خضدار: خاتون چچا زاد بھائی سمیت جبری لاپتہ

0
File Photo

پاکستانی فورسز نے ایک خاتون اور ایک مرد کو جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع خضدار سے موصول اطلاعات کے مطابق رات گئے پاکستانی فورسز نے نال کے علاقے استخلی میں ایک گھر میں داخل ہو کر اہلِ خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور وہاں موجود ایک خاتون اور اس کے کزن کو اپنے ہمراہ لے گئے۔

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی خاتون کی شناخت سمینہ دختر دوست محمد سکنہ اورناچ کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ ان کے ہمراہ ان کے چچا زاد بھائی قمبر ولد لطیف کو بھی جبری طور پر لاپتہ کردیا گیا ہے۔

اہلِ خانہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فورسز کے اہلکار انہیں رات 9 بجے گھر سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان سمیت کراچی سے تین بلوچ خواتین جبری گمشدگی کا نشانہ بنی ہیں، جن میں گزشتہ شب کوئٹہ کے بولان میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے سی ٹی ڈی اور پاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والی میڈیکل طالبہ خدیجہ بلوچ بھی شامل ہیں۔

اسی طرح چار روز قبل پاکستانی فورسز نے کراچی کے بلوچ آبادی والے علاقے نیول کالونی میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر وہاں سے آواران سے تعلق رکھنے والی حسینہ بلوچ کو بھی جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا تھا۔

خدیجہ بلوچ کی جبری گمشدگی اور بولان میڈیکل کالج کے ہاسٹل پر چھاپوں کے خلاف کوئٹہ میں طلبہ و طالبات کا دھرنا تاحال جاری ہے۔

یاد رہے کہ بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران مختلف علاقوں سے درجن کے قریب بلوچ خواتین جبری گمشدگی کا نشانہ بنی ہیں، بعد ازاں چند خواتین کی گرفتاری ظاہر کرتے ہوئے ان پر بلوچ مسلح تنظیموں سے تعلق اور سہولت کاری کے الزامات عائد کیے گئے، جبکہ کئی خواتین تاحال منظرِ عام پر نہیں آ سکیں۔

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ ہونے والی خواتین میں 25 مئی 2025 کو کوئٹہ سے لاپتہ ہونے والی ماہ جبین بلوچ، 22 نومبر کو حب چوکی سے لاپتہ ہونے والی نصرین بلوچ، اور 20 دسمبر کو لاپتہ ہونے والی حیر نثاء شامل ہیں، جو تاحال منظرِ عام پر نہیں آ سکیں۔

اسی طرح پاکستانی فورسز نے خضدار سے یکم دسمبر 2025 کو فرزانہ زہری نامی خاتون کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنانے کے بعد منظرِ عام پر لا کر ان پر مسلح تنظیم سے تعلق کا الزام عائد کیا تھا، جبکہ گزشتہ دنوں دالبندین سے چھ ماہ قبل جبری لاپتہ ہونے والی رحیمہ بی بی کو بھی بلوچ مسلح تنظیموں کا سہولت کار ظاہر کر کے ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی تھی۔

مزید برآں گزشتہ مہینوں میں حب اور خضدار سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والی فاطمہ بلوچ اور حیات بی بی نامی دو بلوچ خواتین بازیاب ہو گئی تھیں۔