بلوچستان میں تین افراد کے ماروائے قتل پر بی وائی سی کی مذمت، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی توجہ کا مطالبہ

2

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے ضلع کیچ، پنجگور اور واشک سے تعلق رکھنے والے تین افراد، صدام ولد محراب علی، شاہ حسین ولد شفی جان اور شبیر احمد ولد صبرو خان کے قتل کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور تشدد کے تسلسل کا حصہ قرار دیا ہے۔

بی وائی سی کے مطابق صدام، جو 28 سالہ مکینک تھے اور تربت کے علاقے شاپک کے رہائشی تھے، 12 جون 2026 کو تربت کے ڈی بلوچ علاقے سے مردہ حالت میں پائے گئے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کی ہلاکت نے خاندان کو شدید صدمے اور غم میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ واقعے کے حالات نے مقامی آبادی اور انسانی حقوق کے مبصرین میں تشویش پیدا کی ہے۔ صدام اپنے خاندان کی کفالت ایک مکینک کے طور پر کرتے تھے اور ان کی ہلاکت بلوچستان میں شہریوں کو درپیش عدم تحفظ اور تشدد کے ماحول کی عکاسی کرتی ہے۔

دوسری جانب بی وائی سی نے پنجگور کے علاقے تسپ سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ پولیس کانسٹیبل شاہ حسین کے قتل کی بھی مذمت کی۔ تنظیم کے مطابق شاہ حسین کو 29 اکتوبر 2025 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا اور 3 نومبر کو ایک غیر اعلانیہ حراستی مرکز سے رہا کیا گیا، تاہم 24 مئی 2026 کو انہیں ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہ نے قتل کر دیا۔ بی وائی سی کا کہنا ہے کہ شاہ حسین ایک سرکاری ملازم تھے اور عوام کی حفاظت کے فرائض انجام دے رہے تھے، لیکن ان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ سرکاری اہلکار بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

تنظیم نے ضلع خضدار کے علاقے گریشہ نال کے رہائشی 19 سالہ کسان شبیر احمد کے قتل پر بھی گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔ بی وائی سی کے مطابق شبیر احمد کو 27 اپریل 2026 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا اور ایک ماہ سے زائد عرصے تک ان کے اہل خانہ ان کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ بعد ازاں 8 جون 2026 کو ان کی گولیوں سے چھلنی لاش واشک کے علاقے بسیمہ سے برآمد ہوئی۔ بی وائی سی کے مطابق شبیر احمد اپنے خاندان کی کفالت زراعت کے ذریعے کرتے تھے اور ان کی ہلاکت نے اہل خانہ کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔

بی وائی سی نے کہا کہ یہ تینوں واقعات بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے موجود سنگین خدشات کی عکاسی کرتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق متاثرہ خاندان طویل عرصے تک اپنے پیاروں کی تلاش اور انصاف کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے رہتے ہیں، لیکن اکثر انہیں اپنے عزیزوں کی لاشیں ملتی ہیں۔

بی وائی سی نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں، اقوام متحدہ اور عالمی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور متاثرین و ان کے خاندانوں کے لیے انصاف کی فراہمی اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔