بلوچ لبریشن آرمی کے میڈیا چینل ہکّل نے پاکستانی فوج کیساتھ مختلف مقامات پر جھڑپوں میں جانبحق ہونے والے بی ایل اے کے چار ارکان کی تفصیلات جاری کردیئے ہیں۔ مذکورہ ارکان میں حسنین شاہوانی عرف مقبول، کبیر بلوچ عرف وحید، محمد ریاض نیچاری عرف کاکا ظہیر اور عبدالرحمان عرف خلیل شامل ہیں۔ مذکورہ افراد کا تعلق بلوچستان کے مختلف علاقوں مستونگ، قلات اور پنجگور سے ہیں۔
ہکل میڈیا کے مطابق کردگاپ، مستونگ میں یکم جون 2026 کو جھڑپوں میں جانبحق ہونے والے حسنین شاہوانی عرف مقبول ولد ابراہیم شاہوانی کا تعلق مستونگ کے علاقے کلی کرک سے تھا۔ وہ 22 اکتوبر 2022 کو بلوچ لبریشن آرمی میں شامل ہوئے اور قلات و مستونگ کے محاذوں پر تعینات رہیں۔
تفصیلات کے مطابق حسنین شاہوانی، بلوچ لبریشن آرمی کے ہر اول دستے فتح اسکواڈ کے کمانڈر ہونے کیساتھ بطور کیمپ کمانڈ بھی رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نوجوان شہید حسنین شاہوانی عرف مقبول میدانِ عمل میں بی ایل اے کے اُن قابل، عوام دوست اور جنگی مہارتوں سے بھرپور ساتھیوں میں شامل تھے جو اپنے ساتھیوں کے لیے ایک قابلِ اعتماد رہنما، عوام کے لیے مہربان سرمچار اور دشمن کے لیے قہر ثابت ہونے والے بہادر ساتھی تھے۔ انہی صلاحیتوں کی بنا پر وہ کیمپ کمانڈر منتخب ہوئے، جہاں انہوں نے احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور اپنے عمل و کردار سے آخری دنوں تک ثابت قدم رہے۔
“جنگی استعداد، دشمن کے خلاف طویل عرصے تک لڑنے کی صلاحیت، اور دورانِ جنگ حکمتِ عملی و حاضر دماغی اُن کے نمایاں اوصاف تھے۔ انہی صلاحیتوں کی بنا پر انہیں فتح اسکواڈ کی ٹیم کمانڈ کی ذمہ داریاں سونپی گئیں، جہاں انہوں نے متعدد معرکوں میں ایلیٹ یونٹ کے سرمچاروں کی قیادت کی اور دشمن کو کاری ضربیں لگائیں۔مستونگ، قلات اور متعلقہ علاقوں میں انہوں نے تنظیمی جنگی سرگرمیوں، بالخصوص شہروں اور شاہراہوں پر کنٹرول برقرار رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔”
“آپریشن ہیروف اول اور ہیروف دوم کے آپریشنوں میں انہوں نے ایک فرنٹ لائن جنگجو اور رہنما کے طور پر اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں۔ ہیروف دوم کے دوران انہوں نے مستونگ محاذ پر تنظیم کی ایلیٹ یونٹ فتح اسکواڈز کے بہادر جنگجوؤں کی قیادت کی اور علاقے میں آپریشن کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اپنے متعلقہ علاقے میں تنظیمی وسعت اور تنظیم کے جنگی حکمت عملی کو منظم انداز میں عملی شکل دی۔”
“تنظیمی پالیسی کے تحت اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں دفاعی پوزیشن کو مضبوطی سے برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے کئی مرتبہ دشمن کی پیش قدمی کو روکے رکھا اور شہروں میں تنظیمی پیش رفت کے دوران فرنٹ لائن رہنما کے طور پر سرگرم رہے۔ اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ آخری دنوں تک سنجیدگی اور مخلص ہوکر وہ مستونگ کے علاقے کردگاپ میں دشمن کی پیش قدمی کے سامنے ایک مضبوط رکاوٹ بنے رہے اور میدانِ جنگ میں لڑتے ہوئے یکم جون کو شہادت حاصل کی۔”
کردگاپ جھڑپوں میں جانبحق دوسرے بی ایل اے رکن کی شناخت کبیر بلوچ عرف وحید ولد محمد ایوب سمالانی سکنہ زرد غلام جان، منگچر، قلات کے نام سے کی گئی ہے۔ مستونگ کے محاذ پر تعینات رہنے والے کبیر بلوچ 2026 میں بی ایل اے میں شامل ہوئیں۔
مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کبیر بلوچ عرف وحید نے رواں سال بی ایل اے کے فوجی ڈاکٹرائن کو پاکستانی قبضے کے خلاف جدوجہد کا حتمی راستہ سمجھتے ہوئے تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ انہوں نے بنیادی فوجی تربیت حاصل کرنے کے بعد جلد ہی عملی محاذ سنبھال لیا اور مستونگ کے علاقے میں دشمن کے خلاف مورچہ زن ہوگئے۔ وہ گزشتہ چھ ماہ سے ایک محنتی، باشعور اور عملی جہدکار کی حیثیت سے اپنی فوجی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔
“نہایت کم عرصے میں انہوں نے تنظیم کے اندر ایک قابل جنگجو اور محنتی ساتھی کے طور پر اپنی شناخت قائم کر لی تھی۔ تنظیم کے دفاعی محاذوں کو مضبوطی سے سنبھالنے کی پالیسی کے تحت انہوں نے مستونگ اور کردگاپ میں کئی مواقع پر اپنے دیگر سرمچار ساتھیوں کے ہمراہ دشمن فوج کی پیش قدمی کو ناکام بنایا اور اسے پسپائی پر مجبور کیا۔ متعدد جھڑپوں میں انہوں نے بہادری، استقامت اور جانفشانی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا۔”
“انہوں نے قومی آزادی کی خاطر جنگ کی تمام سختیاں اور مشکلات برداشت کیں اور آخر دم تک اپنے اُس فیصلے پر خلوص اور استقامت کے ساتھ قائم رہے جو انہوں نے تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے سے قبل کیا تھا۔ وہ شہادت تک اپنے نظریے اور آزادی کے فکر سے وابستہ رہے۔”
رواں مہینے چھ جون کو قلات کے علاقے اسکلکو میں پاکستان فوج کیساتھ جھڑپوں میں جانبحق بی ایل اے رکن کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ مستونگ کے علاقے کابو سے تعلق رکھنے والے محمد ریاض نیچاری عرف کاکا ظہیر ولد فقیر محمد نیچاری نے مئی 2023 میں بلوچ لبریشن آرمی میں شمولت اختیار کی اور جنوری 2024 میں پہاڑوں پر منتقل ہوئے۔ گشتی کمانڈ کے رینک پر تعینات کاکا ظہیر مستونگ اور قلات کے محاذوں پر تعینات رہیں۔
مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ محمد ریاض نیچاری جو سرمچار ساتھیوں کے درمیان کاکا ظہیر کے نام سے جانے جاتے تھے، بی ایل اے کے اُن محنتی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے جو قومی دفاع اور آزادی کو بلوچ ریاست کے بنیادی ستون سمجھتے تھے۔ بلوچ قومی تحریک سے اپنی فکری وابستگی کی بنیاد پر انہوں نے چھ سال تک دشمن کے قید خانوں میں غیر انسانی اذیتیں برداشت کیں، مگر قبضہ گیر کے یہ مظالم بھی انہیں شعوری طور پر تحریک سے دستبردار نہ کر سکے۔ دشمن کے جبر نے اُن کے اندر مزید فکری پختگی پیدا کی، اور انہوں نے 2023 میں مسلح محاذ کا انتخاب کرتے ہوئے بی ایل اے میں شمولیت اختیار کی اور قلات کے محاذ پر منتقل ہوگئے۔
“اپنی فکری پختگی کو انہوں نے جنگی میدان میں عملی شکل دیتے ہوئے قلات ریجن میں ایک فعال جہدکار اور ذمہ دار سرمچار کا کردار ادا کیا۔ اپنی ذمہ داریوں سے مخلصی، فکری پختگی، سخت محنت، اور جنگی میدان میں نظم و ضبط کے ساتھ بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرنا اُن کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ انہی صلاحیتوں اور قابلیت کی بنا پر انہیں مستونگ کے محاذ پر گشتی کمانڈ کی ذمہ داریاں سونپی گئیں، اور انہوں نے آخری سانس تک ان ذمہ داریوں کو خلوص نیت اور پیشہ ورانہ انداز میں نبھایا۔”
“وہ محض عہدے یا اختیار کی حد تک ذمہ دار نہیں تھے، بلکہ اپنے عمل اور کردار سے بھی ایک ذمہ دار ساتھی تھے۔ آخری دنوں تک انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھاتے ہوئے تنظیم کے زیر کنٹرول اور اثر و رسوخ والے علاقوں میں دشمن فوج کی پیش قدمی کو روکے رکھا۔ اسی دفاعی محاذ کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے دشمن کے ساتھ براہ راست لڑائی میں اسکلکو کے محاذ پر شہادت حاصل کی۔”
بی ایل اے نے رواں مہینے تین جون کو چیدگی، پنجگور میں جانبحق ایک سرمچار کی شناخت عبدالرحمان عرف خلیل ولد رحیم جان سکنہ تسپ، پنجگور کے نام سے کی ہے جو رواں سال بلوچ لبریشن آرمی میں شامل ہوئے تھے۔
مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عبدالرحمان عرف خلیل جان نے رواں سال بی ایل اے میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے پنجگور کے محاذ پر تنظیمی احکامات کے تحت اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ فکری طور پر مضبوط اور اپنی فوجی ذمہ داریوں کے حوالے سے سنجیدہ اور مخلص سرمچار تھے۔ ایک مستقل مزاج اور شعور یافتہ سرمچار کی تمام نمایاں خصوصیات ان کی شخصیت کا حصہ تھیں۔ اپنی چھ ماہ کی قومی ذمہ داریوں کے دوران انہوں نے سنگتی، مخلصی اور ایمانداری کی بنیاد پر اپنی خدمات انجام دیں اور ایک ثابت قدم سرمچار کے طور پر ساتھیوں کے درمیان اپنی پہچان بنائی۔
“قبضہ گیر کی مصنوعی طاقت کی حقیقت سے آشنا عبدالرحمٰن عرف خلیل نے مسلح محاذ پر دشمن کے خلاف کئی تابڑ توڑ حملوں میں حصہ لیا اور انہیں ناکوں چنے چبوا دیے۔ بلوچ شہدا نے اپنی قربانیوں سے جنگ کی جو روایات اور کلچر متعارف کرایا ہے، وہ ان پر پورا اترنے والے ایک ساتھی تھے۔ اسی فکری اور شعوری سوچ نے انہیں آخری دم تک محاذ پر ثابت قدم رکھا۔ جنگی محاذ پر مختلف مشکلات اور کٹھن حالات کا سامنا کرنے کے باوجود ان کے حوصلے سیاجی کے پہاڑوں کی طرح بلند و مضبوط رہے۔ انہوں نے دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور آخری لمحوں تک دشمن کی پیش قدمی کے سامنے ایک مضبوط رکاوٹ بنے رہے۔”
“ان کی بہادری، ہمت اور دشمن سے لڑنے کی صلاحیت و شعور نے انہیں بلوچ سرزمین کے ان شہدا کی صف میں شامل کر دیا ہے جو تاریخ میں بہادر سرمچار اور قومی دفاع کے ضامنوں کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔”


















































