وی بی ایم پی کے احتجاجی کیمپ کو 6161 روز مکمل

0

جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ آج 6161ویں روز بھی جاری رہا۔ احتجاجی کیمپ کی قیادت تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد نے کی۔

اس دوران مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا، انہوں نے جبری گمشدگیوں کے فوری خاتمہ اور لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر جبری لاپتہ فیض بلوچ کے اہلِ خانہ نے وی بی ایم پی کے سیکرٹری جنرل حوران بلوچ سے رابطہ کیا۔ لواحقین کے مطابق فیض بلوچ ولد جان محمد، سکنہ ملانٹ، کو یکم مارچ 2020 کو سیکورٹی فورسز نے گھر سے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

لواحقین نے بتایا کہ تین سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود نہ تو فیض بلوچ کو کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت اور کرب کا شکار ہے۔

وی بی ایم پی کے سیکرٹری جنرل حوران بلوچ نے اہلِ خانہ کو یقین دہانی کرائی کہ فیض بلوچ کے کیس کو ملکی قوانین کے تحت اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھایا جائے گا اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔

انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ فیض بلوچ کی فوری اور باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے، اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ خاندان کی طویل اذیت کا خاتمہ ہوسکے۔