جب ہم آئیں گے
تحریر: سفر خان بلوچ (آسگال)
دی بلوچستان پوسٹ
رات کی سیاہی کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو، راستے کتنے ہی کٹھن اور طویل کیوں نہ ہوں، وقت ہمارے قدموں کو روکنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرے، ہم اپنے ٹوٹے ہوئے بندھن، بکھرے ہوئے خواب اور ادھوری داستانیں سمیٹ کر ایک بار پھر لوٹیں گے۔ جب ہم آئیں گے، تو صرف ہماری واپسی نہیں ہوگی، جب ہم آئیں گے تو سب سے پہلے اس بدتہذیب دشمن کو سبق سکھانے کے لیے اس کے کیمپوں میں گھس جائیں گے۔ دھرتی کے فرزند پوری شدت اور عزم کے ساتھ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کریں گے، اور اپنے خون سے اس سرزمین کی حفاظت کی داستان رقم کریں گے۔ اُس دن چاروں طرف گھمسان کی جنگ برپا ہوگی، اور گولیوں کی گونج فضا میں سنائی دے گی۔ دشمن شکست کے خوف سے بھاگنے کے راستے تلاش کر رہا ہوگا، جبکہ نوجوان اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہوں گے۔ بوڑھی مائیں مصلّوں پر بیٹھی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی کامیابی کے لیے دعائیں مانگ رہی ہوں گی۔
وہ دن فتح و کامیابی کا دن ہوگا، اور دشمن کی پسپائی اور شکست کا دن ثابت ہوگا۔ بلکہ امید کی ایک نئی صبح بھی ہمارے ساتھ ہوگی۔ وہ چراغ جو طوفانوں نے بجھانے کی کوشش کی تھی، پھر روشن ہوں گے۔ جب ہم آئیں گے، تو ہماری ماؤں کی دعائیں ہمارے سروں کا سائبان ہوں گی۔ ان کی جاگی ہوئی راتوں کا نور ہمارے راستوں کو منور کرے گا۔ ان کے آنسو ہماری کمزوری نہیں، بلکہ ہمارے حوصلوں کی طاقت بن چکے ہوں گے۔ جب ہم آئیں گے، تو خدا پر توکل ہمارے دلوں میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگا۔ ہم جانتے ہوں گے کہ آزمائشوں کے طویل سفر کے بعد رحمت کی منزل ضرور آتی ہے۔
جب ہم آئیں گے، تو وقت گواہی دے گا کہ حوصلے کبھی نہیں مرتے، عزم کبھی نہیں ٹوٹتا، اور وہ لوگ جو سچائی اور یقین کے ساتھ سفر کرتے ہیں انہیں راستوں کی دشواریاں روک نہیں سکتیں۔
جب ہم آئیں گے، تو ہمارے ہاتھوں میں کامیابی کی بیرک ہوگی، آنکھوں میں تکمیلِ خواب کی چمک ہوگی، اور دلوں میں شکر کے سجدے ہوں گے۔
جب ہم آئیں گے، تو دنیا صرف ہماری آمد نہیں دیکھے گی، بلکہ یہ بھی دیکھے گی کہ دعاؤں، صبر، قربانی اور یقین سے لکھی گئی داستانیں کبھی ادھوری نہیں رہتیں۔ اور جب ہم آئیں گے، تو تاریخ کے اوراق پر یہ لکھا جائے گا کہ جن لوگوں نے تاریکیوں میں بھی امید کا دامن نہ چھوڑا، وہی ایک دن روشنی کے علمبردار بن کر لوٹے تھے۔
جب ہم آئیں گے، تو فتح صرف ہماری نہیں ہوگی، بلکہ ہر اُس دعا کی ہوگی جو کسی ماں نے رات کے آخری پہر اپنے رب کے حضور مانگی تھی۔ وہ راستے جو برسوں سے سنسان اور اداس پڑے ہوں گے، ہمارے قدموں کی آہٹ سن کر جاگ اٹھیں گے۔ درختوں کی بوڑھی شاخیں ہوا کے ساتھ جھومیں گی اور موسموں کی تھکی ہوئی سانسوں میں ایک نئی تازگی شامل ہو جائے گی۔
جب ہم لوٹیں گے تو ماؤں کی دعائیں ابھی تک ہمارے سروں پر سایہ کیے ہوئے ہوں گی۔ ان کے ہاتھوں کی لرزش میں امید باقی ہوگی۔ ان کی آنکھوں کے کناروں پر ٹھہرے ہوئے آنسو خوشی کی چمک میں بدل جائیں گے۔ وہ برسوں کی راتوں میں جاگ کر مانگی گئی دعاؤں کا حساب آسمان سے وصول کریں گی۔ اور تب انہیں محسوس ہوگا کہ انتظار کبھی ضائع نہیں جاتا۔ جب ہم لوٹیں گے تو صبح پہلے سے زیادہ روشن ہوگی۔ سورج پہاڑوں کے پیچھے سے اسی طرح نکلے گا، مگر اس کی روشنی میں ایک نئی معنویت ہوگی۔ اس کی پہلی کرنیں چوٹیوں کو چھوتی ہوئی وادی کے ہر کونے میں امید کا پیغام لے کر اتریں گی۔ ندیوں کا پانی پہلے سے زیادہ شفاف دکھائی دے گا۔ چشموں کی آواز پہلے سے زیادہ شیریں محسوس ہوگی۔ اور زمین، جو طویل عرصے تک خاموش دکھائی دیتی رہی ہوگی، نئی زندگی کے آثار سے بھر جائے گی۔
جب ہم لوٹیں گے تو گاؤں کی گلیاں ہمیں یاد رکھتی ہوں گی۔ مٹی کی دیواروں پر بچپن کی ہنسیوں کے نشان باقی ہوں گے۔ پرانے دروازے ہماری واپسی کی آہٹ سن کر چرچرا اٹھیں گے۔ صحنوں میں لگے ہوئے درخت ہمیں دیکھ کر جیسے اپنی شاخیں پھیلا دیں گے۔ ہر چیز وقت کی لمبی مسافت طے کرنے کے باوجود ہمیں پہچان لے گی۔ کیونکہ محبت کے رشتے وقت سے کمزور نہیں ہوتے۔
جب ہم لوٹیں گے تو بزرگ اپنی سفید داڑھیوں میں مسکراہٹ چھپائے بیٹھے ہوں گے۔ وہ آنے والی نسلوں کو بتائیں گے کہ امید کو کبھی مرنے نہیں دینا چاہیے۔ وہ سنائیں گے کہ کیسے بعض خواب ایک دن میں پورے نہیں ہوتے۔ کیسے بعض خواہشیں نسلوں کی امانت بن جاتی ہیں۔ اور کیسے بعض راستے صدیوں کے انتظار کے بعد منزل تک پہنچتے ہیں۔
جب ہم لوٹیں گے تو بچے کھلے میدانوں میں دوڑ رہے ہوں گے۔ ان کی آنکھوں میں خوف کی جگہ تجسس ہوگا۔ ان کے سوال زندگی کے بارے میں ہوں گے، جدائی کے بارے میں نہیں۔ ان کے خواب تعمیر کے ہوں گے، بربادی کے نہیں۔ اور یہی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
جب ہم لوٹیں گے تو ہماری زمین پھر سے کہانیاں سنائے گی۔ پہاڑ اپنے سینوں میں چھپی ہوئی صدیوں کی یادیں دہرا ئیں گے۔ چشمے گنگنائیں گے۔ ہوا پرانی داستانوں کو نئے لفظ عطا کرے گی۔ اور ہر سمت ایسا محسوس ہوگا جیسے وقت نے ایک طویل زخم پر مرہم رکھ دیا ہو۔ اس دن مائیں اپنے ہاتھوں پر مہندی سجائیں گی۔ مگر یہ مہندی کسی ملاقات کی نہیں، بلکہ فتح کی مہندی ہوگی۔ یہ برسوں کے انتظار کے اختتام کی مہندی ہوگی۔ یہ اس خوشی کی مہندی ہوگی جو صبر کے طویل موسموں کے بعد نصیب ہوتی ہے۔ اس دن گھروں کے دروازے کھلے ہوں گے۔ چراغ روشن ہوں گے۔ دعائیں شکرانے میں بدل جائیں گی۔ اور آنکھوں میں ٹھہری ہوئی نمی مسکراہٹوں میں ڈھل جائے گی۔ جب ہم لوٹیں گے تو وطن صرف ایک سرزمین نہیں رہے گا۔ وہ ان تمام خوابوں کی تعبیر بن چکا ہوگا جو نسلوں نے اپنے دلوں میں سنبھال کر رکھے تھے۔ وہ ان تمام دعاؤں کا جواب ہوگا جو ماؤں نے راتوں کے آخری پہر مانگی تھیں۔ وہ ان تمام امیدوں کا گھر ہوگا جو کبھی ٹوٹنے نہیں دی گئیں۔ اور جب وہ صبح آئے گی، تو پہاڑ، وادیاں، درخت، ندیاں اور انسان سب ایک ساتھ گواہی دیں گے کہ صبر کا سفر طویل ضرور ہوتا ہے، مگر بے معنی نہیں ہوتا۔ تب افق پر ابھرتا ہوا سورج ایک نئے دور کا اعلان کرے گا۔ اور ہم جان لیں گے کہ ہر تاریک رات کے بعد آنے والی روشنی پہلے سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ صرف صبح نہیں ہوگی۔ وہ واپسی ہوگی۔ وہ امید ہوگی۔ وہ نسلوں کے خوابوں کی تعبیر ہوگی۔ اور وہی دن ہماری داستان کا سب سے روشن باب ہوگا۔
اس دن جب محبوبہ کو اپنے محبوب کی آمد کی خبر ملے گی تو اس کے دل میں برسوں سے سوئی ہوئی خوشیاں ایک ساتھ جاگ اٹھیں گی۔ اس کی دھڑکنیں بے اختیار تیز ہو جائیں گی، آنکھوں میں چمک اتر آئے گی اور ہونٹوں پر ایک ایسی مسکراہٹ سج جائے گی جسے وہ خود بھی چھپا نہ سکے گی۔ وہ سب سے پہلے خود کو دلہن کی طرح سنوارے گی، جیسے برسوں سے اسی ایک دن کا انتظار کر رہی ہو۔ ہر زیور، ہر لباس اور ہر انداز میں وہ اپنے دل کی خوشی سمو دینے کی کوشش کرے گی۔ پھر وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر خود کو دیکھے گی۔ کبھی اپنے چہرے کو غور سے دیکھے گی، کبھی شرما کر نظریں جھکا لے گی، اور کبھی اپنی ہی کیفیت پر ہلکے سے مسکرا اٹھے گی۔ اس لمحے اس کے ذہن میں وہ تمام یادیں گردش کرنے لگیں گی جو اس نے اپنے محبوب کے انتظار میں جمع کر رکھی تھیں۔ وہ سوچے گی کہ آخرکار وہ گھڑی آ ہی گئی جس کے لیے اس نے نہ جانے کتنی دعائیں مانگی تھیں، کتنی راتیں جاگ کر گزاری تھیں اور کتنے موسم تنہائی میں کاٹے تھے۔ جب دونوں ایک دوسرے کے سامنے آئیں گے تو وقت جیسے چند لمحوں کے لیے تھم سا جائے گا۔ برسوں کی دوری کے باوجود ان کی نگاہوں میں ایک ایسی اپنائیت ہوگی جو کبھی ماند نہیں پڑی۔ دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے کو ڈھونڈتے ہوئے ملیں گی، پھر شرم سے جھک جائیں گی۔ دل میں ہزاروں باتیں ہوں گی، مگر زبان خاموش ہوگی۔ ان کی خاموشی ہی ان کے جذبات کی سب سے خوبصورت ترجمان بن جائے گی۔ اسی دوران محبوب کی نظر محبوبہ کے بالوں میں جھلکتی سفیدی پر پڑے گی۔ ایک لمحے کے لیے اس کا دل بھر آئے گا اور اس کی آنکھوں کے سامنے وہ تمام سال گزر جائیں گے جو جدائی، انتظار اور آزمائشوں میں بیت گئے تھے۔ اسے احساس ہوگا کہ وقت نے دونوں سے اپنی قیمت وصول کی ہے۔ ان بالوں کی سفیدی صرف عمر کی کہانی نہیں ہوگی بلکہ ان بے شمار راتوں کی گواہی ہوگی جو انتظار میں گزریں، ان آنسوؤں کی نشانی ہوگی جو خاموشی سے بہائے گئے، اور ان دعاؤں کا عکس ہوگی جو ہر دن وصال کی امید میں مانگی گئیں۔ مگر اس احساس کے باوجود اس کی محبت میں ذرہ برابر کمی نہیں آئے گی۔ بلکہ وہ محبت پہلے سے کہیں زیادہ گہری، سچی اور قیمتی محسوس ہوگی۔ کیونکہ اب وہ صرف جذبات کا نام نہیں رہے گی بلکہ قربانی، وفاداری، صبر اور استقامت کی ایک مکمل داستان بن چکی ہوگی۔ وہ جان لے گا کہ حقیقی محبت چہروں کی تازگی یا جوانی کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ وہ دلوں کی سچائی اور روحوں کے تعلق سے زندہ رہتی ہے۔ پھر دونوں کو ایک ساتھ یہ احساس ہوگا کہ اس طویل سفر نے ان سے کتنی خواہشوں کی قربانی مانگی، کتنے خواب ادھورے چھوڑے، کتنی خوشیاں ان سے چھین لیں اور کتنے قیمتی لمحے ان کے انتظار کی نذر ہوگئے۔ لیکن اسی کے ساتھ انہیں یہ بھی سمجھ آ جائے گا کہ ان تمام قربانیوں نے ان کی محبت کو کمزور نہیں کیا بلکہ اسے اور مضبوط، اور پاکیزہ بنا دیا ہے۔ اس دن ماضی کے تمام زخم، تمام دکھ، تمام تنہائیاں اور تمام شکایتیں اپنی اہمیت کھو دیں گی۔ کیونکہ برسوں کی جدائی کے بعد وہ ایک دوسرے کے سامنے موجود ہوں گے۔ وہ کٹھن، طویل اور آزمائشوں سے بھرا سفر جس نے انہیں بارہا تھکایا، رلایا اور آزمایا تھا، آخرکار اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہوگا۔ اور پھر ان کے دلوں میں یہ یقین اتر جائے گا کہ اب انتظار ختم ہو چکا ہے۔ اب حسرتوں کے موسم بیت چکے ہیں۔ اب جدائی کی راتیں ختم ہو گئی ہیں۔ اب ان کی زندگی میں ایک نئے باب کا آغاز ہو رہا ہے؛ ایسا باب جس میں سکون ہوگا، اپنائیت ہوگی، ساتھ ہوگا اور وہ تمام خوشیاں ہوں گی جن کے لیے انہوں نے عمر بھر صبر کیا تھا۔ اس دن انہیں محسوس ہوگا کہ بعض منزلیں دیر سے ضرور ملتی ہیں، مگر جب ملتی ہیں تو انسان اپنے تمام دکھ، تمام قربانیاں اور تمام انتظار بھول جاتا ہے۔ آخرکار وہ گھڑی آئے گی جب قربانیوں، صبر اور استقامت کا ثمر سامنے ہوگا۔
وہ دن صرف ایک کامیابی کا دن نہیں ہوگا بلکہ اُن تمام جذبوں، دعاؤں اور قربانیوں کی تکمیل کا دن ہوگا جو برسوں سے دلوں میں پروان چڑھ رہے تھے۔ نوجوانوں کی ہمت، بزرگوں کی رہنمائی اور ماؤں کی دعائیں مل کر ایک ایسی داستان رقم کریں گی جسے تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔
جب گرد بیٹھ جائے گی اور آزمائش کی وہ گھڑیاں گزر جائیں گی تو ہر طرف فتح اور امید کی ایک نئی روشنی پھیل چکی ہوگی۔ لوگ اپنے شہیدوں اور قربانیاں دینے والوں کو عزت و احترام سے یاد کریں گے اور آنے والی نسلوں کو ان کے عزم، حوصلے اور ثابت قدمی کی مثالیں سنائیں گے۔ یہ کامیابی صرف ایک لمحے کی نہیں بلکہ اُن بے شمار جدوجہدوں اور قربانیوں کا حاصل ہوگی جنہوں نے قوم کے حوصلے کو مضبوط رکھا۔
عظیم مقاصد ہمیشہ صبر، قربانی، اتحاد اور ثابت قدمی سے حاصل ہوتے ہیں۔ جو قومیں اپنے اصولوں پر قائم رہتی ہیں، مشکلات کے سامنے ہمت نہیں ہارتیں اور اپنے مستقبل پر یقین رکھتی ہیں، تاریخ میں سربلند رہتی ہیں۔ یہی جذبہ ہماری طاقت ہے، یہی ہماری پہچان ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں کامیابی، عزت اور روشن مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔
اس دن شاہد ہم جسمانی طور پر ساتھ نہ ہوں مگر اس دن ہم ساتھ ہونگے اور اسی دن ہم لوٹ آئینگے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔













































