حماس کے نئے لیڈر کا انتخاب، خليل الحية کون ہیں؟

95

فلسطینی تنظیم حماس نے خلیل الحیة کو اپنا نیا سربراہ منتخب کیا ہے۔  ان کا عہدہ تنظیم کے سیاسی بیورو کے سربراہ (ہیڈ آف پولیٹیکل بیورو) کا ہو گا۔

65  سالہ خلیل الحیة 1960 میں غزہ میں پیدا ہوئے۔ وہ حدیث اور سنت کے علوم میں پی ایچ ڈی کی ڈگری رکھتے ہیں اور ماضی میں اسلامک یونیورسٹی آف غزہ میں بطور لیکچرار اور بعد ازاں ڈین برائے طلبہ امور خدمات انجام دے چکے ہیں۔

وہ 1987 میں حماس میں شامل ہوئے اور تنظیم کے بانی دور کی قیادت کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

گذشتہ کئی دہائیوں سے وہ حماس کی اعلیٰ سیاسی قیادت اور اہم مذاکراتی ٹیم کا نمایاں رکن رہے ہیں۔ جلاوطنی کے دوران وہ حماس کے غزہ امور کے سربراہ اور تنظیم کے چیف مذاکرات کار بھی رہے۔

خلیل الحیة اس عہدے پر یحییٰ السنوار کے جانشین بنے ہیں، جو اکتوبر 2024 میں غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی میں قتل ہو گئے تھے۔ اس سے قبل وہ السنوار کے بعد حماس کی عبوری قیادت کا بھی حصہ رہے اور اسماعیل ھنیہ کی موت کے بعد تنظیم کی بااثر ترین شخصیات میں شمار کیے جاتے تھے۔

خلیل الحیة غزہ میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔

وہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مقیم ہیں۔

خلیل الحیة اسرائیل کے متعدد حملوں میں وہ محفوظ رہے، تاہم ان کے اہلِ خانہ کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

ان کی اہلیہ 2007 میں ایک اسرائیلی حملے میں جان سے گئیں، جبکہ مختلف حملوں میں ان کے چار بیٹے اور پانچ پوتے پوتیاں بھی جان سے جا چکے ہیں۔

ان کے بڑے بیٹے اسامہ 2014 میں اپنی اہلیہ اور تین بچوں سمیت ایک اسرائیلی حملے میں قتل کیے گئے، جبکہ ایک اور بیٹے ھمام ستمبر 2025 میں دوحہ پر اسرائیلی حملے میں جان سے گئے۔

خلیل الحیة کو غزہ جنگ کے دوران حماس کے مرکزی مذاکرات کار کے طور پر بھی اہم کردار ادا کرنے کا تجربہ حاصل ہے، جس کے باعث انہیں تنظیم کے اندر ایک مؤثر اور بااثر سیاسی رہنما تصور کیا جاتا ہے۔

حماس کے سیاسی بیورو کی قیادت ماضی میں موسیٰ ابو مرزوق (1992–1996)، خالد مشعل (1996–2017)، اسماعیل ھنیہ (2017–2024) اور یحییٰ السنوار (اگست 2024 تا اکتوبر 2024) کے پاس رہی ہے، جبکہ اب خلیل الحیة اس منصب پر فائز ہو گئے ہیں۔