بی این پی کا ملک ابراہیم شاہوانی کے گھر چھاپے، خواتین و بچوں کو ہراساں کرنے کی شدید مذمت

96

بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق علاقائی کونسلر ملک ابراہیم شاہوانی کے گھر پر گزشتہ رات پاکستانی فورسز کی جانب سے کیے گئے بلاجواز چھاپے، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی، خواتین اور بچوں کو ہراساں کرنے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے کے عمل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتی ادارے صوبے میں امن و امان قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور اپنی نااہلی و ناکامی چھپانے کے لیے سیاسی کارکنوں اور باشعور عوام کو انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

بیان کے مطابق ملک ابراہیم شاہوانی ایک معروف سیاسی و سماجی شخصیت ہیں، جو طویل عرصے سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے جمہوری، آئینی اور قومی حقوق کی جدوجہد سے وابستہ ہیں۔ ایسے سیاسی کارکنوں کے گھروں پر رات کی تاریکی میں دھاوا بولنا، اہل خانہ کو خوفزدہ کرنا اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنا بدترین جبر اور کھلی غنڈہ گردی کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے عوام کو تحفظ فراہم کرنے، بدامنی پر قابو پانے اور بلوچستان کے سنگین مسائل حل کرنے کے بجائے بلاجواز چھاپوں، گرفتاریوں، ہراسانی اور سیاسی انتقام کے ذریعے صوبے میں مزید اشتعال، بے چینی اور نفرتیں پھیلانے میں مصروف ہیں۔ اس قسم کے غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے حالات مزید خراب ہوں گے اور عوام میں اداروں کے خلاف بداعتمادی میں اضافہ ہوگا۔

بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اس قسم کے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والی نہیں اور نہ ہی سیاسی کارکنوں کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت، جبر، چھاپوں اور گرفتاریوں سے سیاسی و قومی تحریکوں کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکا۔

بیان کے آخر میں مطالبہ کیا گیا کہ سیاسی کارکنوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، بصورت دیگر بلوچستان نیشنل پارٹی سخت عوامی اور سیاسی ردعمل کا حق محفوظ رکھتی ہے۔