بلوچستان میں مرکزی شاہراہوں پر ناکہ بندیوں کا سلسلہ جاری، گاڑیاں نذر آتش، مرکزی پل اور فورسز پر دھماکے اور مسلح جھڑپیں ہوئی ہے۔
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کھڈکوچہ کے قریب آج پاکستانی فورسز کو مسلح افراد نے اس وقت حملے میں نشانہ بنایا جب وہ علاقے میں پیش قدمی کررہے تھے، مسلح حملے میں فورسز اہلکاروں کو جانی نقصانات اٹھانے کی اطلاعات ہیں۔
یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب گذشتہ روز اسی علاقے میں پاکستانی فورسز کی بکتر بند اور دیگر گاڑیوں کو مسلح افراد نے حملے میں نشانہ بنایا تھا جبکہ مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کے دوران نو ٹرالر گاڑیوں کو ضبط کیا گیا۔ گذشتہ روز ایک اور واقعے میں مستونگ کے علاقے دشت میں سبی روڈ پر پاکستانی فورسز کی گاڑی کو بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا جس میں فورسز گاڑی سمیت ایک پل کو نقصان پہنچا۔
ادھر ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں گذشتہ شب مسلح افراد نے خزانگی اور لاگ آپ کے درمیان مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کی اور کم از کم تین بڑی گاڑیوں کو نذر آتش کرکے تباہ کردیا گیا، بعدازاں اسی علاقے میں فورسز کی گاڑیوں کو مسلح افراد نے حملے میں نشانہ بنایا۔
دریں اثناء خضدار کے علاقے نوغے میں مسلح افراد نے پاکستانی فورسز کو اس وقت حملے میں نشانہ بنایا جب وہ علاقے میں آپریشن کی غرض سے پیش قدمی کررہی تھی۔ علاقائی ذرائع کے مطابق حملے کے بعد فورسز پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے جبکہ جائے وقوعہ خون کے نشانات دیکھے گئے ہیں تاہم حکام نے اس حوالے سے کوئی موقف پیش نہیں کیا ہے۔
ادھر نوشکی کے علاقے ریکو میں نامعلوم افراد نے گذشتہ شب دو مرکزی پلوں کو دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کردیا۔ پلوں کو نوشکی – خاران شاہراہ پر فورسز کے چوکیوں کے قریب نشانہ بنایا گیا۔ قبل ازیں گذشتہ روز اسی علاقے میں فورسز کی ایک گاڑی کو نامعلوم افراد نے بم دھماکے میں نشانہ بنایا تھا۔
مزید برآں آج کیچ کے علاقے بلنگور میں ہوت چات کے مقام پر نامعلوم افراد نے پاکستانی فورسز کے پیدل اہلکاروں کو آئی ای ڈی دھماکے میں نشانہ بنایا جس میں ایک اہلکار ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوا ہے جبکہ تمپ میں مسلح افراد نے راستہ کلیئرنس کے دوران فرنٹیئر کور (ایف سی) کی بم ڈسپوزل اسکواڈ ٹیم پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ دوسرا زخمی ہوگیا۔
مذکورہ حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔
یہ واقعات ایسے موقع پر پیش آئے ہیں جب گذشتہ روز گوادر کے علاقے جیونی میں پانوان کے مقام پر بلوچ لبریشن آرمی کی مجید برگیڈ نے ایک شدید نوعیت کے حملے میں پاکستان کوسٹ گارڈز کے کیمپ کو بارود سے بھری گاڑی کے دھماکے میں تباہ کیا ہے۔
پاکستانی حکام نے دھماکے میں پانچ اہلکاروں کی ہلاکت اور سولہ اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ ایس ایس پی گوادر عطاالرحمان ترین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ پاکستان کوسٹ گارڈز کی پانوان کیمپ سے بارود سے بھری مزدا ٹرک ٹکرائی گئی۔
بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق یہ حملہ مجید بریگیڈ کے فدائی، عطااللہ بلوچ عرف اجمل نے کامیابی سے سرانجام دیا، جبکہ تنظیم کے مطابق فدائی حملے کے بعد فتح اسکواڈ کے سرمچار نے پیش قدمی کرتے ہوئے زخمی و حواس باختگی کا شکار اہلکار کو ہلاک کیا۔
ترجمان جیئند بلوچ کے مطابق اس دوران تیس سے زائد پاکستانی فوج اور پاکستان کوسٹ گارڈز کے اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ متعدد زخمی اہلکار ملبے تلے دب گئے جن سے مزید ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
Breaking: BLA media has published video of today’s attack on Pakistan coast guards camp in Jiwani, #Balochistan. Attack carried out by BLA’s “Majeed Brigade” & “Fateh Squad” – Says Jeeyand Baloch pic.twitter.com/BCyPsGv9fg
— Bahot (@Bahotblch) July 3, 2026


















































