بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 8 جون 2026 کو خضدار کے تاریخی علاقے نال شہر میں ایک، منظم، مربوط اور کثیر المراحلی گوریلا آپریشن کا آغاز کیا۔ تاریخی معرکہِ نال صبح ٹھیک 12 بجے شروع ہوا۔ شہر پر مرحلہ وار کنٹرول حاصل کرنے کے لیے سرمچاروں کو مختلف تزویراتی دستوں میں تقسیم کیا گیا، جنہوں نے بیک وقت اپنے اپنے اہداف پر پوزیشن سنبھال کر پورے نال شہر کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔
ترجمان نے کہاکہ دشمن کے مواصلاتی و رابطہ نظام کو مفلوج کرنے کے لیے آپریشن کے آغاز سے ایک دن قبل ہی سرمچاروں کے دستوں نے نال شہر اور اس کے گردونواح میں نصب دشمن کے 5 موبائل ٹاورز اور ان کی مشینری کو نذرِ آتش کرکے تباہ کر دیا، جن میں 2 گُرک، 1 ہزار گنجی، 1 ٹوبڑو اور 1 ہوچڑو کے مقام پر نصب ہیں۔
مواصلاتی نظام معطل ہوتے ہی سرمچاروں کے دستوں نے سی پیک روڈ پر خضدار اور گریشگ کے مقامات پر، اور کراچی جانے والی مرکزی شاہراہ پر بیک وقت ناکہ بندی قائم کر دی۔ مقامی بلوچ آبادی کو ممکنہ نقصانات سے بچانے کی خاطر سرمچاروں نے کراچی روڈ پر مقامی بلوچ آبادی کو ایک جگہ اکٹھا کر کے انہیں اپنے اس عسکری آپریشن اور اس کے نتیجے میں ممکنہ صورتحال سے آگاہ کردیا تاکہ وہ اپنے گھروں سے نہ نکلیں، جبکہ گریشگ کے مقام پر تعینات دستے نے فائرنگ کر کے دشمن کا ایک جاسوس کواڈ کاپٹر مار گرایا۔ اسی دوران سرمچاروں نے دشمن کی معاشی تنصیبات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے قیمتی پتھروں کے ایک فیکٹری اور ویئنگ اسکیل کو نذرِ آتش کر دیا، جس کی زد میں آکر وہاں کھڑی پتھر لوڈ کرنے والی متعدد گاڑیاں جل کر خاکستر ہو گئیں، جس سے وسائل کی لوٹ مار کا یہ پروجیکٹ بری طرح متاثر ہوا۔
انہوں نے کہاکہ مواصلاتی نظام کی تباہی اور شہر کی بیرونی ناکہ بندی مکمل ہوتے ہی، سرمچاروں کے مستعد دستوں نے باقاعدہ پیش قدمی کا آغاز کیا اور مختلف اطراف سے نال شہر کے اندر داخل ہوئے۔ پیش قدمی کے دوران سب سے پہلا معرکہ کرش پلانٹ کے مقام پر ہوا، جہاں گھات لگائے سرمچاروں نے دشمن کی ایک بکتر بند گاڑی کو نشانہ بنا کر 5 فوجی اہلکار ہلاک کر دیے اور بکتر گاڑی پر راکٹوں سے حملہ کرکے گاڑی کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ یہاں سے کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے سرمچاروں نے جنگ کا دائرہ کار نغاڑ اور پرچ ہوٹل کے علاقوں تک پھیلا دیا اور نال کے مرکزی بازار اور عسکری کیمپ کے گرد گھیراؤ تنگ کر دیا۔
ترجمان نے کہاکہ سرمچاروں نے شہر کے مرکز میں واقع لیویز اور پولیس تھانے پر بیک وقت حملہ کردیا جہاں قابض پاکستانی فوج مورچہ بند تھی۔ لیویز تھانے پر حملے میں سرمچاروں نے راکٹ لانچروں اور دیگر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں تھانے کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ اس تباہی کے نتیجے میں وہاں موجود قابض فوج کے 10 اہلکاروں میں سے 9 فوجی موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ 1 اہلکار جان بچا کر فرار ہو گیا۔ اس کارروائی کے دوران ایک لیویز اہلکار کو اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا گیا، اور پولیس تھانے کے اوپر اڑتے ہوئے دشمن کے ایک اور کواڈ کاپٹر کو مار گرایا گیا۔ جب دشمن فوج نے اپنے مرکزی کیمپ سے پیدل نکل کر پولیس تھانے کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، تو کیمپ کے باہر گھات لگائے سرمچاروں نے ان پر حملہ کر کے مزید 7 فوجیوں کو ہلاک کر دیا اور بقیہ فورس کو کیمپ کے اندر محصور ہونے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے کہاکہ نال شہر میں قابض فوج کی اس بدترین پسپائی، تھانوں میں موجود فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور فوجی کیمپ میں محصور نفری کو بچانے کے لیے خضدار بریگیڈ سے پاکستان فوج اور ایلیٹ ایس ایس جی (SSG) کمانڈوز پر مشتمل درجنوں گاڑیوں کا ایک قافلہ نال شہر کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی، لیکن شاہراہوں پر پہلے سے قائم سرمچاروں کی مضبوط دفاعی ناکہ بندیوں کے سامنے دشمن بے بس ہو گیا۔ سرمچاروں کے گھات لگائے دستوں نے خضدار بریگیڈ کی اس کمک پر خودکار ہتھیاروں سے مہلک حملے کیے، جس کے نتیجے میں دشمن کے اس قافلے میں شامل متعدد فوجی اہلکار، جن میں ایس ایس جی کمانڈوز بھی شامل تھے، شدید جانی و مالی نقصان اٹھا کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔
ترجمان نے کہاکہ زمینی محاذ پر سرمچاروں کے ہاتھوں مکمل شکست، اور خضدار بریگیڈ کی ناکامی کے بعد، دشمن فوج نے اپنی فضائی قوت کا سہارا لیا۔ بکتر بند گاڑیوں اور 5 گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پاکستان فوج کے ایلیٹ ایس ایس جی (SSG) کمانڈوز نے نال شہر میں داخل ہونے کی آخری کوشش کی۔ ان ہیلی کاپٹروں نے نال بازار کے اندر 5 مختلف مقامات پر اندھا دھند شیلنگ اور بمباری کی، جس کے جواب میں نغاڑ اور پرچ ہوٹل کے محاذ پر سرمچاروں نے ہیلی کاپٹروں پر راکٹوں اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے جوابی حملہ کردیا۔
دشمن فوج کی اس فضائی حملے کے خلاف سب سے بڑا معرکہ ہتیچک کے مقام پر لڑا گیا، جہاں سرمچاروں نے ایس ایس جی کمانڈوز کے ہیلی کاپٹروں پر راکٹوں اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس جوابی کارروائی میں سرمچاروں نے نغاڑ، پرچ ہوٹل اور ہتیچک کے مقامات پر دشمن کے ہیلی کاپٹروں کو نشانہ بنایا۔ نغاڑ اور پرچ ہوٹل کے مقامات پر سرمچاروں نے 2 گن شپ ہیلی کاپٹروں کو کامیابی سے نشانہ بنا کر مار گرایا، جو زمین پر گر کر تباہ ہو گئے اور ان میں سوار 12 ایلیٹ ایس ایس جی (SSG) کمانڈوز موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔
ترجمان نے کہاکہ مسلسل 5 گھنٹے جاری رہنے والے اس معرکے میں قابض پاکستانی فوج کو ہر محاذ پر سرمچاروں کے ہاتھوں شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمیشہ کی طرح، قابض فوج اپنی اس تاریخی عسکری شکست اور ہزیمت کو چھپانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کی تباہی کو تکنیکی وجوہات کا نام دے کر جھوٹا پروپیگنڈا کر رہی ہے، لیکن نال شہر کے غیور باشندے اس حقیقت کے چشم دید گواہ ہیں کہ یہ ہیلی کاپٹر سرمچاروں کے حملوں کے نتیجے میں گر کر تباہ ہوئے ہیں۔ سرمچاروں کی جانب سے ریکارڈ کی گئی اس تاریخی معرکہ کے ویڈیوز اور تصاویر جلد بی ایل ایف کے میڈیا چینل “آشوب” پر پوسٹ کی جائے گی، جن میں ہیلی کاپٹروں کو شدید دھوئیں اور آگ کے شعلوں میں گھرا دیکھا جا سکتا ہے، جو دشمن کے اس بدترین شکست کی ناقابلِ تردید گواہی ہیں۔
مزید کہاکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ بلوچ قومی تحریکِ آزادی کو محض زمین یا وسائل کا معاملہ نہیں سمجھتی، بلکہ یہ بلوچستان کی سر زمین پر بلوچ قومی آزادی کی حصول، قومی شناخت اور انسانی وقار کے تحفظ جیسے اعلیٰ قومی مقاصد کا مسئلہ ہے۔ نال میں ہونے والے اس آپریشن کا مقصد صرف عسکری برتری ثابت کرنا نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے ایک گہری سیاسی حکمتِ عملی کارفرما ہے۔ یہ معرکہ اس زمینی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ جو عناصر قابض پاکستانی ریاست کا حصہ دار بن کر بلوچ قوم کے وسائل بے دریغ لوٹ رہے ہیں، اور ریاستی مشینری کو سہارا دینے کے لیے ڈیتھ اسکواڈز اور نام نہاد امن فورس جیسے قاتل گروہوں کو بلوچ نسل کشی کی کھلی چھوٹ دیتے ہیں، اب ان کا قلع قمع ناگزیر ہو چکا ہے۔
امن کے نام پر نال میں بلوچ قوم کی نسل کشی میں دشمن کے ساتھ شریک جرم جاگیرداروں و سرکاری سرداروں نے نو آبادیاتی سوچ کے تابع ہمیشہ بلوچ قومی تحریک کی مخالفت کیا ہے، لیکن اب وقت کا تقاضا ہے کہ ایسی نو آبادیاتی سوچ اور عناصر کا صفایا کیا جائے۔ معرکہِ نال بلوچ قومی جذبہ مزاحمت اور طاقت کی وہ علامت ہے جس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بلوچ قومی شناخت کو ختم کرنے والی قابض ریاست اور اس کے کاسہ لیسوں پر بلوچ سر زمین تنگ کر دی گئی ہے۔
آخر میں کہاکہ بلوچستان کے اہم شہروں میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کی پے در پے کارروائیاں دراصل بلوچستان میں پاکستان کی نوآبادیاتی ریاستی عمل داری کی زوال اور تیزی سے مکمل خاتمے کی واضح نشانیاں ہیں۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ تاریخی نال آپریشن میں 33 فوجی اہلکاروں کی ہلاکت، دو ہیلی کاپٹرز، اور دو کواڈ کاپٹر سمیت متعدد فوجی بکتر بند گاڑیوں، موبائل ٹاور، معدنیات کی فیکٹریز اور گاڑیوں کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ اور یہ عزم دہراتی ہے کہ بلوچستان کی آزادی اور بلوچ قومی شناخت کے تحفظ جیسے مقاصد کی حصول تک قابض ریاست اور اس کے آلہ کاروں پر اسی طرح زمین تنگ رکھی جائے گی۔ اس تاریخی آپریشن کی کامیابی کے بعد ہمارے تمام سرمچار بحفاظت اپنے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔














































