اندرونی جنگ – ساربان بلوچ

53

اندرونی جنگ

تحریر: ساربان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

یہ صرف ایک احساس نہیں، بلکہ ایک مکمل اندرونی جنگ ہوتی ہے۔ باہر سب خاموش لگتا ہے، مگر اندر شور مچا رہتا ہے۔ انسان ہر روز معمول کی زندگی گزارنے کی کوشش کرتا ہے، لوگوں سے ملتا ہے، ہنستا ہے، باتیں کرتا ہے مگر اندر ایک سوال مسلسل کھٹکتا رہتا ہے: “میں آخر کس طرف ہوں؟”

یہ سوال آہستہ آہستہ اس کی نیند، سکون اور خوشیوں کو کھا جاتا ہے۔ ضمیر کو خاموش کرنا سب سے مشکل کام ہے۔

جب اردگرد ظلم، بے بسی، خوف اور ذلت دیکھتا ہے تو پہلے تو انسان خود کو سمجھاتا ہے کہ “یہ میری ذمہ داری نہیں، خاموش رہنا ہی بہتر ہے، وقت خود ٹھیک کر دے گا۔” وہ تماشائی بننے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر جتنا سچ سے بھاگتا ہے، اتنا ہی اندر سے خالی ہوتا جاتا ہے۔ باہر کی آسائشیں عارضی سکون دیتی ہیں، مگر اندر کا درد بڑھتا ہی جاتا ہے۔

پھر ایک دن وہ ان لوگوں کو دیکھتا ہے جو خوف کے باوجود کھڑے ہیں۔ جو اپنی جان، وقت اور سکون قربان کر رہے ہیں۔ ان کی قربانیاں اس کے اندر دفن پڑے سوالات کو جگا دیتی ہیں۔ اس وقت انسان خود کو بہت چھوٹا محسوس کرتا ہے۔ شرم آنے لگتی ہے۔ اور یہیں سے گلٹ (inner guilt) اس پر حاوی ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

گلٹ برا نہیں ہوتا۔ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ ضمیر ابھی زندہ ہے۔ جس کے اندر احساس مر چکا ہو، وہ کبھی بے چین نہیں ہوتا۔ مگر جو سچا انسان ہے، وہ زیادہ دیر خود سے جھوٹ نہیں بول سکتا۔ وہ بہانے بناتا ہے، مصروف رہتا ہے، لوگوں سے دور بھاگتا ہے، مگر رات کے آخری پہر ضمیر سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔

سب سے بڑی قید خوف ہے۔ صرف موت کا نہیں، کچھ کھو دینے کا خوف، خاندان، محبت، عزت، نوکری، محفوظ زندگی۔ انسان سوچتا ہے کہ خاموش رہ لوں تو سکون مل جائے گا، مگر حقیقت یہ ہے کہ خوف کے ساتھ جینے والا کبھی پورا سکون نہیں پا سکتا۔ وہ زندہ رہتے ہوئے بھی اندر سے مرتا جاتا ہے۔

اصل زندگی صرف سانس لینا نہیں ہے۔ اصل زندگی وہ ہے جس میں انسان آئینے میں خود کو دیکھ کر شرمندہ نہ ہو۔ جہاں وہ اپنے ضمیر کے مطابق کھڑا ہو سکے۔ جہاں اس کی زندگی صرف اپنی ذات تک محدود نہ رہے، بلکہ کسی بڑی سچائی یا انصاف سے جڑی ہو۔
خوف کو جب انسان ہرا دیتا ہے تو پہلی بار حقیقی آزادی محسوس کرتا ہے۔

اور یہ آزادی ہمیشہ بڑی جنگ لڑنے سے نہیں آتی۔ کبھی سچ بولنے سے آتی ہے، کبھی ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے، کبھی ایک اچھی بات پھیلانے سے، کبھی مایوس لوگوں میں امید بننے سے۔ ایک قلم بھی مزاحمت بن سکتا ہے۔ ایک سچا لفظ بھی بڑا اثر کر سکتا ہے۔

انسان کی سب سے بڑی ہار یہ نہیں کہ وہ مر جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ جیتے جی اپنی حقیقت کھو دے۔ جب کوئی مسلسل اپنے ضمیر کے خلاف زندگی گزارتا ہے تو آہستہ آہستہ وہ ایک خالی جسم بن جاتا ہے نہ خوشی، نہ سکون، نہ کوئی مقصد۔ بس وقت کاٹتا رہتا ہے۔اسی لیے ہر انسان کی زندگی میں ایک لمحہ ضرور آتا ہے جہاں فیصلہ کرنا پڑتا ہے:
• یا تو خوف اور خاموشی میں ہی جیتا رہوں،
• یا اپنی سچائی کے ساتھ کھڑا ہونے کی ہمت کروں۔
سکون اور عزت آخر کار انہی لوگوں کو ملتی ہے جو اپنے ضمیر کا ساتھ نہیں چھوڑتے کیونکہ حقیقی زندگی، حقیقی آزادی اور انسان ہونے کی اصل قیمت یہی ہے۔ اپنے ضمیر کے مطابق جینا ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔