جامعہ گوادر کے وائس چانسلر اور اساتذہ کے اغوا کے خلاف بلوچستان میں احتجاج

3

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (VBMP) اور بی ایس او پجار سمیت مختلف تعلیمی و سماجی حلقوں نے جامعہ گوادر کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر منظور بلوچ، فیکلٹی ممبر ڈاکٹر ارشاد بلیدی اور دیگر افراد کے اغوا کے خلاف شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

گوادر، لسبیلہ، سبی اور بلوچستان کی دیگر جامعات میں اساتذہ، افسران اور طلبہ و طالبات نے احتجاجی مظاہرے کیے، جن میں مغوی اساتذہ کی بحفاظت رہائی اور صوبے میں امن و امان کی بحالی کے حق میں نعرے لگائے گئے۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر تعلیمی شخصیات کے تحفظ اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے مطالبات درج تھے۔

احتجاجی شرکاء کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ کا اس طرح لاپتہ ہونا نہ صرف علمی حلقوں میں خوف و ہراس پیدا کر رہا ہے بلکہ اس سے اساتذہ اور طلبہ میں عدم تحفظ کا احساس بھی بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعلیمی اداروں سے وابستہ شخصیات اور ان کے خاندانوں کے تحفظ کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں اور واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مظاہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک مغوی اساتذہ کو بحفاظت بازیاب نہیں کرایا جاتا، احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معمارانِ قوم پر حملے دراصل معاشرے کو جہالت کی تاریکی میں دھکیلنے کی کوشش ہیں، جنہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ جامعہ گوادر کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر منظور بلوچ، ڈاکٹر ارشاد بلیدی اور دیگر افراد کا مبینہ اغوا انتہائی تشویشناک ہے، جس کی تنظیم شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام مغوی اساتذہ کو فوری اور بحفاظت بازیاب کر کے ان کی خیریت یقینی بنائی جائے۔

دوسری جانب بی ایس او پجار کے مرکزی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور ڈاکٹر منظور بلوچ جیسے علمی و فکری شخصیات کو نشانہ بنانا بلوچستان کے تعلیمی، فکری اور سماجی ماحول پر حملہ ہے۔ ترجمان کے مطابق ڈاکٹر عبدالرزاق صابر ایک معروف دانشور، ادیب اور محقق ہیں جنہوں نے اپنی زندگی نوجوان نسل کی علمی تربیت کے لیے وقف کر رکھی ہے، جبکہ ڈاکٹر منظور بلوچ بھی تدریسی میدان میں ایک معتبر نام رکھتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان پہلے ہی تعلیمی پسماندگی، بے روزگاری اور نوجوانوں میں بڑھتی بے چینی جیسے مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں اساتذہ اور دانشوروں کا عدم تحفظ پورے تعلیمی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

بی ایس او پجار نے حکومت بلوچستان، متعلقہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والے حکام سے مطالبہ کیا کہ مغوی اساتذہ کی فوری، محفوظ اور باعزت بازیابی یقینی بنائی جائے، واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔

تنظیم نے بلوچستان کے نوجوانوں، طلبہ تنظیموں، سیاسی و سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ اہلِ علم کی بحفاظت بازیابی کے لیے مشترکہ آواز بلند کریں، کیونکہ خاموشی ایسے واقعات کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔