کرفیو کے حصار میں بلوچستان، طاقت کی پالیسی
ٹی بی پی اداریہ
بلوچستان کے ضلع مستونگ، بالخصوص تحصیل کھڈ کوچہ، گزشتہ ایک ہفتے سے شدید کشیدہ حالات کا سامنا کررہا ہے۔ علاقے میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن جاری ہے، جبکہ کھڈ کوچہ میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ اس دوران خواتین، بچوں اور نوجوانوں سمیت متعدد افراد کی جبری گمشدگی کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے باعث مقامی آبادی میں شدید خوف کا ماحول ہے۔
16 جولائی کو بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے کھڈ کوچہ کے مقام پر ایک بڑے فوجی قافلے کو نشانہ بنایا۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ یہ قافلہ کوئٹہ سے پنجگور کی جانب جا رہا تھا اور حملے میں کم از کم 62 اہلکار ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب حکومتی حکام نے اس واقعہ کی تصدیق یا تردید کے حوالے سے کوئی تفصیلی مؤقف اختیار نہیں کیا۔ حملے کے فوراً بعد حکام نے علاقے میں وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کا آغاز کیا۔ اس دوران عام آبادی، رہائشی علاقوں، مساجد اور مدارس کو بھی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ کھڈ کوچہ میں مکمل کرفیو نافذ کرکے لوگوں کو گھروں تک محدود کر دیا گیا۔ کرفیو کے باعث معمولاتِ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال پر بلوچستان کی مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے کرفیو کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر کرفیو ختم کیا جائے، شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جائے اور عام آبادی کو اجتماعی سزا دینے کے بجائے سیاسی طریقۂ کار اختیار کیا جائے۔
یہ پہلا موقع نہیں، اس سے پہلے بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس نوعیت کے اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ حالیہ برسوں اور مہینوں کے دوران ضلع خضدار کے علاقے زہری، ضلع نوشکی اور ساحلی شہر جیونی سمیت کئی علاقوں میں بھی طویل کرفیو نافذ کیے گئے، جہاں عوام کو روزمرہ زندگی، کاروبار، تعلیم اور علاج معالجے جیسی بنیادی سہولیات سے محروم رہنا پڑا۔ ان واقعات نے بلوچستان کے عوام میں یہ احساس مزید مضبوط کیا ہے کہ ریاست کی جانب سے اختیار کیے جانے والے سخت پالیسیاں عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ عوامی اور سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی مسلسل گہرا ہو رہا ہے کہ طاقت پر مبنی پالیسیوں اور مسلسل فوجی کارروائیوں سے ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی خلیج مزید وسیع ہو رہی ہے۔ جب کسی پورے علاقے کو کرفیو، ناکہ بندی اور وسیع پیمانے پر فوجی کارروائیوں کے ذریعے بند کر دیا جاتا ہے تو اس کے سماجی، معاشی اور نفسیاتی اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
دوسری جانب ریاستی مؤقف یہ رہا ہے کہ بلوچستان میں مسلح مزاحمت کرنے والوں کی تعداد محدود اور چند سو افراد پر مشتمل ہے۔ اگر واقعی صورتحال اسی نوعیت کی ہے تو پھر وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن، طویل کرفیو، نقل و حرکت پر سخت پابندیاں اور بڑی تعداد میں فورسز کی تعیناتی اس دعوے کے ساتھ ایک واضح تضاد پیدا کرتی ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر مزاحمت محدود ہے تو پھر پورے علاقوں کو اجتماعی طور پر پابندیوں کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے؟
بلوچستان کا مسئلہ محض ایک سکیورٹی یا عسکری مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی، تاریخی اور قومی مسئلہ ہے۔ اس کی جڑیں قومی حقوق، سیاسی نمائندگی اور شناخت سے جڑی ہوئی ہے۔ جب تک ان بنیادی مسئلے کے حل کے لیے بامعنی عمل شروع نہیں کیا جاتا، اس وقت تک بلوچستان کے حالت ایسے ہی رہینگے، طاقت کے استعمال سے کوئی نتائج نکلنا مشکل لگ رہا ہے۔ بلوچستان میں اگر سیاسی عمل کو ترجیح نہ دی گئی تو موجودہ حالات مزید سنگین صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ کرفیو، فوجی آپریشن، جبری گمشدگیوں اور سخت سکیورٹی اقدامات سے بنیادی مسئلہ ختم نہیں ہوتیں۔ بلوچستان کے حقیقی سیاسی، سماجی اور قومی مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین بامعنی عمل کا آغاز کریں تو یہی راستہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر بلوچستان کے حالت ناصرف ایسے ہی رہینگے بلکہ مزید گھمبیر بھی ہونگے۔












































