیسے برسوں پرانی کوئی یاد اس کے سینے میں دوبارہ زندہ ہو گئی ہو۔”مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے۔ ہم سب بچے گھر کے باہر کھیل رہے تھے کہ اچانک بڑی بڑی گاڑیوں کا ایک قافلہ آ کر اس گھر کے سامنے رک گیا۔ ایک لمحے میں کھیل کی ہنسی خاموش ہو گئی، اور ہمارے معصوم چہروں پر خوف اتر آیا۔ ہم سب بے اختیار ادھر ادھر بھاگ نکلے۔ میں بھی خوف زدہ ہو کر گھر کے اندر آیا اور اپنے کمرے کی کھڑکی کے پردے میں خود کو اس طرح لپیٹ لیا، جیسے پردے کا وہ نازک سا کپڑا مجھے دنیا کے ہر خوف سے بچا لے گا۔ پھر مجھے باہر سے ایک ہجوم کی مدھم مگر بھاری آوازیں سنائی دینے لگیں۔ ان کے قدموں کی جنبش ایسی تھی کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے زمین اپنے سینے پر کسی ان دیکھے بوجھ کو اٹھائے لرز رہی ہو۔ میں پردے کی اوٹ میں سانس روکے کھڑا تھا، اور میرا ننھا سا دل اپنی ہی دھڑکنوں سے خوف کھا رہا تھا۔ میں نے آہستہ سے پردے کی اوٹ چھوڑی اور کھڑکی کے قریب آ کر باہر جھانکا۔ سامنے ایک ایسا منظر تھا جس نے میرے اندر کا سارا خوف نگل لیا۔ سیاہ نقاب پوشوں نے اس چھوٹے سے گھر کا مکمل گھیراؤ کر رکھا تھا۔ وہ ماں کی بے بس بانہوں سے اس کے جوان بیٹے کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے اپنی طرف لے جا رہے تھے۔ ماں چیخ رہی تھی، بلک رہی تھی۔ وہ ان نقاب پوشوں کے قدموں میں گر گر کر اپنے بیٹے کی بھیک مانگ رہی تھی، مگر اس کی ہر فریاد خاموش دیواروں سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتی تھی۔”
“میں یہ منظر دیکھ رہا تھا، اور عجیب بات یہ تھی کہ میرا اپنا خوف کہیں گم ہو چکا تھا۔ اب صرف اس ماں کی چیخیں باقی تھیں، جو یوں محسوس ہوتی تھیں جیسے زمین و آسمان کے درمیان پھیلی ہوئی خاموشی کو چیر رہی ہوں۔ مگر اُن سیاہ نقاب پوشوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت تھے۔ وہ اس کے آنسوؤں سے پگھلنے کے بجائے اُسے لاتیں مار کر پیچھے دھکیل دیتے۔ وہ لڑکھڑائی، زمین پر گری، اور بے ہوش ہو کر وہیں پڑی رہ گئی۔ اُس لمحے یوں محسوس ہوا جیسے اُس گھر کی چھت پر آسمان ٹوٹ کر بکھر گیا ہو۔ اور وہ سیاہ نقاب پوش، اُس ماں کی آخری امید کو اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے، خاموشی سے دور نکل گئے۔”
اس گھر سے ایک مدت تک چیخوں کی آوازیں آتی رہیں۔ وقت گزرتا رہا، مگر اُن چیخوں کی بازگشت اس گھر کی دیواروں سے کبھی جدا نہ ہو سکی-
بلال… ہاں، اب وہ بھاری آوازوں کو سننے کا عادی ہو چکا تھا۔ وہ اُن سسکتی ہوئی چیخوں کو اپنے ساتھ لے کر، ہر آواز کی گھونج کو محسوس کرنا چاہتا تھا۔ وہ نقاب پوشوں کے بھاری بوٹوں کی گونج ، سریاب کی گلیوں میں اُٹھنے والے ریلیوں میں درد سے لبریز نعروں کی صدا، یہاں سے چلنے والی گولیوں کی آواز، اور اُن چیخوں کی آواز جو ہر بار کسی لاش کو کندھوں پر اُٹھاتے ہوئے فضا میں بکھر جاتی تھیں۔ ہیلی کاپٹروں کی گونج جو رات کی نیم تاریکی میں گھروں پر مارٹر گولے برسا رہی تھی، اور برف کی چادر اوڑھے ان پہاڑوں کی خاموش آواز جو سورج نکلتے ہی پگھلنے لگتی تھی، یہ سب بلال کے اندر ایک عجیب سا شور پیدا کر رہے تھے۔ وہ ہر خاموش گلی کی آواز کو اپنے اندر سموئے جا رہا تھا۔
اب بلال سوچ رہا تھا کہ بارود کے پھٹنے کی آوازیں کیسے ہوتے ہیں؟ دشمن کے جلتے ہوئے سپاہیوں کی چیخوں کی گونج کیسے محسوس ہوتا ہے؟ کیا جسم کے ٹکڑوں کے زمین سے جا ٹکرانے کی بھی کوئی آواز ہوتی ہے؟ وہ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ اگر سینے سے بندھے بارود کے ساتھ کوئی اپنے ہدف تک پہنچنے کے فاصلے کو طے کرے تو اس فاصلے کی آواز کیسی ہوگی؟ کیا وہ ہر قدم پر قریب آتی موت کی گونج ہوگی، یا اپنے مقصد کی خاموش دھڑکن؟ اور جب وطن سے گلے ملنے کا لمحہ آئے گا تو اس مٹی کی خوشی کی سسکیاں کس صورت میں سنائی دیں گی؟ بلال اب اس مقام تک پہنچ چکا تھا جہاں اسے جندندر کے فلسفے کی گونج بھی سنائی دینے لگی تھی۔
اب رات اپنی پوری گہرائی کے ساتھ شہر پر اتر چکی تھی۔ ہوا اب بھی خنک تھی اور فضا میں ایک سرد سکوت پھیلتا جا رہا تھا۔ شہر کا شور آہستہ آہستہ مدھم ہو چکا تھا، مگر ہر طرف روشنیاں جاگ رہی تھیں، جیسے اندھیرے کے خلاف ایک خاموش مزاحمت جاری ہو۔ ستارے اپنے اپنے مداروں میں خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالے کھڑے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ کسی منظم محاذ پر تعینات ہوں، ہر ایک اپنی جگہ ایک اٹل نظم کا حصہ۔ چاند اس آسمانی نظام کا نگران بنا، ان ستاروں کے درمیان ایک خاموش مرکز کی طرح قائم تھا، جو بغیر لفظوں کے نظم و ضبط کا درس دے رہا تھا۔ کچھ سیارے آسمان کے پوشیدہ حصّوں میں یوں چھپے ہوئے تھے جیسے خاموشی کے جاسوس ہوں، جو زمین کی ہر جنبش کو دیکھ کر خفیہ طور پر معلومات اکٹھی کر رہے تھے۔
اب بلال دیکھتا ہے کہ آس پاس کے سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ پہاڑی پر وہ اکیلا بیٹھا ہوا ہے، خاموش اور بے حرکت۔ نیچے سڑک پر مسافر بسوں کی آمد و رفت مسلسل جاری ہے، جیسے زندگی بغیر توقف کے آگے بڑھ رہی ہو۔ بلال یہ سب دیکھ رہا ہے… اور پھر اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ بھی تو ایک مسافر ہے۔
بلال جب اپنی جگہ سے اٹھتا ہے اور اپنی منزل کی طرف سفر کے آغاز میں پہلا قدم رکھتا ہے تو فضا میں اچانک ایک گونج دار دھماکہ پھٹ پڑتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے بارود کی آواز نے زمین اور آسمان دونوں کو ایک لمحے کے لیے ہلا دیا ہو۔ اس لمحے بلال ٹوٹتا نہیں، بکھرتا نہیں، بلکہ جیسے کسی اور ہی وجود میں ڈھل جاتا ہے۔ اور پھر وہ فنا ہو کر ایک نئے نام میں زندہ ہو جاتا ہے، کمانڈر بلال سائیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔












































