منگل کے روز بلوچستان کے مختلف علاقوں میں پاکستان فوج نے آپریشن کا آغاز کیا جو تاحال جاری ہے۔ آپریشن میں ہزاروں پیدل اہلکاروں سمیت گن شپ و دیگر ہیلی کاپٹر، توپ خانہ اور ڈرون طیارے حصہ لے رہے ہیں۔
ضلع مستونگ، قلات، نوشکی، کیچ اور خضدار کے علاقے بدستور فوجی آپریشن کی زد میں ہیں۔ مذکورہ علاقوں میں موبائل ڈیٹا سمیت دیگر سروسز کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔
اس بڑے پیمانے پر آپریشن میں کھڈکوچہ، آب گل، کردگاپ، نوشکی، منگچر، زہری اور کوئٹہ سے متصل علاقے متاثر ہوئے ہیں جہاں سینکڑوں فوجی گاڑیوں سمیت توپ خانے و دیگر عسکری گاڑیوں کو دیکھا گیا ہے۔ آپریشن کے دوران مختلف مقامات پر ہیلی کاپٹروں سے شیلنگ سمیت مارٹر گولے فائر کیئے گئے ہیں جبکہ کئی مقامات پر فوجی ٹینکوں کو بھی دیکھا گیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ “آئی ایس پی آر” آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے اور مبینہ طور پر مسلح تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 17 افراد کو ہلاک کردیا۔
پاکستانی فورسز کے دعوے کے مطابق مارے جانے والے مسلح افراد کے قبضے سے اسلحہ، بارودی مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں، فورسز کے مطابق مارے گئے افراد پاکستانی فورسز پر حملوں اور دیگر مسلح کارروائیوں میں ملوث تھے۔
پاکستانی فورسز نے زہری کے علاقے بلبل میں گھروں پر چھاپوں کے دوران سردار نصیر موسیانی سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جبکہ اس دوران فورسز کی فائرنگ سے سردار موسیانی کے بیٹے سمیت دیگر افراد زخمی ہوئے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی نے واقعے کیخلاف کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج صبح ضلع خضدار کے علاقے بلبل زہری میں آزادی پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان مسلح جھڑپ ہوئی۔ جھڑپ کے بعد، دس سے بارہ گاڑیوں پر مشتمل فورسز بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن، سابق ڈسٹرکٹ ناظم خضدار اور موسیانی قبیلے کے چیف سردار نصیر احمد موسیانی کے گھر پر پہنچیں۔ وہاں سے سردار نصیر احمد موسیانی، ان کے دونوں فرزندان میر زہری خان موسیانی اور میر خلیل احمد موسیانی کے علاوہ کئی دیگر عزیز و اقارب کو اٹھا کر بلبل کراس کے اسکول میں بند کر دیا گیا۔
رہنماؤں نے مزید کہا کہ بکتر بند گاڑیوں اور دیگر سیکورٹی گاڑیوں کے ساتھ جب سردار نصیراحمد موسیانی کے گھر فورسز پہنچے تو انہوں وہاں سردار نصیراحمد کو کسی میجر نے دھکا دیا، جسکی وجہ سے وہ گر کر زخمی ہوئے۔ اسی دوران میر زہری خان کو زد کوب کیا گیا، جبکہ میر خلیل احمد کو گولی مار کر شدید زخمی کردیا گیا۔
بلوچستان کے مذکورہ اضلاع بدستور فوجی آپریشن کی زد میں ہیں۔ علاقے فوجی محاصرے میں ہونے اور مواصلاتی نظام کی بندش کے باعث مکمل تفصیلات تک بروقت رسائی ممکن نہیں ہے۔
Sohinda Massacre: A Road, a Roundup and Eleven Dead — TBP Report
…. Follow the link below to our website for reading the full report.https://t.co/IBcubQ1SU2 pic.twitter.com/SBKgcbMZRX
— The Balochistan Post – English (@TBPEnglish) June 2, 2026


















































