خضدار میں ایف ایس سی طالب علم کامران بلوچ کو ڈیتھ اسکواڈز نے نشانہ بنا کر قتل کردیا۔ بی وائی سی

8

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ کامران بلوچ خضدار کے علاقے مولہ سے تعلق رکھنے والے 20 سالہ ایف ایس سی طالب علم تھے،آٹھ جولائی 2026 کو کامران بلوچ کو خضدار میں ڈیتھ اسکواڈز نے نشانہ بنا کر قتل کردیا۔

انہوں نے کہاکہ کامران بلوچ کا بہیمانہ قتل بلوچ عوام کے خلاف جاری تشدد اور بلوچستان میں بگڑتے ہوئے انسانی حقوق کے بحران کی ایک اور المناک یاد دہانی ہے۔

بی وائی سی کے مطابق بلوچستان میں بلوچ عوام کے خلاف نسل کشی کا سلسلہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید شدت اختیار کر رہا ہے۔ شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو جب کسی اور بلوچ کی جان نہ لی جاتی ہو۔ خاندانوں کو بار بار اپنے پیاروں کی واپسی کا انتظار کرنے کے بجائے ان کی لاشیں وصول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ خوف، غم اور جدائی ہزاروں بلوچ خاندانوں کی روزمرہ حقیقت بن چکی ہے۔

مزید کہاکہ اگر بلوچستان میں انصاف اور قانون کی حکمرانی ہوتی تو اس طرح کے مظالم جاری نہ رہتے۔ ٹارگٹ کلنگ، ماورائے عدالت قتل، جعلی مقابلے اور جبری گمشدگیوں نے ایسا خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں کوئی بلوچ خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا۔ جب بھی کوئی بچہ گھر سے باہر نکلتا ہے تو اس کے خاندان کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ آیا وہ زندہ واپس آئے گا یا صرف اس کی لاش گھر پہنچے گی۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور انصاف و انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے تمام اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ کوئی بھی محفوظ نہیں، نہ طلبہ، نہ اساتذہ، نہ ڈاکٹر، نہ مزدور اور نہ ہی عام شہری۔ لوگ مسلسل جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ انہیں انصاف اور جواب دہی میسر نہیں۔