بلوچستان میں چند سو افراد کی گمشدگی پر واویلا مچایا جارہا ہے۔ حمزہ شفقت

29

امریکی جریدے کے مطابق ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ بلوچستان نے دعویٰ کیا ہے کہ چند سو افراد کی گمشدگی کو بہت بڑا کرکے پیش کیا جارہا ہے۔

نیویارک ٹائمز رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں تعینات ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ حمزہ محمد شفقت نے مؤقف اختیار کیا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کی تعداد محدود ہے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ موسمِ گرما تک 195 افراد لاپتہ قرار دیے گئے تھے۔

اس تناظر سیکرٹری داخلہ نے سوال اٹھایا کہ “چند سو افراد” کے معاملے پر اتنا زیادہ ردعمل کیوں سامنے آ رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت نئے حراستی مراکز قائم کرنے پر غور کر رہی ہے جہاں مشتبہ افراد کو 90 دن تک رکھا جا سکے گا، ان مراکز میں زیرِ حراست افراد کو اپنے اہلِ خانہ سے رابطے کی اجازت ہوگی، تاہم اس دوران انہیں قانونی نمائندگی یعنی وکیل تک رسائی حاصل نہیں ہوگی۔

یاد رہے کہ حکومت بلوچستان ہمیشہ جبری گمشدگیوں کے حوالے غلط بیانی یا تو جبری گمشدگیوں کے معملات سے مکمل طور پر لاعلمی کا اظہار کرتی رہی ہے، تاہم اس مؤقف کو مقامی سماجی و سیاسی تنظیموں کے کارکنان اور متاثرہ خاندانوں نے مسترد کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی اصل تعداد سرکاری دعوؤں سے کہیں زیادہ ہے اور بہت سے کیسز یا تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے یا انہیں تسلیم نہیں کیا جاتا۔

واضح رہے کہ حمزہ شفقت کی بلوچستان میں تعیناتی کے بعد بلوچستان میں سیاسی و سماجی تنظیموں بلخصوص بی وائی سی کے خلاف شدید کریک ڈآؤن کیا گیا جبکہ مختلف نئے قوانین کے تحت سیاسی قیادت کو جیلوں میں بند کرنے اور انکے رشتہ داروں کو فورتھ شیڈول میں ڈال کر نکل و حرکت پر پابندی عائد کیا گیا ہے۔