بلوچ یکجہتی اور جبر کی مخالفت
تحریر: ڈاکٹر صبیحہ بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
بطور ایک دوست، آج میرے وجود پر ایک گہرا بوجھ ہے کہ میرے رفقا چودہ ماہ سے زائد عرصے سے زندانوں کی خاموش دیواروں کے درمیان محصور ہیں۔ بطور ایک بلوچ، میں اس اجتماعی اذیت کو محسوس کرتی ہوں کہ ہماری قوم کی آوازوں کو ہم سے جدا کرکے قید کر دیا گیا ہے، اور بطور ایک ایسے فرد کے جو خود ریاستی جبر اور ظلم کے تجربے سے گزرا ہے، میں اس حقیقت سے بھی بے چین ہوں کہ گزشتہ چودہ مہینوں سے ہمیں اپنی سیاسی اور تنظیمی سرگرمیوں کو آزادانہ طور پر آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
لیکن بطور ایک سیاسی کارکن، یہ صورتِ حال میرے لیے اضطراب کا باعث نہیں۔ اس لیے کہ میں جانتی ہوں کہ انقلابی مزاحمتی جدوجہد محض افراد کی سرگرمی کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے شعور کا سفر ہے جو افراد سے آگے بڑھ کر اجتماعی وجود میں ڈھل جاتا ہے۔ سیاسی مزاحمت کا بنیادی مقصد عوام میں آگاہی پیدا کرنا ہوتا ہے، اور آگاہی جب شعور کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو وہ محض ایک خیال نہیں رہتی بلکہ ایک سماجی قوت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہی شعور منتشر انسانوں کو ایک قوم میں، خاموش ہجوم کو ایک منظم قوت میں، اور محکومی کو مزاحمت میں تبدیل کرتا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جدوجہد دراصل اسی شعور کی تشکیل اور توسیع کی جدوجہد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست اس کے خلاف اپنی تمام تر طاقت بروئے کار لا رہی ہے۔ کیونکہ جبر ہمیشہ اس شعور سے خوفزدہ ہوتا ہے جو انسانوں کو اپنی حالت، اپنی شناخت، اپنے حقوق اور اپنی اجتماعی قوت کا ادراک عطا کر دے۔ جب ایک قوم اپنے وجود کے معنی کو سمجھنے لگتی ہے تو جبر کے تمام آلات اپنی مطلق حیثیت کھونے لگتے ہیں۔ اسی لیے آج بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف جاری کریک ڈاؤن درحقیقت چند افراد کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ ایک بیدار ہوتے ہوئے قومی شعور کو روکنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
جب لاکھوں لوگوں نے اس تحریک کا حصہ بن کر یہ ثابت کر دیا کہ بلوچ عوام ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف متحد ہو رہی ہے تو طاقت کے ایوانوں میں خوف پیدا ہوا۔ پاکستان نے یہ گمان کیا کہ بلوچ رہنماؤں کو زندانوں میں ڈال کر، جھوٹے مقدمات قائم کر کے، کارکنوں کو ہراساں کر کے اور تنظیمی سرگرمیوں کو محدود کر کے اس شعور کی پیش قدمی کو روکا جا سکتا ہے۔ لیکن تاریخ کا سب سے بنیادی سبق یہی ہے کہ شعور کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ جسموں کو دیواروں کے درمیان محصور کیا جا سکتا ہے، مگر خیالات کو نہیں؛ آوازوں کو وقتی طور پر خاموش کیا جا سکتا ہے، مگر ان معنوں کو نہیں جو ایک بار عوامی شعور کا حصہ بن جائیں۔
آج ہمارے ساتھی جیلوں میں ہیں، ان کے خلاف درجنوں مقدمات قائم کیے گئے ہیں، کارکنوں کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، جبری پریس کانفرنسوں کے ذریعے بیانیوں کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور عدالتی کارروائیوں کو ریاستی جبر کے طول دینے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ مگر ریاست شاید اس حقیقت کو نہیں سمجھتی کہ اس کا ہر جابرانہ قدم خود اس کے خلاف ایک تاریخی شہادت بن رہا ہے۔ وہ جس شعور کو دبانا چاہتی ہے، اسی کے پھیلاؤ کا سبب بنتی جا رہی ہے۔
جہاں سیاسی تربیت شعور کی آبیاری کا ایک ذریعہ بنتی ہے، وہیں ریاستی بربریت بھی غیر ارادی طور پر اسی شعور کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ تاریخ کا ایک المیہ یہ ہے کہ جبر ہمیشہ اپنے خلاف دلائل خود پیدا کرتا ہے۔ جب ظلم روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے تو وہ ہزاروں تقریروں سے زیادہ قوت کے ساتھ حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ جب انصاف کو قانون کی زبان میں دفن کیا جائے تو سوالات جنم لیتے ہیں، اور جب سوالات جنم لیتے ہیں تو شعور اپنی نئی صورتیں اختیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر قید، ہر مقدمہ اور ہر پابندی اپنے ظاہری مقصد کے برعکس ایک نئے ادراک کو جنم دیتی ہے۔
ریاست شاید اب بھی طاقت کو تاریخ کا آخری فیصلہ سمجھتی ہے، مگر طاقت کبھی بھی تاریخ کا آخری لفظ نہیں رہی۔ بندوقیں جسموں کو محصور کر سکتی ہیں، مگر خیالات کو نہیں؛ زندان انسانوں کو محدود کر سکتے ہیں، مگر شعور کی حرکت کو نہیں۔ مزاحمتی تحریکیں اگرچہ جلسوں، نعروں اور تنظیمی ڈھانچوں میں اپنا مادی اظہار پاتی ہیں، لیکن ان کی اصل قوت ان اجتماعی معانی میں پوشیدہ ہوتی ہے جو عوام کے ذہنوں اور دلوں میں تشکیل پاتے ہیں۔ اور جب کوئی قوم اپنے وجود، اپنی شناخت اور اپنے حق کے بارے میں ایک واضح شعور حاصل کر لے تو جبر اس کے سفر کو دشوار تو بنا سکتا ہے، مگر اسے منقطع نہیں کر سکتا۔
ہمارے ساتھیوں کی قید محض چند افراد کی قید نہیں، بلکہ ایک ایسے عہد کی علامت ہے جس میں حق اور طاقت آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ ان کی استقامت اور قربانیاں کسی فرد، تنظیم یا لمحاتی سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسے مستقبل کے لیے ہیں جس میں انسان کی حرمت محفوظ ہو، انصاف محض ایک نعرہ نہ ہو، اور قوم اپنے اجتماعی ارادے کے مطابق اپنی تقدیر کا تعین کر سکے۔ اسی لیے ہم رنجیدہ ضرور ہیں، مگر مایوس نہیں؛ ہم محاصرے میں ضرور ہیں، مگر خاموش نہیں؛ ہم جبر کے سائے میں ضرور کھڑے ہیں، مگر سرنگوں نہیں۔
وقت گزر جائے گا، مگر جبر کی یاد باقی رہے گی۔ آنے والی نسلیں شاید ان مقدمات کی تفصیلات بھول جائیں، مگر وہ اس حقیقت کو یاد رکھیں گی کہ ایک دور ایسا بھی تھا جب طاقت اپنے تمام وسائل کے ساتھ ایک بیدار ہوتے ہوئے شعور کے مقابل کھڑی تھی۔ تاریخ بالآخر طاقت کے حجم سے نہیں بلکہ موقف کی صداقت سے اپنا فیصلہ لکھتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ قوموں کی تاریخ میں وہ لوگ باقی رہ جاتے ہیں جو اپنے عہد کے خوف کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اپنے یقین کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔
ریاست کا مکروہ چہرہ مزید عیاں ہوتا جائے گا، یہ جبر یاد رکھا جائے گا، اور آنے والی نسلیں گواہی دیں گی کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب ظلم اپنی پوری قوت کے ساتھ موجود تھا، مگر اس کے مقابل چند لوگ اپنے نظریے، اپنے حق اور اپنی قوم کے ساتھ استقامت سے کھڑے رہے۔ تاریخ کی تمام بڑی تبدیلیاں اسی اخلاقی ثابت قدمی سے جنم لیتی ہیں۔ قوموں کے مستقبل کی بنیاد ہمیشہ وہی لوگ رکھتے ہیں جو طاقت کے سامنے جھکنے کے بجائے سچائی کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔
ہم اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے، کیونکہ یہ محض ہمارے قید ساتھیوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی وقار، انصاف اور قومی بقا کا سوال ہے۔ جب تک جبر اپنی مختلف صورتوں میں موجود رہے گا، مزاحمت بھی اپنی مختلف صورتوں میں زندہ رہے گی۔ کیونکہ مزاحمت محض ایک سیاسی عمل نہیں بلکہ آزادی کی خواہش کا وہ شعور ہے جسے نہ زندانوں میں قید کیا جا سکتا ہے، نہ ہتھکڑیوں سے باندھا جا سکتا ہے، اور نہ ہی خوف کے ذریعے خاموش کیا جا سکتا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































