خونِ بلوچ، قومی وسائل کی لوٹ: ایک استعماری سچائی – گلزمین بلوچ

11

خونِ بلوچ، قومی وسائل کی لوٹ: ایک استعماری سچائی

تحریر: گلزمین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی طاقتور نے کمزور کو دبایا، تو سب سے پہلے اس کی شناخت، اس کی زبان اور اس کا احساسِ تفاخر چھینا جاتا ہے۔ تاریخ کی سب سے بھیانک اور طویل غلامی بر اعظم افریقہ کے لوگوں نے بھگتی۔ افریقی عوام کو صرف جسمانی طور پر ہی زنجیروں میں نہیں جکڑا گیا تھا، بلکہ ان کی نفسیات پر بھی سامراج کا مکمل قبضہ تھا۔ ان سے ان کے نام تک چھین لیے گئے، ان کی اپنی زمین پر ان کی کوئی شناخت نہ رہی۔ صبح سے شام تک بغیر کسی معاوضے اور علاج کے وہ جانوروں کی طرح کام کرتے رہے تاکہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر اتنے کمزور ہو جائیں کہ بغاوت کا سوچ بھی نہ سکیں۔

مغربی سامراج (برطانیہ اور دیگر یورپی اقوام) ان غلاموں کی تجارت کر کے سونا، بارود اور شراب حاصل کرتے تھے اور اپنے معاشی مفادات پورے کرتے تھے۔ اگر کوئی غلام اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا، تو اسے برسوں اندھی کوٹھڑیوں میں سڑا دیا جاتا۔ ان کے پاس اتنی مہلت اور وسائل ہی نہیں تھے کہ وہ اپنے دکھوں کو لکھ کر دنیا کے سامنے لا سکیں۔ انیسویں صدی میں جب اس ظلم کے خلاف تحریکیں اٹھیں، تو یورپی اقوام کو اپنے معاشی نقصانات نظر آنے لگے اور یوں غلامی کا وہ روایتی دور ختم ہوا، مگر سامراجی سوچ ختم نہ ہوئی۔

آج جب میں اپنے وطن بلوچستان کی حالت دیکھتی ہوں، تو مجھے افریقہ کی اسی تاریخ کا ایک جدید روپ نظر آتا ہے۔ کہنے کو تو پاکستان ایک جمہوری ریاست ہے، لیکن یہ جمہوریت صرف کاغذوں کی حد تک محدود ہے۔ لفظ Democracy دو یونانی الفاظ سے مل کر بنا ہے: Demo (عوام) اور kratos (حق یا حکومت)۔ یعنی عوام کا حق کہ وہ اپنے فیصلے خود کریں اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں۔

پاکستان کا آئین (دستور) دفعہ 1 سے لے کر 20 تک شہریوں کو برابر کے حقوق، جان و مال کا تحفظ اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی ضمانت دیتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان کے عوام کو یہ حقوق حاصل ہیں؟ کیا وہ آئین بلوچستان پر لاگو ہوتا ہے؟ جواب ہے، بالکل نہیں۔ خود ریاست کے حکمران اپنے بنائے ہوئے قانون اور آئین کو نہیں مانتے۔ جب کوئی ملک اپنے ہی قوانین کو پسِ پشت ڈال دے، تو وہاں سیاسی اصطلاح میں انارکی (Anarchy) یا طوائف الملوکی جنم لیتی ہے، جہاں طاقتور کا قانون چلتا ہے اور کمزور کو کچل دیا جاتا ہے۔ بلوچستان میں آج یہی انارکی نافذ ہے۔

بلوچستان قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے، جہاں کی سرزمین 400 سے 410 سے زائد قیمتی معدنیات سے مالا مال ہے۔ سوئی کے مقام سے نکلنے والی گیس نے دہائیوں تک پورے پاکستان کے چولہے جلائے اور ان کی صنعتوں کو چلایا، لیکن خود بلوچستان کے چولہے آج بھی جلنے کے لیے لکڑیوں کے محتاج ہیں۔ ہماری گیس، ہمارا سونا، ہمارا تانبا اور ہماری بندرگاہیں بین الاقوامی قوتوں اور یورپی ممالک کے ساتھ مل کر لوٹی جا رہی ہیں، اور بدلے میں بلوچ عوام کو صرف غربت، پسماندگی اور لاشیں مل رہی ہیں۔ یہ ایک بدتہذیب نوآبادیاتی رویہ ہے، جہاں زمین کے مالک بھوکے سوتے ہیں اور غاصب عیاشیاں کرتے ہیں۔

افریقہ کے غلاموں پر جب ظلم ہوتا تھا، تو کم از کم یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ کس قید خانے میں ہیں یا کس گودام میں کام کر رہے ہیں۔ لیکن بلوچستان میں جو ہو رہا ہے، وہ افریقہ کی غلامی سے بھی زیادہ ہولناک ہے۔ یہاں پچھلے 15 سالوں سے زائد عرصے سے ہمارے بھائیوں، بیٹوں اور بزرگوں کو رات کے اندھیرے میں گھروں کی چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کر کے اغوا کیا جاتا ہے۔

محکمہ انسدادِ دہشت گردی (CTD) اور سیکیورٹی فورسز روزانہ معصوم شہریوں کو ہراساں کرتی ہیں۔ سالانہ پچاس سے زائد مسخ شدہ لاشیں پھینک دی جاتی ہیں۔ جو کوئی اپنے حقوق، پانی، بجلی، یا تعلیم کی بات کرتا ہے، اسے “ملک دشمن” کہہ کر لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔ اگر سالوں کی اذیت کے بعد کوئی خوش قسمتی سے قید سے رہا ہو کر واپس آ بھی جائے، تو وہ ذہنی اور جسمانی طور پر اس حد تک معذور ہو چکا ہوتا ہے کہ جیتے جی ایک لاش بن جاتا ہے۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ “جمہوری ریاست” مانتی تک نہیں کہ یہ لوگ ان کی تحویل میں ہیں۔ ہماری اپنی ہی زمین پر ہمارا کوئی بس نہیں چلتا۔

ریاست پاکستان کو ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے: بلوچستان افریقہ نہیں ہے اور نہ ہی بلوچ روایتی غلام ہیں۔ بلوچ وہ غیرت مند اور جری قوم ہے جس نے کبھی کسی غاصب کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ جب انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کیا، تو بلوچوں نے ان کے خلاف دو سو سال تک میدانی جنگ لڑی اور اپنی آزادی کا سودا نہیں کیا۔ پاکستان نے 1948 میں دھوکے اور طاقت کے بل بوتے پر بلوچستان پر قبضہ کیا تھا۔ جیسے بابا خیر بخش مری نے سچ کہا تھا کہ “گدھے پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے، لیکن پنجابی مقتدرہ (سامراجی سوچ) پر نہیں”۔ جس دن یہ قبضہ ہوا، اسی دن سے بلوچستان میں انقلاب کی بنیاد پڑ گئی۔ بلوچ عوام نے اس ظلم کے خلاف ہتھیار بھی اٹھائے اور بڑی بڑی سیاسی و سماجی تحریکیں بھی چلائیں۔ یہ جنگ آج بھی جاری ہے اور تب تک جاری رہے گی جب تک ہمیں ہمارا حق اور آزادی نہیں مل جاتی۔

مجھے ہنسی آتی ہے اس ریاست کی تاریخ پر، جو آزاد 15 اگست کو ہوئی مگر جشن 14 اگست کو مناتی ہے۔ جسے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا، لیکن آج وہی ریاست مذہب کے نام پر، مسجدوں اور مدرسوں کے نام پر دنیا بھر سے بھیک مانگ رہی ہے۔ ان کی کوئی حقیقی تاریخ نہیں ہے۔ جس قائدِ اعظم نے ان کے لیے جدوجہد کی، خود ان کی فوج اور سیاستدانوں نے آخری وقت میں انہیں ایمبولینس میں تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا اور ان کا صحیح علاج تک نہ ہونے دیا۔ جب یہ اپنے بانی کے وفادار نہ ہو سکے، تو بلوچوں کے خیرخواہ کیسے ہو سکتے ہیں؟

ہم پر جھوٹے الزامات لگائے گئے، ہمیں دہشت گرد کہا گیا، ہمارے زخموں پر نمک چھڑکا گیا۔ لیکن اب خاموشی کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ ریاست نے جو مسائل پیدا کیے ہیں، ان کے خلاف اب ایک فیصلہ کن جنگ ہوگی۔ یہ جنگ قلم کی بھی ہے، زبان کی بھی ہے اور میدان کی بھی۔ ہم اپنے لاپتہ بھائیوں کا حساب بھی لیں گے اور اپنی معدنیات کا بھی۔ یہ دھرتی ہماری ہے، اور اس کے فیصلے بھی ہم خود کریں گے۔ بلوچستان افریقہ نہیں ہے، یہ جنگجوؤں اور غیرت مندوں کی سرزمین ہے!


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔