سدگنج المعروف سدو
تحریر: نسرین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
شہناز بلوچ اپنی ادبی سرگرمیوں اور ادبی سرکل میں اپنی شناخت شہناز کی بجائے سد گنج سے کرواچکی تھی پھر حلقہ احباب اور دوستوں کی مہر و قربت کی سبب سد گنج سے سدو مشہور و المعرف ہوا لیکن آج سد گنج ، سدو ہم جیسے تصوراتی ، لفاظی ، دعواداری ، بھڑک بازیوں اور اپنی اپنی سرنگوں دنیا میں مشغول ہماری سدو ، تمھاری سدو اور سب کی سدو ہم سے بہت دور چلی گئی آج وہ سدو نہیں رہی ،وہ ادبی دنیا میں نہیں رہی ، آج وہ گرم و نرم ، سرد و سکون بنگلوں و عمارات میں نہیں رہی ، آج اس کے ہاتھ میں قلم نہیں بندوق ہے۔
آج وہ کتابوں کی دلیل سے بات نہیں کرتی بندوق کی گولی کو دلیل مانتی ، آج وہ سدو سے کمانڈر شہناز بن کر شہباز بن چکی ہے وہ شہباز جس کو بلند چٹانوں پر مسکن بنانے کی عادت ہے اس کی فطرت پہاڑ ، چٹان دشت و گیابان ہے ، وہ اپنی فطرت کی لکھی ہوئی لکھیر کو کیھنچ کر آج پر عزم ہے وہ ہم سب سے ہی ہے اب ہم سب سے ہی الگ ہے ہم زندگی کو معنی دینے کے تلاش میں اب تک بھٹکتے اور الجھتے ہوئے نہ ادھر کا نہ ادھر کے سرگردان موڑ پر کھڑے ہیں مگر سدو نے اپنی زندگی کو معنی دے چکی ہے ہم ہوا کی رخ پر ٹیلتے و چلتے اپنی مقصد کی جستجو میں ہے سدو اپنی مقصد کا انتخاب کرکے اب ہوا کا رخ اپنی مقصد کی طرف موڑنے کی کوشش میں ہے۔
مجھے ابھی خاص تاریخ یاد نہیں اور سال یاد نہیں تقریباً تین سال قبل جب میر ی تمپ کے علاقہ بالیچہ میں سدو سے ملاقات ہوئی
تو میں دنیاوی گپ و شپ کے ساتھ علاقائی ، سیاست ، ادب شاعری وغیرہ کی بات شروع کی تو سدو کچھ رائے نہیں دے رہی تھی وہ اپنی سر ہلا کر اپنی خاموش مسکراہٹ سے اپنی رائے دی رہی تھی لیکن میں سمجھ نہ سکا کہ سدو کی اندر جو چل رہی ہے ، وہ کیا ہے؟ میں بلکل نہیں سمجھ سکی کیونکہ وہ خاموش مسکرائٹ سادہ نہیں تھی، جب میں اچانک فدائی شاری بلوچ کے بارے میں بات شروع کی تو مجھے اور کچھ محسوس نہیں ہوا، صرف سدو کی پرمہر و پر خلوص مسکرائٹ کے ساتھ سدو کی آنکھوں میں آنسو چھلکنے لگے مگر پھر بھی میں نہیں سمجھ سکی ، سدو کہاں پر کھڑی ہے ؟ کیا سوچتی ہے ؟ کیا کرتی ہے ؟ کیوں چپ ہے ،
کیونکہ وہ اپنی گفتگو اور گپ شپ محض مسکرائٹ سے کررہی تھی۔ مجھے کچھ بھی اندازہ نہیں ہورہی تھی، ابھی جب سدو اپنی ادبی سفر سے کمانڈر شہناز تک اپنی پرکھٹن سفر طے کرچکی ہے مجھے اب سمجھ آگئی سدو کی مسکرائٹ محض مسکرائٹ نہیں بلکہ سدو کی مسکرائٹ میں ایک خاموشی تھی ، رازداری تھی ، درد تھی ، امید تھی ، حوصلہ تھی ، پختگی تھی اور ایک بے چین کیفیت تھی۔
جی ہاں وہی کیفیت ہے جو اسے معنی دیتے ہیں وہ سدو سے کمانڈر شہناز بن جاتے ہیں اور پھر شہناز سے تحلیل ہوکر تاریخ بن جاتے ہیں
اگر جو معنی دینے کے اہل نہیں ہوتے ہیں وہ ہماری طرح بس گڑگٹ کی طرح رنگ بدلتے بدلتے زندگی میں بھی اور تاریخ میں بھی بے رنگ لفافہ ہی ہوتے ہیں۔ سدو کی بطور کمانڈر وڈیو میری نظروں سے گزری تو مجھے اسی وقت ساحِر لُدھیانوی کی یہ شعر یاد آئی،
کون آیا کہ ٫ نِگاھوں میں چَمک جاگ اُٹھی
دِل کے سوئے ھُوئے تاروں میں ٫ کَھنک جاگ اُٹھی.
کِس کے آنے کی ٫ خبر لے کے ٫ ھَوائیں آئیں؟
جِسم سے ٫ پُھول چَٹکنے کی ٫ صَدائیں آئیں
رُوح کِھلنے لگی ٫ سانسوں میں ٫ مَہک جاگ اُٹھی۔
کون آیا؟
میں کہتی ہوں کمانڈر شہناز میدان ء جنگ میں آچکی ہے وہ اپنے ساتھ امید و حوصلہ اور ہمت لیکر آئی ہے ، وہ ہماری فرسودہ سماج کی فرسودہ زنجیروں کو توڑ کر ایک روشن سماج اور ایک تابناک مستقبل کی نوید لیکر آئی ہے ، وہ بلوچ عورتوں کو پیغام دی، ہم کمزور نہیں ہمیں کمزور کیا گیا ہے۔
بی ایل اے جیسی ایک انتہائی طاقت ور اور مہلک تنظیم میں سدو بطور کمانڈر یہ صرف سدو کے لیے اعزاز نہیں بلکہ تمام بلوچ عورتوں کے لیے ایک رستہ ،ایک حوصلہ اور ایک اہم فیصلہ ہے ، میں بس آخر میں اپنی دزگہوار سدو کو یہ کہتی ہوں آج بھی تمپ کلاہو آپ کو تو یاد کرتی ہے مگر ایک شاعرہ نہیں ، ایک سیاسی کارکن نہیں اور اماں رکسانہ ذابد کی بیٹی نہیں بلکہ آج پورے بلوچستان میں آپ کمانڈر شہناز ہو مجھے فخر آج تم پر ، تمہاری بہادری پر اور تمہاری قربانیوں پر میری دعا ہے آپ ہمیشہ ہمیشہ اسی طرح کامیاب رہو، میں تمھاری ساتھ نہ ہوتے ہوئے تمہاری ساتھ ہوں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































